سوشل میڈیا ایکٹیوسٹ سرمد سلطان گھر واپس کیسے پہنچے؟

پاکستان میں اسٹیبلشمنٹ کے ناقد سمجھے جانے والے اور سوشل میڈیا پر سرگرم نوجوان محقق سرمد سلطان دو روز تک لاپتہ رہنے کے بعد گھر واپس پہنچ چکے ہیں۔
ٹوئٹر پر جاری ایک ویڈیو پیغام میں ان کا کہنا تھا ‘میں سرمد سلطان آپ کے سامنے خیریت کے ساتھ کھڑا ہوں، جو کچھ میرے ساتھ، میرے چھوٹے بھائی کے ساتھ اور میرے اہل خانہ کے ساتھ ہوا وہ ریاست پر، اس کے اداروں پر ایک لگا ہوا سوالیہ نشان ہے۔’ان کا مزید کہنا تھا ‘یہ سوالیہ نشان ریاست کے اہم ترین ستونوں پر لگا ہوا سوالیہ نشان ہے۔ اس سوالیہ نشان کا جواب کون دے گا؟ میں، آپ، ریاست یا کوئی اور؟ سوچیں!‘
اس سے قبل ان کی اہلیہ نے اس بات کی تصدیق کی تھی کہ سرمد سلطان واپس آ چکے ہیں تاہم انھوں اس بات کی وضاحت نہیں کی کہ ان کو کب اور کیسے لے جایا گیا تھا، اور وہ کیسے واپس پہنچے۔سرمد کا ایک روز پہلے ٹوئٹر اکاؤنٹ بند تھا لیکن اب وہ بھی فعال ہو چکا ہے۔
اس اکاؤنٹ سے ان کی اہلیہ نے ٹویٹ کی کہ ‘30 مارچ کی رات سرمد سلطان پر گھر میں قاتلانہ حملے میں ان کا چھوٹا بھائی سچل سلطان شدید زخمی ہو گیا تاہم اب ان کی حالت خطرے سے باہر ہے. اہلخانہ کے شور مچانے پر قاتل یہ دھمکی دے کر گئے کہ آئندہ سرمد اپنی تحریروں سے باز نہ آیا تو اس کی لاش بھی نہیں ملے گی۔‘اس ٹویٹ کے ساتھ سرمد سلطان کے بھائی سچل سلطان کی تصویر بھی لگائی ہوئی ہے جس میں ان کے سر پر پٹی لپٹی ہوئی ہے۔
پیغام میں مزید لکھا تھا کہ ‘سرمد سلطان اب بخیریت ہیں۔ ہمارا کسی سیاسی یا مذہبی جماعت سے تعلق ہے نہ دشمنی ہے۔ قاتل جلد خدائی انصاف کی زد میں آئیں گے۔ معصوم سچل سلطان کا لہو رائیگاں نہیں جائے گا۔ تمام دوست احباب خاص طور پر مریم نواز اور حامد میر کا شکریہ۔ دعاؤں کی طالب مسز سرمد سلطان۔‘
یاد رہے کہ سرمد سلطان کے لاپتہ ہونے پر حقوقِ انسانی کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ان کی جلد بازیابی کا مطالبہ کیا تھا۔پاکستان کے صوبہ پنجاب کے ضلع اٹک کے رہائشی سرمد سلطان ایم ایس سی ریاضی کے ساتھ ساتھ اردو ادب اور فلسفہ میں ایم اے کر چکے ہیں اور تاریخ پر گہری نظر رکھتے ہیں۔وہ ٹوئٹر پر خاصے سرگرم رہتے ہیں اور زیادہ تر پاکستان کی تاریخ اور دیگر معاملات پر لکھتے ہیں اور اسٹیبلیشمنٹ کو تنقید کا نشانہ بناتے رہے ہیں۔
وہ اکثر ماضی میں ہونے والے واقعات کو آج رونما ہونے والے واقعات سے جوڑ کر لوگوں کو یاد دہانی کراتے اور ان کے تمام تر ٹوئٹس کے نیچے ہیش ٹیگ ’ذرا سوچیے‘ لکھا ہوتا۔
جمعرات کو رات گئے جب سرمد سلطان کا نام ٹوئٹر پر ٹرینڈ کرنا شروع ہوا تو ایک لمحے کے لیے صارفین یہ سوچنے پر مجبور ہوئے کہ شاید اداکار اور ہدایت کار سرمد سلطان کھوسٹ کی کوئی نئی فلم سامنے آئی ہے یا آنے والی ہے۔تاہم پتہ کرنے پر معلوم ہوا کہ سرمد سلطان نامی ایک ٹوئٹر صارف نہ صرف اچانک سے لاپتہ ہو گئے ہیں بلکہ ان کا ٹوئٹر اکاؤنٹ بھی بند کر دیا گیا ہے۔ اس حوالے سے یہ معلومات بھی سامنے آنے لگیں کہ جن دوستوں نے انھیں فون کرنے کی کوشش کی انھیں ان کے دونوں فون بند ملے۔
جب ان کے دوستوں نے ان کے خاندان سے رابطہ کیا تو ان کی اہلیہ نے پہلے بتایا کہ وہ کسی رشتہ دار کی وفات پر تعزیت کے لیے کسی دور دراز علاقے گئے ہوئے ہیں۔ تاہم اس بات پر کالم نگار محمد تقی نے تبصرہ کیا کہ ’یہ کون سا قبائلی علاقہ ہے جہاں فون کا نیٹ ورک نہیں آ رہا؟ اور کچھ نہیں تو کہانی ہی درست کر لیں۔‘اس کے علاوہ ٹوئٹر پر ہونے والے اسی تبصرے کے نیچے لکھا تھا کہ یہ بات پھر بھی سمجھ نہیں آتی کہ اس دوران ان کا ٹوئٹر اکاؤنٹ کیوں بند ہو گیا؟
پاکستان مسلم لیگ نواز کی نائب صدر مریم نواز نے بھی سرمد کی مبینہ گمشدگی پر اپنی رائے کا اظہار کیا۔
سوشل میڈیا پر سرمد سلطان کے تاریخ پر تبصرے اور مباحثے بھی موجود ہیں جہاں وہ یوٹیوب اور دیگر پلیٹ فارمز کے ذریعے پاکستان میں مذہبی انتہا پسندی، مذہبی تعصب اور لسانیت کا تاریخی تناظر میں موازنہ کرتے رہے ہیں۔ہر دوسرے روز ان کے 48 ہزار کے قریب ٹوئٹر فولوورز کو وہ نئی باتیں بتایا کرتے تھے جن کے ذریعے وہ موجودہ نظام پر نکتہ چینی کے ساتھ ساتھ تبصرہ بھی کرتے ہیں۔
ان کے لاپتہ ہونے کے بارے میں سب سے پہلے ایڈووکیٹ علی عبداللہ ہاشمی کے ٹوئٹر اکاؤنٹ سے ٹویٹ کی گئی تھی۔
’بدتمیز‘ نامی ٹوئٹر ہینڈل سے لگاتار 50 سے زیادہ ٹوئٹس کی گئیں جن میں صارف اور سرمد کے دوست نے بتایا کہ ’ان کے دونوں فون اور ٹوئٹر اکاؤنٹ بند ہیں‘ اور انھوں نے اس پر تشویش کا اظہار کیا۔
اسی کے ساتھ ہیش ٹیگ ’برنگ سرمد سلطان بیک‘ ٹرینڈ کرنے لگا اور اب بھی کر رہا ہے۔ اسی بارے میں ایک ٹوئٹر صارف جاوید اقبال نے لکھا کہ ’جو شخص درست تاریخ بتائے اور تاریخ کے تلخ ترین حقائق سے آگاہ کرے اسے اٹھا کر لاپتا کر دیا جاتا ہے۔‘
اس حوالے سے محقق اور صحافی رابعہ محمود نے لکھا کہ سرمد سلطان کے خاندان نے پہلے متضاد بیانات دیے اور پھر خاموش ہو گئے۔
’ایسا کرنا غیر معمولی اس لیے نہیں کیونکہ عام طور پر لاپتا ہونے والوں کے خاندان میں ایسا تاثر پایا جاتا ہے کہ خاموش رہنے سے لاپتا شخص جلدی گھر واپس آ جائیں گے۔‘
ان کے بارے میں جب سماجی کارکن عمار علی جان سے بات کی گئی تو انھوں نے بتایا کہ وہ ذاتی طور پر تو سرمد کو نہیں جانتے لیکن ان کو ’ٹوئٹر کے ذریعے پتا چلا کہ انھیں غائب کر دیا گیا۔‘
بہت سے کالم نگاروں اور صحافیوں نے بھی اس بارے میں ٹویٹ کی۔
کالم نگار عمار مسعود نے بتایا کہ ’میں ذاتی طور پر سرمد کو نہیں جانتا ہوں اور مجھے ان کی گمشدگی کا ٹوئٹر کے ذریعے پتا چلا لیکن اس کے باوجود میں اس پر اس لیے بات کر رہا ہوں کیونکہ کسی بھی تاریخ دان اور بحث کرنے والے کا اچانک سے لاپتا ہونا تشویشناک ہے اور آواز اٹھا کر ہی یہ روایت ختم کی جا سکتی ہے۔‘
صحافی اور اینکر حامد میر نے لکھا کہ ’سرمد سلطان سے آپ اختلاف کر سکتے ہیں لیکن اسے غیر قانونی طریقے سے غائب کرنے کا مطلب یہ ہے کہ آپ کے پاس جواب دینے کے لیے کوئی دلیل نہیں۔۔۔ کل تک وہ ایک آواز تھا آپ نے اسے غائب کر دیا، اب اس کی آواز میں کئی آوازیں شامل ہو گئی ہیں۔ وہ ایک ہیرو بن چکا ہے۔‘
