سوشل میڈیا قوانین آئین سے متصادم، ہائیکورٹ میں درخواست دائر

اسلام آباد ہائی کورٹ میں حکومت کی جانب سے منظور کردہ سوشل میڈیا قوانین کو آئین سے متصادم قرار دیتے ہوئےسوشل میڈیا کو کنٹرول کرنے کے حکومتی اقدام کے خلاف درخواست دائر کردی گئی ہے. یاد رہے کہ وفاقی حکومت نے 28 جنوری کو سوشل میڈیا ریگولیٹ کرنے کے قواعد کی منظوری دی تھی۔
درخواست گزار نے اپنی رٹ پٹیشن میں کابینہ ڈویژن، وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی، وزارت اطلاعات و نشریات، وزارت قانون و انصاف کے سیکریٹریز اور پاکستان ٹیلی کمیونکیشن اتھارٹی کے چیئرمین کو فریق بنایا ہے۔
ایڈووکیٹ احسن ستی کی جانب سے وکیل بیرسٹر جہانگیر خان جدون کے ذریعے دائر کی گئی درخواست میں کہا گیا ہے کہ 1948 میں اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی سے منظور شدہ یونیورسل ڈیکلیریشن آف ہیومن رائٹس کے مطابق ’آزادی اظہار رائے ہر ایک کا حق ہے، اس حق میں بغیر کسی مداخلت کے رائے رکھنے اور سرحدوں سے قطع نظر کسی بھی میڈیا کے ذریعے غیر جانبدار مطلوبہ معلومات کا حصول شامل ہے‘۔ درخواست میں مزید کہا گیا کہ معاشرے میں آزادانہ روابط رکھنے کی آزادی کا معیار معاشرے کی ترقی کے ساتھ جمہوریت اور معاشرے کی مضبوطی پر گہرا اثر رکھتی ہے۔ درخواست کے مطابق سیاسی تناظر میں آزادی اظیار رائے ہر قسم کے سیاسی مسائل پر بات کرنے کے لیے شہریوں کا نا قابلِ تنسیخ حق ہے۔
درخواست میں مزید مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ ’آئین پاکستان شہریوں کو آرٹیکل 19 کے تحت بنیادی آزادی اظہار رائے کی ضمانت دیتا ہے اور صرف ’قانون کے تحت نافذ‘ پابندیوں کی اجازت دیتا ہے۔
درخواست میں دیگر ممالک کے سوشل میڈیا قوانین کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا کہ کسی قابل ذکر جمہوری ملک میں سخت سوشل میڈیا پالیسی نافذ نہیں۔ مزید یہ کہ کسی ملک میں شاید ہی کوئی ایسا جامع قانون موجود ہے جو سوشل میڈیا کے تمام پہلوؤں کو ریگولیٹ کرتا ہو تاہم صنعت میں سرکاری عناصر کے حوالے سے قواعد و ضوابط موجود ہیں۔ درخواست گزار کا مزید کہنا ہے کہ سوشل میڈیا پر قدغن لگانے کی غرض سے 28 جنوری 2020 کو وفاقی کابینہ نے سیٹیزن پروٹیکشن (اگینسٹ آن لائن ہارم) رولز 2020 کی منظوری دی۔ پٹیشن میں کہا گیا ہے کہ سوشل میڈیا کو کنٹرول کرنے کے لیے منظور کردہ قواعد معلومات حاصل کرنے کے بنیادی حق کے خلاف ہیں اور آئین میں شہریوں کی بنیادی حقوق کی دی گئی ضمانت سے بھی متصادم ہیں۔
درخواست گزار کا کہنا تھا کہ ان قواعد میں سوشل میڈیا کمپنیوں کو اپنا دفتر بالخصوص ڈیٹا بیس سرورز پاکستان میں قائم کرنے اور رجسٹر کروانے کی شرط رکھی گئی ہے، ان قواعد کا بنیادی مقصد سوشل میڈیا کو حکومت کے بلاواسطہ کنٹرول کے ذریعے قابو کرنا ہے۔ درخواست میں موقف اختیار کیا گیا کہ یہ قواعد آئین پاکستان، برقی جرائم کی روک تھام کے قانون 2016 اور پاکستان ٹیلی کمیونکیشن (ری آرگنائزیشن) ایکٹ 1996 کے دائرہ اختیار سے باہر ہیں۔
جس کے بعد عدالت سے درخواست کی گئی ہے کہ حکومت کی طرف سے منظور کردہ قوانین آئین کی دفعہ 19،اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے منظور کردہ انٹرنیشنل کنونشن برائے سول اینڈ پولیٹیکل رائٹس اور یورپی کنونشن برائے انسانی حقوق کی دفعہ 10 اور اس کے 5 پروٹوکول کے خلاف ہیں اس لیے انہیں کالعدم قرا دیا جائے۔
یاد رہے کہ وفاقی کابینہ نے نئے سوشل میڈیا رولز کی منظوری دیتے ہوئے تمام عالمی سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کی تین ماہ میں پاکستان میں رجسٹریشن لازمی قرار دیدی تھی۔ یوٹیوب، فیس بک، ٹویٹر اور ٹک ٹاک سمیت تمام کمپنیاں رجسٹریشن کرانے کی پابند اور تین ماہ میں اسلام آباد میں دفتر قائم کرنا لازم ہوگا۔ اس کے علاوہ عالمی سوشل پلیٹ فارمز اور کمپنیوں پر پاکستان میں رابطہ افسر تعینات کرنے کی شرط عائد بھی کر دی گئی تھی۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز اور کمپنیوں کو ایک سال میں پاکستان میں ڈیٹا سرور بنانا ہوں گے۔
مجوزہ قوانین کے تحت قومی اداروں اور ملکی سلامتی کے خلاف بات کرنے والوں کے خلاف کارروائی ہو سکے گی۔ بیرون ملک سے ان اداروں کو آن لائن نشانہ بنانے والوں کے خلاف بھی کارروائی کا اختیار ہوگا۔ سوشل میڈیا کمپنیوں کو ریگولیٹ کرنے کے لیے نیشنل کوآرڈینیشن اتھارٹی بنائی جائے گی۔
تاہم دوسری طرف سوشل میڈیا پلیٹ فارمز نے مشاورت کے بغیر قانون نافذ کرنے پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے سوشل میڈیا قوانین پر نظر ثانی کا مطالبہ کیا تھا اور سروسز بند کرنے کی دھمکی بھی دی تھی.
