سوشل میڈیا قوانین میں آٹھ قانونی سقم، ان کی واپسی کا باعث بنے

وزیراعظم عمران خان کی جانب سے سوشل میڈیا پر پابندیاں لگانے والے قانون کی واپسی کی بنیادی وجہ صرف فیس بک، گوگل اور ٹوئٹر کی اپنی سروسز بند کرنے کی دھمکی ہی نہیں تھی بلکہ حکومتی منظور کردہ قوانین میں وہ آٹھ سنگین آئینی سقم بھی تھے جن کی نشاندہی قانون نافذ کرنے کے بعد ہوئی اور جن کا دفاع کسی بھی عدالت میں ممکن نہیں تھا۔
یاد رہے کہ وزیراعظم عمران خان نے حال ہی میں بنائے گے سوشل میڈیا قوانین کے نفاذ پر وقتی طور پر عمل درآمد معطل کر دیا ہے اور مجوزہ قوانین پر مشاورت کے لیے کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔ ذرائع کے مطابق وزیر اعظم عمران خان کی سربراہی میں وفاقی کابینہ سے پاس کردہ سوشل میڈیا قوانین میں 8 سے زائد سنگین سقم سامنے آئے تھے۔ قانونی ماہرین نے واضح کیا تھا کہ سوشل میڈیا قوانین آئین کے آرٹیکل 10 اے، پی ٹی اے ایکٹ 1996 اور الیکٹرانک جرائم روک تھام ایکٹ 2016 سے متصادم ہیں۔ اگر ان کو کسی بھی عدالت میں چیلنج کیا گیا تو ان قوانین کا دفاع کرنا نا ممکن ہو گا۔ چنانچہ حکومت کو تجویز دی گئی کہ کسی بھی پریشانی سے بچنے کیلئے ان پر عملدرآمد روک دیا جائے تاکہ حکومت کو اس حوالے سے مزید کسی ہزیمت کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
دوسری طرف سینٹ کی خصوصی کمیٹی نے بھی سوشل میڈیا قوانین میں سنگین قانونی خلاف ورزیوں کی تحریری نشاندہی کرتے ہوئے ان پر شدید تحفظات کا اظہار کر چکی ہے۔ اس حوالے سے چیئرمین خصوصی کمیٹی سینیٹر کہدہ بابر کا کہنا ہے کہ پی ٹی اے ایکٹ 1996 اور الیکٹرانک جرائم روک تھام ایکٹ 2016 میں قانون سازی پر عمل درآمد کی زمہ دار وفاقی حکومت ہے جبکہ نئے رولز میں یہ اختیار نیشنل کوارڈینیٹر کو دینا بنیادی قانون سے متصادم نہیں، ٹیلی کمیونیکیشن ایکٹ 1996 کے تحت الیکٹرانک جرائم پر 350 ملین روپے تک کا جرمانہ کیا جا سکتا ہے جبکہ نئے قانون میں یہ جرمانہ 500 ملین روپے کرنا قانون کی سنگین کی خلاف ورزی ہے۔ سینیٹر کہدہ بابر کا مزید کہناہے کہ نئے قانون میں جرمانے کا اختیار پی ٹی اے کی بجائے نیشنل کوارڈینیٹر کو دینا بنیادی قانون سے متصادم ہے۔
اسی طرح نئے قانون میں ملزم کو سننے یا نہ سننے کا اختیار دیا گیا ہے حالانکہ کسی ملزم کو نہ سننا بنیادی انسانی حقوق اور ٹیلی کمیونیکیشن ایکٹ کی خلاف ورزی ہے۔۔ سوشل میڈیا رولز میں سزا کے خلاف اپیل کا فورم ہائیکورٹ ہے، جبکہ پی ٹی اے ایکٹ 1996 کے مطابق یہ فورم ٹربیونل ہے، اب سوال یہ یے کہ کس قانون کے تحت اسکا اپیلٹ فورم ٹربیونل کے بجائے ہائیکورٹ قرار دیا گیا؟ اسی طرح پی ٹی اے کے پاس لائسنسز ریگولیٹ کرنے کا اختیار ہے۔ سینیٹر کہدہ بابر نے سوال اٹھایا ہے کہ اگر سوشل میڈیا کمپنی کا لائسنس ہی نہیں تو پی ٹی اے اسے کیسے ریگولیٹ کرے گا؟ کیا سوشل میڈیا قوانین بنانے سے پہلے پی ٹی اے، وزارت قانون اور ایف آئی اے سمیت دیگر اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کی گئی؟ نئے سوشل میڈیا قوانین کی ڈرافٹنگ انتہائی ناقص انداز میں کی گئی،عمومی طور پر رولز بنیادی قوانین کے تحت بنائے جاتے ہیں،،نئے سوشل میڈیا قوانین میں رولز بنیادی قوانین کے دائرہ کار سے باہر بنائے گئے ہیں۔۔۔ اس لئے قوانین کا نٖفاذ نہ صرف بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے بلکہ آئین کے بنیادی ڈھانچے کے خلاف تشکیل دئیے گئے ہیں اس لئے ان پر فوری عملدرآمد روکا جانا چاہیے۔
یاد رہے کہ حکومت کی جانب سے سوشل میڈیا قوانین متعارف کرانے کے فیصلے کے بعد فیس بک، گوگل اور ٹوئٹر نے پاکستان سے میں سروسز بند کرنے کی دھمکی دے دی ہے۔ اس حوالے سے ایشیائی انٹرنیٹ کولیش گروپ نے مجوزہ سوشل میڈیا ریگولیش کے بارے وزیراعظم عمران خان کو خط لکھ دیا ہے۔ ایشیائی انٹرنیٹ کولیش گروپ نے خط میں کہا ہے پاکستان میں سوشل میڈیا سے متعلق نئے قوانین پرعمل اے آئی سی کیلئے مشکل ہے۔ خط میں کہا گیا ہے کہ پاکستان میں گوگل، فیس بک اور ٹوئیٹر سروس بند ہونے سے 70 ملین صارفین متاثر ہوں گے۔ ان قوانین سےعام صارف اور کاروباری حضرات بھی متاثر ہوں گے۔خط میں کہا گیا ہے کہ نئے قوانین کے تحت پاکستان میں سروسز جاری رکھنا بہت مشکل ہے۔ خیال رہے کہ ایشیائی انٹرنیٹ کولیش گروپ فیس بک، گوگل اور ٹوئٹر ایشیائی انٹرنیٹ کولیش گروپ کا حصہ ہیں۔
