سوشل میڈیا پر ماں، بہن اور بیٹی کو گالیاں دینے والے کون ہیں؟

8 دسمبر کو سوشل میڈیا پر مریم نواز کو ٹرول کرتے ہوئے تحریک انصاف کے حکومتی روبوٹس نے بدزبانی کی تمام حدیں پار کیں تو ردعمل میں نواز لیگ سے تعلق رکھنے والے مریم کے حمایتیوں نے وزیر اعظم عمران خان کی اہلیہ اور خاتون اول بشریٰ بی بی کے بارے میں بھی اسی طرح کی گندی زبان استعمال کرنا شروع کردی۔ اب یہ سلسلہ رکنے کا نام ہی نہیں لے رہا اور دونوں جانب سے گندی گالیوں کا مقابلہ جاری ہے۔ تاہم سوچنے کے بات یہ ہے کہ سیاسی اختلاف کی بنا پر ایک دوسرے کی ماں بہن اور بیٹی کو گندی گالیاں دے کر پاکستانی قوم نے مذید بدنامی کے علاوہ اور کیا حاصل کیا؟
ناقدین کا کہنا ہے سوشل میڈیا پر گالیاں دینے کے ٹرینڈ کا آغاز عمران خان کے ساتھیوں نے تب کیا جب وہ اپوزیشن میں ہوتے تھے اور اقتدار میں آنے کے بعد یہ سلسلہ اور بھی تیز ہو گیا ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ وزیراعظم عمران خان کی طرح ان کی سوسل میڈیا ٹیہم اور ان کے ہمدرد بھی تنقید کا جواب دلیل کی بجائے گالیوں سے دیتے ہیں۔ اب ان کی گالیوں سے تنگ آکر دوسری جماعتوں کے ہمدردوں نے بھی گالی کا جواب گالی سے دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ اب نواز لیگ والے بھی کھلم کھلا سوشل میڈیا پر یہ دھمکی دے رہے ہیں گالی کا جواب گالی سے دیا جائے گا اور اگر ہمارے لیڈر کی ماں بہن یا بیٹی کو گالی دو گے تو تمہارے لیڈر کی ماں بہن اور بیوی کو گالی دی جائے گی۔
ٹوئٹر پر مریم نواز اور خاتون اول بشریٰ بی بی کے خلاف غلیظ ٹرینڈ چلا تو ففتھ جنریشن وار والے بھی ان گالیوں کی ذد میں آئے اور بہت سے صارفین نے پنڈی والوں کو ایسے ٹرینڈ چلانے کا محرک قرار دیا۔ سوال یہ ہے کہ سوشل میڈیا پر سیاسی جماعتوں کے حامیوں کی طرف سے ایک دوسرے کے خلاف گالی گلوچ اور غلاظت سے بھرے ٹرینڈ چلانے کا ذمہ دار اصل مین کون ہے؟ سیاسی جماعتوں کی قیادت ذمہ دار ہے یا انکے نوجوان حامی یا پھر ففتھ جنریشن وار کرنے والے وردی والوں کے تنخواہ دار ملازم؟اس سوال کا جواب دیتے ہوئے سینئر صحافی ابصار عالم موجودہ ڈی جی آئی ایس پی آر کو ٹوئٹر پر ٹیگ کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ آپ سے پہلے دو جرنیل عاصم سلیم اور آصف غفور اپنے ٹرولز کے ذریعے سویلینز پر کیچڑ اچھالنے کا جو غلیظ رواج ڈال گئے ہیں وہ آج بھی جاری ہے۔ یہ گند پھیل کر اب سب کو اپنی لپیٹ میں لے چکا۔ وہ سوال کرتے ہیں کہ کیا حاصل ہوتا اس سب سے؟کیا مائیں، بہنیں سانجھی نہیں ہوتیں؟ ہمیں کہاں رکنا ہے، ذرا سوچئے !
ابصار عالم کے ٹویٹ کے جواب میں صارف حمزہ ارشد لکھتے ہیں کہ ان لوگوں نے رکنے کی اب گنجاش نہیں چھوڑی ۔ پی پی پی اور ن لیگ کو اگلے انتخابات میں ایک نکتے پر مل کر میدان میں آنا ہوگا کہ وہ مل کر حکومت بنائیں گے اور آئینی ترمیم کے ذریعے راج دور کے گندے اداروں کو ختم کریں اور نئے اور جدید ادارے بنائیں اور کوئی حل نہیں۔ ایک اور صارف انجینئر ظہیر مغل نے لکھا کے انصار بھائی یہ عناصر تب رکیں گے جب ان کی ماوں بہنوں کی ننگی تصاویر ایڈیٹ کر کے پبلک کی جائیں۔ گی ۔۔ تب ان کو درد ہو گا کہ بدنامی اور پروپگنڈا کیا ہوتا ہے۔ صارف محمود جان بابر نے لکھا کہ اور کچھ ہو نہ ہو یہ ٹرولز والے معاملے پر تو سب کو کہیں بیٹھ کر بات کرنی چاہئیے۔ بہت ساری عزتیں سر بازار اچھل چکیں۔ پاکستان میں جو بھی ٹرولز کے بادشاہ تھے اب ان کو اپنی ٹرولنگ کا بدلہ ہزار کے ساتھ ضرب کر کے واپس مل جاتا ہے اگر کسی کو سمجھ آئی ہو تو؟
ایک اور ٹویٹر صارف سلطان احمد خان نے لکھا کہ مریم نواز کیخلاف گھٹیا ٹرینڈ شروع کرواکر کچھ لوگ اپنی انا کو تسکین پہنچا رہے ہیں لیکن انہیں یہ معلوم ہونا چاہئے کہ اگر مریم نواز کیخلاف ٹرینڈ چلاوگے تو پھر تمھارے گھر کے عورتوں کیخلاف بھی بہ امر مجبوری ٹرینڈ چلیں گے جو کہ ہونا نہیں چاہئے۔ اس صارف کا واضح طور پر اشارہ خاتون اول وزیراعظم عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی طرف تھا جو کہ تحریک انصاف کی سوشل میڈیا ونگ کی جانب سے مریم نواز کے خلاف گندی گالیوں پر مبنی ٹرینڈ چلانے کے ردعمل میں جوابی ٹرولنگ کا شکار ہوئیں۔
سوشل میڈیا پر جاری گالیوں کا یہ سلسلہ تھمنے کا نام نہیں لے رہا اور 10 دسمبر کو ایک بار پھر فریقین کے حامی اور مخالفین نے ایک دوسرے کونشانے پر رکھ لیا۔ اس گندے ٹرینڈ پر اظہار خیال کرتے ہوئے ایک صارف فراز احمد نے لکھا کہ کیا ہم اسلامی جمہوریہ پاکستان میں رہ رہے ہیں، ایسے ٹرینڈز کسی صورت قابل قبول نہیں ۔ مرزا فیصل شکیل نامی صارف نے لکھا کہ مجھے یہ سب دیکھ کر انتہائی افسوس ہورہا ہے۔ ایک مرد ہونے کے ناطے مجھے افسوس ہوتا ہے کہ کہ میں پاکستانی ہوں۔ بات سائبر کرائمز تک پہنچ گئی ہے۔ سائبر کرائم کنٹرول کرنے کے ذمہ داروں کو جگانے کے لئے ایسے ٹرینڈرز کے خلاف آواز اٹھائیں۔
