سوشل میڈیا پر وزیر اعظم کی ایک اور بونگی کا مذاق بن گیا

وزیراعظم عمران خان کے بارے میں اب یہ تاثر پکا ہو چکا ہے کہ وہ جب بھی کوئی تقریر کرتے ہیں یا انٹرویو دیتے ہیں تو کوئی نہ کوئی ایسی بونگی ضرور مار دیتے ہیں جو سوشل میڈیا پر وائرل ہو کر ٹرینڈنگ میں آ جاتی ہے۔ 22 دسمبر کے روز ایک تقریب سے خطاب کے دوران عمران خان نے یہ دھماکہ خیز انکشاف کیا کہ انہیں اور انکی ٹیم کو چونکہ حکومت چلانے کا تجربہ ہی نہیں تھا اس لیے اقتدار کے پہلے ڈیڈھ برس تو انہیں گورننس کے حوالے سے یہ سمجھ ہی نہ آ سکی کہ ملک کو چلانا کیسے ہے۔ عمران خان نے اعتراف کیا کہ جب وہ اپوزیشن میں تھے تو انہیں حکومت کے معاملات اور طرح نظر آتے تھے لیکن جب وہ اقتدار میں آئے تو ان کے سامنے معاملات کی اصل تصویر آئی۔وزیر اعظم نے کہا ہے کہ کسی بھی حکومت کو تیاری کے بغیر اقتدار میں نہیں آنا چاہیے بلکہ امریکہ کی طرح الیکشن جیتنے والوں کو حکومت سنبھالنے سے پہلے تیاری کے لیے مناسب وقت ملنا چاہیے۔ وفاقی وزارتوں کی کارکردگی کے حوالے سے منعقدہ تقریب میں وزیر اعظم کا مزید کہنا تھا اب سب کو کارکردگی دکھانا ہو گی، اب ہمارے پاس یہ بہانہ نہیں ہے کہ ہم نئے ہیں اور سیکھ رہے ہیں۔
عمران خان نے انتخابات جیتنے کے بعد جلد حکومت مل جانے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ میں جوبائیڈن کو ٹیم بنانے کے لیے ڈھائی مہینے ملے ہیں جب کہ ہم الیکشن کے بعد اپنے نمبر پورے کر رہے تھے۔
وزیراعظم کے مطابق ’ہمیں بھی اس نظام پر نظرثانی کرنی چاہیے اور جب ٹیم بن جائے تب حکومت سنبھالی جائے۔ عمران خان کا کہنا تھا کہ انہیں اور ٹیم کو تین ماہ تو سیکھنے میں لگ گئے، جو چیزیں باہر سے جس طرح نظرآ رہی تھیں حکومت میں آئے تو بالکل مختلف تھیں۔ بقول ان کے ڈیڑھ سال تک تو انہیں اور انکی ٹیم کو اعدادوشمار کا پتہ ہی نہیں چلتا تھا۔
عمران خان نے کچھ اور باتیں بھی کیں لیکن تقریر کے متذکرہ حصے سوشل میڈیا پر آتے ہی وائرل ہو گئے اور مختلف صارفین ان کو شیئر کر کے دلچسپ تبصرے بھی کر رہے ہیں۔ وزیراعظم کی سابق اہلیہ اور صحافی ریحام خان نے عمران خان کی تقریر کا ایک حصہ ٹوئٹر پر شیئر کرتے ہوئے لکھا:
’ آپ کی اطلاع کے لیے عرض ہے کہ پاکستان اور پاکستانی عوام آپ کی تجربہ گاہ نہیں کہ یہاں آ کر آپ سیکھیں۔‘
ان کو جواب دیتے ہوئے محمد وقار نے تبصرہ کیا ’کیوں نہیں ہو سکتی ۔۔۔ پناہ گاہ ۔۔۔ آرام گاہ ۔۔۔ لنگر گاہ اور فلاں فلاح گاہ ہو سکتی ہے تو تجربہ کیوں نہیں بھئی‘۔
مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز نے سکرین شاٹس لگائے اور ساتھ لکھا ’ اس سوغات کو پاکستان پر مسلط کرنے کے لیے چند افراد نے اتنی محنت بھی کی اور بدنامی بھی کمائی؟ دنگ رہ جاتا ہے انسان‘۔
سینئر صحافی طلعت حسین نے تقریر کا ایک حصہ ٹوئٹر پر ڈالا اور تبصرہ کیا ’ بار بار سنئیے۔ شکوہ یہ ہے کہ الیکشن جتوا کر، حکومت بنوا کر، اپوزیشن کو گرا کر بھی کام آدھا کیا گیا۔ اس کے ساتھ حکومت چلانے کی تربیت اور نظام کو سمجھنے کی صلاحیت بھی دینی چاہیے تھی۔ یہ نہ کرنا زیادتی تھی اور آئندہ اس طرح نہیں ہونا چاہئے۔ یاد رہے کے پی میں حکومت کا آٹھواں سال ہے۔‘
عتیق نامی ٹوئٹر صارف نے جواب دیتے ہوئے لکھا: ’طلعت صاحب کچھ تو خوف خدا کیجیے، بغض عمران میں یہ بھی بھول گئے کہ جو بات خان صاحب نے کی وہ مادر جمہوریت برطانیہ میں سینکڑوں سالوں سے نافذالعمل ہے، اسے’شیڈو گورنمنٹ‘ کہتے ہیں جس میں شیڈو وزارتیں ہوتی ہیں جو بعینہ تربیت اور معلومات کی منتقلی ہی کا کام کرتی ہیں۔‘
تاہم اس ٹویٹ کا جواب دیتے ہوئے عباس علی نامی ایک صارف نے لکھا ہے کہ براہ۔کرم سوشل میڈیا پر وزیر اعظم عمران خان کی الیکشن 2018 سے پہلے کی وہ تقریر دیکھیے جس میں وہ دعوی کر رہے ہیں کہ خیبرپختونخوا میں تحریک انصاف کی پانچ سال حکومت چلانے سے انہوں نے جو تجربہ حاصل کیا ہے وہ انہیں وفاقی حکومت چلانے میں کتنی مددگار ثابت ہوگا۔
سوشل میڈیا پر جہاں حکومت کے ناقد وزیر اعظم کی تقریر کے مختلف حصے شیئر کرتے ہوئے طنزیہ تبصرے کر رہے ہیں وہیں عمران خان کی ماضی کی تقریروں کے وہ کلب بھی پوسٹ کیے گئے ہیں جو الیکشن 2018 سے پہلے اور بعد کے ہیں جن میں عمران خان بتا رہے ہیں کہ انہوں نے اقتدار میں آنے سے پہلے ہی حکومت چلانے کی کتنی تیاری کر رکھی ہے۔
