سوشل میڈیا پر پابندیوں کا مقصد برائلر صحافت کا فروغ ہے


حکومت پاکستان کی جانب سے بیگو ایپ پر پابندی لگائے جانے اور پب جی، ٹک ٹاک اور یو ٹیوب کو بھی قابل اعتراض مواد کی آڑ میں بند کرنے کی کوششوں کے پیش نظر ناقدین یہ الزام عائد کر رہے ہیں کہ کپتان حکومت دراصل برائلر صحافت کو فروغ دینا چاہتی ہے تا کہ برائلر صحافی حکومت کی مرضی کا دانہ چگیں اور اس کی مرضی اور سائز کے انڈے دیں۔
اب جبکہ سپریم کورٹ نے بھی یوٹیوب کو بند کرنے کا عندیہ دیا ہے تو اس بحث نے مزید زور پکڑ لیا ہے۔ حالیہ سالوں میں پاکستان سمیت دنیا بھر میں بہت ساری تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں، جن میں سے ایک اہم ترین تبدیلی اظہارِ رائے کے حوالے سے دیکھنے کو مل رہی ہے۔ برائلر وزیراعظم عمران خان کو اقتدار سونپنے کے بعد سے انکی ریموٹ کنٹرولڈ حکومت مین سٹریم اور سوشل میڈیا دونوں کو کنٹرول کرنے کی کوشش میں مصروف ہے اور تنقید کی آزادی تیزی سے سلب کی جارہی ہے تاکہ برائلر صحافت کو فروغ دیا جاسکے۔ وزیراعظم عمران خان نہ صرف کٹوں اور مرغیوں کے ذریعے ملکی معیشت کو ٹھیک کرنا چاہتے ہیں بلکہ وہ برائلر صحافیوں کے ذریعے درباری صحافت کو فروغ دینے کے بھی شدت سے خواہاں ہیں تاکہ انہیں صرف مدح سرائی سنائی دے اور کوئی تنقیدی آواز ان کے کانوں میں نہ پڑے۔ جنگ اور جیو کے مالک میر شکیل الرحمان کو پابند سلاسل کر کے حکومت نے مین سٹریم میڈیا کو کافی حد تک نکیل ڈالی ہے لیکن سوشل میڈیا پر حکومت مخالف بیانیے کو قابو کرنے کی کوششیں کوئی زیادہ بارآور نہیں ہوئیں کیونکہ اگر کوئی خبر ٹی وی چینل یا اخبار میں روک فی جاتی ہے تو وہ سماجی رابطوں کی ویب سائٹس کے ذریعے عوام تک پہنچ جاتی ہے، لہذا اب حکومت سوشل میڈیا کا گلا گھونٹنے کے لیے ایک بڑا حملہ کرنے کی تیاری کر رہی ہے۔
وطنِ عزیز میں میڈیا کی ترقی کا سفر 2 دہائیوں پر محیط ہے۔ اخبار کی جگہ جب ٹی وی چینلز نے لی تو ہر ادارے نے اپنی بساط کے مطابق پُرکشش تنخواہوں اور مراعات پر پیشہ ور افراد اکٹھے کیے۔ پھر مسابقت کی دوڑ میں تفتیشی خبریں ڈھونڈ نکالنے والے صحافیوں کی مانگ بڑھ گئی۔ یہاں تک کہ ریٹینگ کے چکر میں پروگرام کے درمیان گرما گرما بحث یا لڑائی کرنے والے اینکروں کی چاندی ہوگئی۔ یقیناً مالی اجر کے لالچ میں کچھ غلطیاں بھی ہوئی ہوں گی، عزتیں بھی اچھلی ہوں گی لیکن جب احتساب شروع ہوا تو معاشرے میں سدھار بھی آیا۔ قوتِ برداشت میں اضافہ ہوا تو ملک میں ہم آہنگی بھی بڑھی۔ کیا سیاستدان اور کیا ادارے، تنقید پر کوئی خفا نہیں ہوتا تھا، بلکہ بڑے تحمل سے اپنا مؤقف پیش کیا جاتا تھا۔
معاشرے نے میڈیا کو اتنی طاقت دی کہ اس نے نہ صرف مسائل اجاگر کرکے ملکی ترقی میں اہم کردار ادا کیا بلکہ پاکستان کا کیس بین الاقوامی فورمز پر بڑی جانفشانی سے لڑا، لیکن پھر 2018 کے الیکشن کے بعد ریاستی اور حکومتی برداشت میں کمی آتی چلی گئی اور صورتحال یہ ہوئی کہ جس نے مخالف لفظ منہ سے نکالا اس پر کفر کا فتوی لگ گیا، جس نے سوال اٹھایا اسے ملک کی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دے دیا اور یوں آزاد میڈیا بھی غلام بننے لگا۔
سیاست کی اپنی ایک زبان ہوتی ہے۔ اقتدار کے لیے آسمان سے تارے توڑ کر لائے جانے کے وعدے کیے جاتے ہیں۔ دیوتا تخلیق کیے جاتے ہیں۔ لیکن اقتدار میں آنے کے بعد جب دیوتا کے عیوب ظاہر ہونا شروع ہوئے تو پھر اسی دیوتا نے جو اپوزیشن میں بیٹھ کر میڈیا کو اپنی تخلیق کی وجہ قرار دیتا تھا اسی میڈیا کو دفن کرنے کا فیصلہ کیا۔ چنانچہ ملک کے سب سے بڑے میڈیا گروپ کے مالک میر شکیل الرحمان کو نشان عبرت بنانے کا فیصلہ کیا گیا تھا کہ چھوٹے ادارے بھی تنقید کی جرات نہ کریں۔ مین سٹریم میڈیا سے نمٹنے کے بعد اب کپتان کی برائلر حکومت سوشل میڈیا پر پابندیاں عائد کرنے کی کا سوچ رہی ہے۔
تاہم حکومت وقت نے یہ نہیں سوچا کہ جب کسی زرعی ملک میں عین سیزن کے وقت گندم 1400 روپے سے اچانک 2100 روپے من پہنچ جائے اور چینی 60 روپے سے 90 روپے فی کلو تک پہنچ جائے اور پیٹرول ایک دن میں 25 روپے مہنگا ہوجائے تو بے روزگار عوام کی چیخیں تو نکلیں گی۔ جب ہر طرف اقربا پروری ہو، ہر طرف مصلحتیں ہوں۔ اپنوں اور بیگانوں کے لیے دوہرے معیار اور دوہرے نظام ہوں تو بے چینی تو پھیلے گی۔ پھر جب اس ساری صورتحال کا عکس میڈیا رپورٹس میں نظر آیا تو ناعاقبت اندیش منیجرز نے اپنی غلطیوں پر نظر ثانی کرنے یا اس کی تصحیح کے بجائے سارا الزام یہ سمجھے بغیر میڈیا پر ڈال دیا۔
لگتا ہے کہ کپتان حکومت نے یہ فیصلہ کر ہی لیا ہے کہ ملک کے تمام مسائل کا حل میڈیا اور صحافیوں کی آواز دبانے میں ہے اور آزاد میڈیا ملکی مفاد میں نہیں ہے، ماضی کی حکومتوں پر تنقید کرنے والے جن صحافیوں کو کپتان ٹائیگر کہہ کر بلاتا تھا اب ان کے ساتھ جانوروں والا سلوک کیا جارہا ہے۔ لیکن ان کو یاد رکھنا چاہیے کہ انکی برائلر حکومت کسی صحافی کو جبراً نوکری سے تو فارغ کرواسکتی یے، لیکن اس کو سچ بولنے سے نہیں روک سکتی۔
اپنے قلم کوعوام کی امانت سمجھ کر حق اور سچ لکھنے والا اور بولنے والا صحافی بھوکا رہے گا، مار کھائے گا لیکن سچ سے نہیں ہٹے گا۔ قلم سے جہاد کرنے والے باضمیر صحافی نہ لینڈ کروزر مانگتے ہیں نہ پلاٹ، انہیں صرف سچ بولنے اور سچ کہنے کی آزادی چاہیے۔ لہذا کپتان کو سمجھ لینا چاہیے کہ ان کے کٹوں اور مرغیوں کے ہوائی منصوبوں کی طرح برائلر صحافت کو فروغ دینے اور برائلر صحافی پیدا کرنے کا منصوبہ بھی بری طرح ناکامی سے دوچار ہوگا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button