سوشل میڈیا پر کون سی چھنو ٹرینڈ کر رہی ہے؟

گلوکار علی ظفر کا گایا ہوا گانا چھنو کی آنکھ میں ایک نشہ ہے ماضی میں نوجوانوں میں بہت مقبول رہا ہے لیکن علی ظفر کی ایک مداح کی طرف سے گانے پر لپسنگ کرتے ہوئے بنائی گئی ویڈیو نے ایک مرتبہ پھر سوشل میڈیا پر چھنو کا تذکرہ چھیڑ دیا۔ سوشل میڈیا صارفین جہاں چھنو کی خصوصیات کا تذکرہ کرتے نظر آئے وہیں کچھ افراد نے تاحال چھنو کے حصول میں ناکامی کا تذکرہ بھی کیا۔
https://twitter.com/its_hinaat/status/1288053113413410816
موسیقی کو پسند کرنے والوں کو شاید علی ظفر کا گانا ’چھنو‘ یاد ہو یا نہ یاد ہو البتہ گلوکار کی ایک حالیہ سوشل میڈیا سرگرمی نے ’آنکھ میں نشہ‘ رکھنے والی چھنو کا ذکر تازہ کر دیا۔ ایک ٹوئٹر صارف حنا نے پاکستانی گلوکار علی ظفر کے گانے ’چھنو‘ پر لپسنگ کرتے ہوئے بنائی گئی مختصر ویڈیو ٹویٹ کی اور ایسا کرتے ہوئے علی ظفر کو مینشن کیا تھا۔ حنا کی ٹویٹ کو اپنے تبصرے کے ساتھ ری ٹویٹ کرتے ہوئے علی ظفر نے اس پر سوال کی صورت میں لکھا کہ ’کیا چھنو مل گئی؟‘ تو جواب میں ٹوئٹر یوزرز کی خاصی تعداد تصوراتی اور دکھائی دینے والی چھنو کے فرق سمیت دیگر پہلوؤں پر گفتگو کرتے دکھائی دیے۔
بینش صدیقی نے قہقہے بکھیرتے سمائلیز کے ساتھ کیے گئے تبصرے میں لکھا کہ ’کاش نہ ملتی، ہماری تصوراتی چھنو زیادہ پیاری تھی‘۔
سوشل میڈیا صارف فاران حسن کو گانے والی چھنو کے چہرے پر تِل کے نشان کی تلاش ہوئی اور ویڈیو میں دکھائی نہ دیا تو انہوں نے لکھا کہ ‘یہ وہ چھنو نہیں ہیں‘۔
سدرہ ثنا نے اپنے محلے میں ایک چھنو کی موجودگی کی اطلاع دی تو ایک اور صارف نے انہیں اپنے پاس رکھیں کا فوری مشورہ دے ڈالا۔
سوشل میڈیا پر فعال ترین پاکستانی سلیبریٹیز میں شمار کیے جانے والے علی ظفر مختلف سماجی، سیاسی موضوعات اور حالات حاضرہ پر تبصروں کی سرگرمی بھی جاری رکھتے ہیں۔ شاید یہی وجہ تھی کہ ’چھنو مل گئی‘ کے سوال پر مشتمل ری ٹویٹ پر تبصرہ کرنے والے اپنے اپنے مسائل کا ذکر کر کے ان سے ساتھ دینے کی توقع کرتے رہے۔
احتشام نامی ایک صارف نے علی ظفر سے پوچھا کہ ’پب جی کے لیے بھائی کب حاضر ہو رہے ہیں؟یاد رہے کہ پاکستان میں پرتشدد مناظر اور ٹاسکس پر مشتمل گیمنگ ایپ پب جی کو پابندی کا سامنا ہے۔
واضح رہے کہ حالیہ بحث کی وجہ بننے والا علی ظفر کا گانا ’چھنو‘ 2019 میں ریلیز کیا گیا تھا۔ 40 سالہ علی ظفر اپنی گلوکاری اور اداکاری کی وجہ سے پاکستان کے ساتھ ساتھ انڈیا میں بھی یکساں مقبولیت رکھتے ہیں۔ 2010 میں طنزیہ اور مزاحیہ فلم تیرے بن لادن سے بالی وڈ ڈیبیو کرنے کے بعد علی ظفر نے کترینہ کیف کے مقابل ’میرے برادر کی دلہن‘ سمیت نصف درجن سے زائد فلموں میں مختلف انداز میں کام کیا ہے۔
