سوشل میڈیا کمپنیوں کا حکومتی کمیٹی کے بائیکاٹ کا اعلان

فیس بک، ٹوئٹر اور یو ٹیوب سمیت پاکستان میں کام کرنے والی درجنوں سوشل میڈیا کمپنیوں نے حکومت پاکستان کو متنبہ کیا ہے کہ حکومت کی جانب سے حال ہی میں نافذ کردہ سوشل میڈیا قوانین واپس لیے بغیر ان پر مشاورت کے لیے حکومتی کمیٹی کا قیام بظاہر صرف ان قوانین پر تنقید روکنے کا وقتی حربہ ہے جبکہ کابینہ سے منظور شدہ متنازعہ قواعد وہیں کے وہیں موجود ہیں۔ چنانچہ بین الاقوامی سوشل میڈیا کمپنیوں نے اعلان کیا ہے کہ ان قوانین کو واپس لیے بغیر وہ حکومت کی کسی بھی کمیٹی کے ساتھ کوئی مشاورتی عمل شروع نہیں کریں گی۔
پاکستان حکومت کی جانب سے نئے منظور شدہ سوشل میڈیا قواعد پر مشاورت کے لیے ایک کمیٹی کے قیام کے بعد عالمی سوشل میڈیا کمپنیوں کے علاوہ پاکستان کی ایک سو سے زائد سماجی، صحافتی اور انسانی حقوق کی تنظیمیوں نے بھی سوشل میڈیا قواعد کو فوری طور پر واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے تاکہ حکومتی کمیٹی کے ساتھ مشاورت کا آغاز ممکن ہوسکے۔
دوسری طرف وفاقی وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی کے سیکرٹری شعیب صدیقی کا کہنا ہے کہ فی الحال سوشل میڈیا قواعد پر عمل درآمد نہیں ہو رہا کیونکہ مشاورت کے لیے قائم کی گئی کمیٹی دو ماہ تک تمام سوشل میڈیا کمپنیوں اور دیگر سٹیک ہولڈرز سے مشاورت کے بعد رپورٹ بنائے گی جس کے بعد معاملات آگے بڑھائے جائیں گے اس لیے حکومتی کمیٹی کے ساتھ مشاورت عمل کے بائیکاٹ کی کوئی تک سمجھ نہیں آتی۔ دوسری طرف ان قوانین کے ناقدین کا کہنا ہے کہ حکومت کی کوشش ہے کہ جو قواعد حکومت نے بنا دئیے ہیں وہ ان ہی میں ترمیم کروا کر انہیں قابل قبول بنوانا چاہتی ہے جو کہ ممکن نہیں ہے۔
یاد رہے کہ گذشتہ ماہ حکومت نے سوشل میڈیا ریگولیٹ کرنے کے لیے نئے قواعد کی منظوری دی تھی جس کے تحت فیس بک، ٹوئٹر، گوگل اور دیگر کمپنیوں سے کہا گیا تھا کہ تین ماہ کے اندر پاکستان میں اپنے دفاتر قائم کریں اور پاکستانی صارفین کے سوشل میڈیا کے استعمال کے حوالے سے حکومتی ہدایات پر عمل درآمد کریں۔ حکومت نے کمپنیوں کو صارفین کا مطلوبہ ڈیٹا حکومت کے ساتھ شیئر کرنے کا بھی کہا تھا۔
ان قواعد پر سوشل میڈیا کمپنوں نے ایک مشترکہ بیان میں سخت تنقید کرتے ہوئے پاکستان میں اپنی خدمات ختم کرنے کی دھمکی دی تھی جس کے بعد وزیراعظم نے معاملے کا نوٹس لیا تھا اور حکومت کی جانب سے 28 فروری کو چیئرمین پی ٹی اے کی  سربراہی میں ایک کمیٹی قائم کی گئی تھی جسےتمام سٹیک ہولڈرز کے ساتھ مشاورت کر کے ان قواعد کا دوبارہ جائزہ لینے کا ٹاسک سونپا گیا تھا.
تاہم بین الاقوامی سوشل میڈیا کمپنیوں کے علاوہ ایک سو سے زائد دیگر پاکستانی تنظیموں نے واضح کیا ہے کہ حکومت کی جانب سے قواعد واپس لیے بغیر مشاورت کے لیے قائم کی گئی کمیٹی سے کوئی بات چیت نہیں ہوگی۔ جن پاکستانی تنظیموں نے یہ موقف اختیار کیا ہے ان میں پاکستان بار کونسل، انسانی حقوق کمیشن آف پاکستان، پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس، آل پاکستان ٹریڈ یونین فیڈریشن، عوامی ورکرز پارٹی، بولو بھی ، ڈیجیٹل رائٹس فاونڈیشن، ارادہ اور پاکستان پریس فاونڈیشن کے علاوہ نامور صحافی اور سیاستدان شامل ہیں۔
ان تنظیموں اور افراد کا یہ بھی کہنا ہے کہ حکومت جان بوجھ کر ان قواعد کی قانونی حیثیت پر عوام کو ابہام میں رکھ رہی ہے اور جب تک یہ قواعد موجود ہیں مشاورت کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔ ان تنظیموں نے فیس بک، ٹوئٹر، یو ٹیوب، گوگل اور دیگر ٹیکنالوجی کمپنیوں سے بھی مطالبہ کیا ہے کہ وہ حکومت پاکستان کے ساتھ اپنی مشاورت کی ’ٹرمز آف انگیجمنٹ‘ کو بھی عوام کے ساتھ شیئر کریں کیونکہ اکثر کمپنیوں اور حکومتوں کے درمیان طے پانے والے معاہدوں میں اصل نقصان عوام کا ہوتا ہے۔
سوشل میڈیا قوانین کے ناقدین نے حکومت پاکستان سے یہ مطالبہ بھی کیاہے کہ سائبر کرائم کے قانون کی شق 37 کو ختم کیا جائے کیونکہ اسی شق کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ایسا قانون بنایا گیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ کابینہ سے منظور شدہ قواعد وزیراعظم کے نوٹس لینے سے ختم نہیں ہو جاتے۔ یہ ابھی بھی اپنی جگہ موجود ہیں اور ان کی بنیاد پر حکومت چاہے تو کسی کے خلاف کبھی بھی کوئی بھی کارروائی کر سکتی ہے۔ اس لیے مشاورت کے لیے کمیٹی کے قیام کے باوجود عوام کے حقوق بدستور خطرے میں ہیں۔ لہذا ضروری ہے کہ حکومت ان قواعد کو فوری طور پر معطل کرنے کا اعلان کرے۔
دوسری طرف وفاقی وزارت انفارمیشن اینڈ ٹیکنالوجی کے سیکرٹری شعیب صدیقی کا کہنا تھا کہ سوشل میڈیا کمپنیوں اور سول سوسائٹی کے اعتراض کے بعد حکومت کی جانب سے ایک کمیٹی پہلے ہی بنا دی گئی ہے جو دو ماہ میں کمپنیوں اور دیگر تمام سٹیک ہولڈرز سے مشاورت کر کے ان قواعد کے حوالے سے اپنی سفارشات مرتب کرے گی۔ ان سے پوچھا گیا کہ اس وقت کیا یہ قواعد معطل ہیں یا پھر ان پر عمل درآمد روک دیا گیا ہے تو سیکرٹری آئی ٹی کا کہنا تھا کہ ’ان قواعد پر عمل درآمد کے لیے کچھ بنیادی اقدامات ضروری ہیں اور یہ اقدامات ابھی نہیں اُٹھائے گئے اور ابھی حکومت مشاورتی کمیٹی کی سفارشات کا انتظار کر رہی ہے’۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button