سول ایوی ایشن کو 2 اداروں میں تقسیم کرنے کی کوشش

سول ایوی ایشن اتھارٹی (سی اے اے) کو دو ریگولیٹری اور آپریشنل اداروں میں تقسیم کرنے کے لیے کابینہ کی خصوصی کمیٹی کا اجلاس 29 جولائی (بدھ) کو ہوگا۔
وزیراعظم کے مشیر تجارت عبدالرزاق داؤد کی سربراہی میں کابینہ کمیٹی سی اے اے کو پاکستان سول ایوی ایشن ریگولیٹری اتھارٹی اور پاکستان ایئرپورٹ اتھارٹی میں تقسیم کرنے کےلیے سی اے اے کے تنظیمی ڈھانچے کا جائزہ لے گی۔ اس حوالے سے اعلیٰ سطح کے ذرائع نے بتایا کہ حکومت مختلف مرحلوں میں ملک کے مختلف ایئرپورٹس کو ٹھیکے پر دینے کا ارادہ رکھتی ہے۔ اس ضمن میں پہلے مرحلے میں سرمایہ کاروں کو راغب کرنے کےلیے کارپوریٹائزیشن کی جائے گی اور دوسرے مرحلے میں نجاری کمیشن کو شامل کر کے اور مشاور خزانہ اور سرمایہ کار بینکنگ کمپنیوں کو تعینات کر کے اس منتقلی کو مکمل کیا جائے گا۔
حکومت نے سی اے اے کو دو حصوں میں تقسیم کرنے کا فیصلہ آپریشنز کی حساسیت اور اسٹریٹیجی اثاثوں یعنی فضائی حدود کی وجہ سے کیا، اس لیے ایک ادارہ ریگولیٹر کے فرائض سر انجام دے گا جبکہ دوسرا ایئرپورٹس کے انتظامات سنبھالے گا۔ اس سلسلے میں 29 جولائی کو کابینہ کمیٹی کا یہ 5واں اجلاس ہوگا جس کے بعد سی اے اے بورڈ کا اجلاس بھی منعقد کیا جائے گا۔ اس سے قبل ہونے والے ایک اجلاس میں وزارت دفاع اور پاکستان ایئرفورس کی جانب سے مشترکہ فضائی حدود کے انتظام کےلیے علیحدہ انفرااسٹرکچر پر خدشات کا اظہار کیا گیا تھا اور ان کی رائے یہ تھی کہ یہ قومی سلامتی کے مفاد میں مناسب نہیں ہے۔
تاہم سی اے اے کی جانب سے اس سلسلے میں تیار کیے گئے مجوزہ قوانین کا جائزہ لینے کے بعد وزارت دفاع نے تجویز دی تھی کہ ایئرپورٹس کے صرف کمرشل آپریشنز کو ٹھیکے پر دیے جانے چاہیئے اور سکیورٹی اور فلائٹ آپریشن کے معاملات ریاست کے زیر نگرانی ہی رہنے چاہیئے۔ وزارت دفاع کی جانب سے مجوزہ قانون میں ایک اور شق شامل کرنے کی بھی تجویز دی گئی جس کے تحت دفاعی فورسز جنگ کی صورت میں ایئرپورٹ کا انتظام سنبھال سکیں، اس کے علاوہ جن کمپنیوں کو ایئرپورٹس کے آپریشنز ٹھیکے پر دیے جائیں ان کےلیے آئی ایس آئی سے سکیورٹی کلیئرنس حاصل کرنے کی شرط رکھی جائے۔
ذرائع کا کہنا تھا کہ اس وقت سی اے اے ایئرپورٹس اور فضائی نقل و حرکت کی نگرانی کرتی ہے جس میں 44 ایئرپورٹس کا انتظام اور ملک کی فضائی حدود میں تمام جہازوں کی پرواز کی نگرانی شامل ہے۔ سی اے اے کو 2 اداروں میں تقسیم کرنے کا فیصلہ کابینہ کمیٹی کے اجلاس میں اس حقیقت کو مدِ نظر رکھتے ہوئے کیا گیا کہ ملک میں صرف 6 ایئرپورٹس منافع بخش ہیں۔ اس ضمن میں قانون سازی کے 2 مسودے تیار ہیں جس میں سے ایک کا مقصد سی اے اے آرڈیننس 1960 کو تبدیل کرنا اور دوسرا ایئرپورٹ کمپنی کے قیام کو یقینی بنانے کےلیے سی اے اے آرڈیننس 1982 میں ترامیم سے متعلق ہے۔
اس قانون کے تحت حکومت کمپنی کے شیئرز نجی شعبے کو منتقل کرسکے گی اور اسی شرائط و ضوابط پر سی اے اے کے ملازمین کو کمپنی کو منتقل کیا جاسکے گا۔
