سونیا حسین عرف پاکستانی پریانکا کا عشق بھی ناکام ہوگیا

اپنے معصومانہ انداز سے جاندار اداکاری کرنے والی خوبصورت اداکارہ سونیا حسین عرف پریانکا چوپڑا نے انکشاف کیا ہے کہ انکو کسی سے عشق ہوا تھا لیکن ناکام ہو گیا۔ اپنے ایک انٹرویو میں ناکام عشق کی وجہ بتاتے ہوئے سونیا حسین نے کہا کہ وہ سمجھتی ہیں کہ ایک دوسرے کو چاہنے کا رشتہ شادی سے زیادہ اہمیت کا حامل ہوتا ہے خصوصا جب آپ کو لگے کہ کوئی تو ہے جو آپ کے ساتھ کھڑا ہے۔ یہ احساس بہت اچھا لگتا ہے۔ میرا بھی ایک ایسا رشتہ بن چکا تھا، ہم ایک دوسرے کو بہت پسند کرتے تھے لیکن پھر وہ رشتہ ختم ہوگیا۔ سونیا حسین کا ماننا ہے کہ کسی کے دل میں چاہتوں اور رشتوں کی اتنی بھیڑ ہو کہ آپ کو اس سے نکال دیے جانے کا خدشہ ہو تو بہتر یہی ہوتا ہے کہ آپ خود ہی ایسے دل سے نکل جائیں۔ میں نے بھی اپنے پیار کے ساتھ ایسا ہی کیا کیوں کہ کسی بھی رشتے میں دولت سے کہیں زیادہ وفاداری ذیادہ اہمیت کی حامل ہوتی ہے۔ اگر رشتے میں وفا نہ ہو تو پھر تعلق برقرار رکھنے کا کوئی جواز ہی نہیں رہتا۔

سونیا کا کہنا ہے کہ میں زندگی کو زندہ دلی کے ساتھ جینے اور زندگی کا ہر ذائقہ چھکنے پر یقین رکھتی ہیں۔ خواتین کیلئے برابری کے حقوق مانگنے کے باوجود سونیا حسین اپنا کھانا خود گرم کرو کے نعروں سے اتفاق نہیں کرتیں۔ وہ۔اپنی والدہ کو اپنا رول ماڈل اور فیملی کو اپنی پہلی ترجیح قرار دیتی ہیں۔ سونیا کو اپنا موازنہ انڈین اداکارہ پریانکا چوپڑا سے کرنا اچھا لگتا ہے۔ وہ پاکستانی فلموں کو فیلنگ لیس قرار دیتے ہوئے کہتی ہیں کہ چھوٹی اور بڑی سکرین پر کام کرنے کا بہت فرق ہے۔ ڈراموں میں کہانیوں کو فلٹر لگا کر پیش کیا جاتا ہے جبکہ فلموں میں آپ کے پاس پوری آزادی ہوتی ہے کہ آپ ٹھیک طریقے سے ہر چیز دکھا سکیں لیکن ہماری فلمیں دیکھ کر نہ تو رونا آتا ہے اور نہ ہی ہنسنا آتا ہے۔
سونیا کہتی ہیں کہ پاکستانی ڈائریکٹر فلم میکنگ کے حوالے سے کنفوژن کا شکار ہیں۔ انکا کہنا ہے کہ میں نے ‘مور’ اور ‘آزادی’ جیسی فلمیں کیں، دونوں ایک دوسرے سے مختلف اور ہٹ کر تھیں۔ لہکن ہمارے ہاں کرداروں پر ہوم ورک نہیں کیا جاتا۔ سونیا حس مزاح کو اپنی شخصیت کا اہم پہلو قرار دیتی ہیں۔ ان کے بقول میں نے کامیڈی زیادہ نہیں کی لیکن چند ایک کامیڈی کردار کیے ہیں جنہیں لوگوں نے سراہا ضرور ہے لیکن ایسا لگتا ہے کہ مجھے سنجیدہ کرداروں میں زیادہ پسند کیا جاتا ہے۔
سونیا حسین کے مطابق ڈرامہ سیریل ‘عشق زہے نصیب’ میں انھیں توقعات سے بڑھ کر پذیرائی ملی۔ ڈرامہ سیریل ‘گڑیا’ کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ ‘اس کی کہانی بنیادی طور پر بچوں کے ساتھ ہونے والی بدفعلی پر مبنی تھی، میں سمجھتی ہوں کہ ہمیں اپنے بچوں کو ایجوکیٹ کرنا چاہیے، انہیں بچپن سے ہی بتانا چاہیے کہ کیا غلط ہے کیا ٹھیک ہے۔ اس ڈرامے میں میرا کردار ایک ایسی لڑکی کا تھا جو بچوں کے ساتھ بدفعلی کے جرم کی وجہ سے اپنے شوہر کے خلاف لڑتی ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ میں خوش ہوں کہ ہم اس ڈرامے کے ذریعے جو پیغام دینا چاہتے تھے وہ لوگوں تک پہنچانے میں کامیاب رہے۔’
سونیا حسین کا ماننا ہے کہ پاکستان میں فیمنزم کا دور شروع تو ہو گیا ہے لیکن ابھی بھی خواتین کو وہ آزادی حاصل نہیں ہے جو مغربی معاشرے میں خواتین کو ملتی ہے۔ کچھ خواتین اپنے حقوق حاصل کرنے کے لیے نکلتی ہیں جو اچھی بات ہے لیکن ‘اپنا کھانا خود گرم کرو’ جیسے نعرے خواتین کے حقوق کی جدوجہد کو سبوتاژ کرتے ہیں۔ سونیا کہتی ہیں کہ ‘خواتین کے حقوق کے لیے لڑنے اور فیمنزم کا مطلب میرے حساب سے یہ ہے کہ خواتین کو بھی برابری ملنی چاہیے، یہ نہیں کہ ہم مردوں کو احساس دلائیں کہ تم تو کچھ ہو ہی نہیں۔’ انکا کہنا ہے کہ ڈرامہ سیریل ‘میرے پاس تم ہو’ بہت اچھی کہانی تھی، اس میں جو عورت کا کردار ہے ایسا ہوتا بھی ہے لیکن مجھے ایسے کردار آفر ہوتے ہیں تو میں منع کر دیتی ہوں کیونکہ اگر معاشرے میں ایسا کچھ ہو بھی رہا ہے تو ہم کیوں دکھائیں، لوگ جب دیکھتے ہیں تو سوچتے ہیں کہ اچھا ایسی عورتیں بھی ہوتی ہیں، لہذا میں ایسی چیزوں کو پرموٹ نہیں کرنا چاہتی۔’
ایک سوال کے جواب میں سونیا حسین کا کہنا تھا کہ ‘میں بنیادی طور پر لڑکا ٹائپ پر بہت ہی حساس لڑکی ہوں، بہت بار ایسا ہوا کہ جذباتی سین کرتے ہوئے سچ میں رو پڑی۔ سونیا حسین نہ صرف بالی وڈ کلاسیکل ڈانس اچھا کر لیتی ہیں بلکہ انھوں نے ثالثا بیلے ڈانس بھی سیکھ رکھا ہے تاہم وہ روایتی بالی ووڈ ڈانس کو ناپسند کرتی ہیں۔ سونیا اپنے ڈرامے شوق سے دیکھتی ہیں اور اپنے ابو کو اپنا سب سے بڑا ناقد مانتی ہیں۔ سونیا تاحال کوئی بھی ایوارڈ نہ ملنے کے باوجود مطمئن دکھائی دیتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ مجھے اگر ایوارڈ نہیں ملتا تو میں ٹینشن نہیں لیتی، صرف وہ چیزیں کرتی ہوں جو میرے دل کو سکون دے رہی ہوتی ہیں، کام کرتی ہوں بس گھر آجاتی ہوں، ‘
سونیا کہتی ہیں کہ ان کی عروہ حسین کے علاوہ کبھی کسی سے منہ ماری نہیں ہوئی تاہم عروہ حسین سے جھگڑے کے بعد مجھے احساس ہوا کہ وہ ذمہ داریوں کے بوجھ میں پریشر لے لیتی ہے تو میں نے اس سے صلح کر لی۔ سونیا شادی کو گڈی گڈے کا کھیل سمجھنے کی بجائے زندگی کا اہم فیصلہ قرار دیتی ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ سب سے پہلے تو پڑھائی کرنی چاہیے اس کے بعد اگر آپ کو لگتا ہے کہ آپ کو شادی کرکے گھر بسانا ہے، اپنی نسل بڑھانی ہے تو بہت اچھی بات ہے لیکن پھر آپ کو اس کے لیے ذہنی طور پر تیار ہونا چاہیے۔ اگر آپ ذہنی طور پر تیار ہیں تو شادی کریں ورنہ کسی اور کی زندگی برباد نہ کریں۔’
