سوچی ہیرو سے زیرو کیسے بنی: کپتان کے لئے ایک سبق؟

تیسری دنیا کی سیاسی قیادت کا بڑا المیہ یہ ہے کہ یہ عوام کی طاقت سے اقتدار میں آ تو جاتے ہیں لیکن پھر حکومت بچانے کے لئے اپنے ملکوں کی فوجی اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ کمپرومائز کر کے عوام کی فلاح کا ایجنڈا پیچھے چھوڑ دیتے ہیں اور اشرافیہ کے ایجنڈے پر چلنا شروع کر دیتے ہیں جو کہ عوام دشمن ہوتا ہے اور ان کے حقوق کے خاتمے پر منتج ہوتا ہے۔ ان کمزور حکمرانوں کو ہمیشہ یہ غلط فہمی رہتی ہے کہ اقتدار میں اپنے پاؤں جما لینے کے بعد ایک نہ ایک دن وہ اسٹیبلشمنٹ کے چنگل سے نکل کر عوامی فلاح کا ایجنڈا آگے بڑھانے کی پوزیشن میں آ جائیں گے اور اپنے ووٹروں کی نظر میں سرخرو ہو جائیں گے۔ لیکن ایسا کرنے کے لیے انہیں بار بار ننگے سمجھوتے کرنا پڑتے ہیں جس کے بعد عوام کی نظروں میں ان کا سیاسی قد کاٹھ اور ساکھ ختم ہوجاتی ہے۔ ایسا ہی کچھ میانمر کی لیڈر آنگ سان سوچی کے ساتھ ہوا جن کو اپویشن لیڈر کے طور پر میانمر کے عوام ایک ہیرو کا درجہ دیتے تھے لیکن آج وہ اقتدار میں آنے کے باوجود زیرو ہوچکی ہیں۔
سیاسی تجزیہ نگاروں کے خیال میں ممنکہ طور پر پاکستان کے وزیراعظم عمران خان کے ساتھ بھی مستقبل قریب میں کچھ ایسا ہی ہونے جا رہا ہے۔ فوجی حکمرانوں کے ہاتھوں طویل ترین قید کاٹنے والی میانمر کی سوچی کی سیاسی جدوجہد اور پھر یوٹرن کا بغور جائزہ لیں تو اس میں پاکستانی سیاستدانوں کے لیے سب سے بڑا سبق یہ ہے کہ آپ طاقت اور پروپیگنڈے کے زور پر اقتدار تو حاصل کر سکتے ہیں یا پھر آپ اپوزیشن میں رہ کر بھی لوگوں کو بیوقوف بنا سکتے ہیں لیکن بار بار کی سودے بازی آپ کی عزت و مرتبے اور سیاسی ساکھ دونوں کا بالآخر جنازہ نکال دیتی ہے۔ لہٰذا جب آپ سمجھوتے پر سمجھوتا کرنے کے بعد اپنی ساکھ اور پوزیشن کھو دیتے ہیں تو فوجی اسٹیبلشمنٹ آپ کو اٹھا کر اقتدار سے باہر پھینک دیتی ہے۔
جنوب مشرقی ایشیا کا ترقی پذیر ملک برما، جسے آج میانمار کہا جاتا ہے ، پاکستان سے صرف پانچ ماہ بعد 4 یعنی جنوری 1948ء میں برطانیہ سے آزاد ہوا۔ سوچی کا باپ ملک کا پانچواں وزیراعظم تھا جسے برما کی آزادی سے صرف چھ ماہ قبل قتل کر دیا گیا۔ تب وہ بمشکل دو سال کی تھی۔ نئی حکومت نے اس کی ماں کو بھارت میں سفیر نامزد کیا تو وہ اسے اور باقی بچوں کو لے کر دہلی چلی گئی۔ سوچی نے ابتدا میں دہلی اور بعد میں برطانیہ کی آکسفورڈ یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کی اور مغرب میں ہی رہنے لگی۔اس پس منظر میں آنگ سان سوچی اسّی کی دہائی میں اپنے وطن برما واپس آئی اور کچھ ریٹائرڈ فوجی افسروں کے ساتھ مل کر نیشنل لیگ فار ڈیمو کریسی نامی جماعت بنا ڈالی۔ میانمار کے حبس زدہ ماحول میں سوچی کی جماعت کسی تازہ ہوا کے جھونکے سے کم نہ تھی اسی لیے ملک میں اس کی خوب پذیرائی ہوئی۔ ان دنوں میانمار کے فوجی ڈکٹیٹر جنرل نی ون کے دن بھی برے چل رہے تھے لہٰذا اسے عوامی دبائو میں آ کر اقتدار چھوڑنا پڑا۔ سوچی کی طرح اس کے ساتھی ریٹائرڈ فوجی جرنیل بھی اقتدار میں فوجی کردار کے ناقد تھے۔ ملک میں نئے دور کا آغاز ہونے کی امید تھی کہ صرف پانچ ماہ کے بعد ہی اگلا فوجی دور آگیا۔انتخابات تو نہ رکے مگر سوچی کا راستہ روکنے کے لیے فوج نے انتخابات سے ایک سال قبل ہی اسے گھر پر نظر بند کر دیا۔ اس سب کے باوجود 1990ء میں عام انتخابات ہوئے تو اس کی جماعت این ایل ڈی نے ملک کی 81فیصد نشستیں جیت لیں۔ مگر فوج نے اقتدار پھر بھی اسکے حوالے نہ کیا۔
اس دوران آنگ سان سوچی کی قید نے عالمی دنیا کی توجہ حاصل کر کی اور اسے 1991ء میں ہی دنیا کے سب سے بڑے امن ایوارڈ یعنی نوبیل انعام کے لیے نامزد کر دیا گیا۔ سوچی کو کم و بیش پندرہ سال تک گھر میں بند رکھا گیا مگر وہ عالمی سطح پر شہرت کی بلندیوں پر پہنچ گئی۔ سال 2012ء کے ضمنی انتخابات ہوئے تو اس کی جماعت نے 45 میں سے 43 خالی نشستوں پر فتح حاصل کرلی اور وہ ایوان زیریں یا قومی اسمبلی کی رکن منتخب ہوگئی لیکن چونکہ اس نے ایک غیر ملکی سے شادی کر رکھی تھی لہٰذا آئینی مجبوریوں کے تحت وہ صدر تو نہ بن سکی لیکن وزیراعظم کے برابر عہدے‘ اسٹیٹ قونصلر پر براجمان ہوگئی۔ عوام کو توقع تھی کہ آنگ سان سوچی اقتدار میں آئے گی تو ملک سے آمریت کی تاریکیاں ختم ہوں گی۔ میڈیا کو آزادی ملے گی۔ بجٹ کا بڑا حصہ فوج کے اللوں تللوں سے نکل کر عوام کی تعلیم، صحت اور ترقی پر خرچ ہوگا۔ روہنگیا مسلم اقلیت پر فوج کی طرف سے ڈھائے جانے والے مظالم بند ہوں گے۔سوچی اقتدار میں آئی تو سب کی امیدوں پر پانی پھر گیا۔ اس نے عالمی عدالت انصاف میں جاکر روہنگیا کی اقلیت پر اپنی فوج کے غیر انسانی مظالم کا دفاع کیا، فوجی بجٹ مزید مستحکم کیا بلکہ فوج کی خواہش پر اس کے بجٹ و تنخواہوں میں تاریخی اضافے کیے۔آزاد میڈیا کے نمائندوں کو گرفتار کرکے سزائیں دلوائیں اور ملک میں تاریکی کے بادل مزید گہرے کیے۔ دراصل وہ اقتدار میں رہ کر تبدیلی لانے کے لیے ایک کے بعد دوسرے سمجھوتے کرتی رہی۔
رواں سال کے آغاز تک مسلسل فوجی اسٹیبلشمنٹ کو خوش رکھنے کے لیے ننگے اور گندے سمجھوتے کرنے والی سوچی دو بنیادی چیزوں یعنی عالمی سطح پر حاصل کی گئی عزت اور مقامی سطح پر ملنے والا عوامی اعتماد کھو چکی تھی۔ جو بین الاقوامی جریدے سوچی کی تعریفیں کرتے نہیں تھکتے تھے اب آئے دن اس پر تنقید کرتے ہیں۔ چنانچہ اپنا سیاسی زوال دیکھتے ہوئے سوچی نے فیصلہ کیا کہ وہ کچھ نہ کچھ ایسا کرے جس سے اس کی کچھ ساکھ بحال۔ہو۔ اس نے پارلیمنٹ میں فوج کی طرف سے بنائے گئے آئین کو تبدیل کرنے کے لیے تجویز دی کہ فوجی افسران پندرہ سال تک پارلیمینٹ کا حصہ نہ بن سکیں۔ مگر فوج نے اسے سختی سے رد کر دیا کیونکہ وہ پارلیمنٹ کا کنٹرول کھونا نہیں چاہتی تھی۔ لیکن اس واقعے کے بعد سے اب سوچی اور فوج کے معاملات خراب ہوچکے ہیں اور بظاہر سوچی کا اقتدار خطرے میں ہے جسے بچانے کے لیے وہ دوبارہ تگ و دو کر رہی ہے۔
کسی زمانے میں ایشیا کی آئرن لیڈی اور جمہوریت کی علمبردار سمجھی جانے والی آنگ سان سوچی کی کہانی دراصل تیسری دنیا کے ایسے تمام لیڈروں کی کہانی ہے جو یہ سوچ کر اپنے نظریات اور سوچ قربان کر دیتے ہیں کہ شاید فوج سے سمجھوتے کرنے کے بعد کسی موقع پر وہ تگڑے یو کر کوئی بڑی تبدیلی لے آئیں گے لیکن اب تک کے واقعات بتاتے ہیں کہ اقتدار میں آنے کے لیے ایک دفعہ کی سودے بازی بار بار کی سودے بازی کا راستہ تو ضرور ہموار کرتی ہے مگر تبدیلی نہیں لاسکتی۔
سوچی کی کہانی موجودہ پاکستانی وزیر اعظم عمران خان سے بھی خاصی مماثلت رکھتی ہے۔ جدوجہد کے دنوں میں عمران خان عوام کے لئے امید کی ایک کرن تھے کیونکہ وہ شخصی آزادیوں کے تحفظ، آئین و قانون کی بالادستی، میڈیا کی آزادی اور دفاعی بجٹ کی بجائے صحت، تعلیم اور انسانی ترقی جیسے شعبوں میں زیادہ سے زیادہ پیسہ لگانے کی بات کرتے تھے لیکن اقتدار میں آنے کے بعد سب الٹ ہوگیا۔ کرسی بچانے کے لئے کپتان نے ملک فوجی اسٹیبلشمنٹ کے حوالے کردیا اور اسکی نوکری کرنے کے باوجود اب ساکھ کے بحران کا شکار ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ ایک وقت آئے گا جب وہ اسٹیبلشمنٹ کو نکیل ڈال کر با اختیار وزیراعظم بن جائیں گے لیکن شاید کپتان یہ بھول رہے ہیں کہ جب ایک سیاسی رہنما کمپرومائز اور بارگیننگ کرکے اقتدار میں آتا ہے تو وہ تبدیلی نہیں لاسکتا، اگر یقین نہیں آتا تو آنگ سان سوچی کا انجام دیکھ لیں جو اپنے عوام اور عالمی برادری دونوں کی نظر میں اپنی وقعت کھو چکی ہیں۔
