سٹیٹ بینک کی ری فنانسنگ سکیم ایک ڈھونگ نکلی

کرونا وباء کے دوران لوگوں کو بے روزگاری سے بچانے کیلئے حکومت نے بلند بانگ دعوں کے ساتھ چھوٹے اور متوسط کاروباری افراد کے ملازمین کی تنخواہوں کی ادائیگی کی جس سکیم کا اعلان کیا تھا وہ ناکام ہوتی نظر آتی ہے۔ معلوم ہوا ہے کہ سٹیٹ بنک کی ری فنانسنگ سکیم کی تحت کمرشل بینکوں سے قرضوں کے حصول کیلئے رابطہ کرنے والے چھوٹے اور متوسط کاروباری افراد کو مختلف حیلوں بہانوں سے ٹرخایا جا رہا ہے۔ لہذا حکومتی اعلان کے باوجود قرضوں کی عدم فراہمی سے لاکھوں افراد کے بے روزگاہ ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔
اطلاعات کے مطابق اب تک اس اسکیم کے تحت جن گنے چنے کاروباری اداروں کو قرضہ دیا گیا ہے ان کا تنخواہوں کا بل کروڑوں میں ہے۔ یعنی سٹیٹ بنک کی طرف سے چھوٹے اور متوسط کاروبار کرنے والوں کے لیے شروع کی جانے والی ری فنانسنگ سکیم بھی بڑے بڑے کاروباری اداروں کو نوازنے کا ذریعہ بن گئی ہے۔ چھوٹے اور متوسط کاروباری افراد اپنے ملازمین کی تنخواہوں کی ادائیگی کیلئے بینکوں سے قرض کے حصول کیلئے چکر لگا لگا کر تھک چکے ہیں کیونکہ بینکوں کی کڑی شرائط ایسی ہیں کہ انہیں پورا کرنا ہی ممکن نہیں۔
اسٹیٹ بنک کے اربوں روپے کے قرضوں کی فراہمی کے دعوؤں کے برعکس کمرشل بنک چھوٹے اور درمیانی کاروباری افراد کو قرضے فراہم کرنے کیلئے آمادہ نظر نہیں آتے۔ متعلقہ بنکوں کے اعلیٰ افسران کا کہنا ہے کہ تا حال انھیں سٹیٹ بنک کی طرف سے چھوٹے کاروباری افراد کو قرضوں کی فراہمی کیلئے کوئی گائیڈ لائن ہی فراہم نہیں کی گئی اور ویسے بھی کمرشل بنک قرض کی رقم کے ڈوبنے کے خدشات کے پیش نظر ایسے اداروں کو قرضوں کی فراہمی میں احتیاط برتتے ہیں۔ ذرائع کے مطابق چھوٹے کاروباری اداروں کو قرضوں کی فراہمی کیلئے بینکوں کی طرف سے نہ صرف مختلف کاغذات کی فراہمی کے گورکھ دھندے میں الجھایا جا رہا ہے بلکہ تمام دستاویزات کی تکمیل پر بھی قرض کی درخواست کی منظوری کا انتظار کرنے کا کہہ کر لیت و لعل سے کام لیا جا رہا ہے۔
اس حوالے سے شکایات سامنے آنے کے باوجود اسٹیٹ بینک کا دعویٰ ہے کہ قرضوں کی اسکیم سے نجی کاروباری ادارے اور کمپنیاں بھرپور فائدہ اٹھا رہے ہیں جس سے لاکھوں ورکرز کی ملازمتوں کو محفوظ بنانے میں مدد مل رہی ہے۔ اسٹیٹ بینک کی کرونا کی وبا اور معاشی اثرات سے متاثرہ کاروباری اداروں اور کمپنیوں کو ان کے ملازمین کو نوکری سے نہ نکالنے کی صورت میں ملازمین کی 3 ماہ کی تنخواہوں کیلیے رعایتی قرض کی خصوصی اسکیم کے تحت بینکوں نے 30 اپریل تک 209 کمپنیوں کو 23 ارب روپے کے قرض جاری کیے ہیں، ان قرضوں سے 2لاکھ 20 ہزار ورکرز کی ملازمتوں کو تحفظ ملے گا۔
تاہم دوسری طرف کمرشل بنک چھوٹے اور متسوسط کاروباری افراد کو تیز رفتاری کے ساتھ قرضوں کی فراہمی کیلئے آمادہ نظر نہیں آتے حالانکہ حکومت نے ایس ایم ایز کو دیے گئے قرضوں پر بینکوں کو ہونے والے پہلے نقصان کا 40 فیصد برداشت کرنے کیلئے وزارت خزانہ نے رسک شیئرنگ میکانزم کا اعلان کر رکھا ہے۔ میکانزم کے تحت وفاقی حکومت مستقبل میں قرض کی کوئی خراب صورتحال کے باعث بوجھ کو بانٹے کے لیے 4 برسوں میں کریڈٹ رسک شیئرنگ فیسلیٹی کے تحت بینکوں کے لیے 30 ارب روپے استعمال کرے گی۔ اس رسک شیئرنگ کے تحت حکومت بینکوں کے فراہم کردہ قرض پورٹ فولیو کے بنیادی حصے پر 40 فیصد پہلا نقصان برداشت کرے گی۔ یہ سہولت بینکوں کو فائدہ دے گی کہ وہ ایسے ایس ایم ایز اور چھوٹے کارپوریٹس جن کی سیلز 2 ارب روپے تک ہے انہیں سٹیٹ بنک کی ری فنانس اسکیم کے تحت مالی اعانت کے لیے قرضوں میں توسیع کرسکیں گے تاہم ان تمام اقدامات کے باوجود چھوٹے اور متوسط کاروباری افراد کو بنکوں کی ری فنانسنگ سکیم کے تحت قرضوں کی فراہمی ممکن نہیں بنائی جا سکی اور متعلقہ کارواباری افراد بنکوں کے چکر کاٹنے پر مجبور ہیں۔ متعلقہ کاروباری افراد کا کہنا ہے کہ وہ کمرشل بینکوں کو مطلوبہ ڈاکومنٹس کی فراہمی کے ساتھ ساتھ گارنٹی تک فراہم کر رہے ہیں لیکن انہیں مختلف حیلوں بہانوں سے ٹرخایا جا رہا ہے اور متعدد بنکس برانچز کے ذمہ داران کا کہنا ہے کہ انھیں اس حوالے سے تاحال سٹیٹ بنک کی طرف سے قرض کی فراہمی کی درخواستوں سے نمٹنے کے اصول ہی نہیں بھجوائے گئے تو وہ کیسے قرض فراہم کر سکتے ہیں۔ ان حالات میں کاروباری افراد کا کہنا ہے کہ حکومت کی طرف سے قرضوں کی فراہمی میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنے کیلئے عملی اقدامات نہ کئے گئے تو ان کیلئے ملازمین کو تنخواہوں کی ادائیگی ممکن ہو گی بلکہ وہ انہیں برطرف کرنے پر بھی مجبور ہو جائیں گے۔
