سپریم کورٹ اور آئینی عدالت کے چیف جسٹس کون سے جج بنیں گے؟

سپریم کورٹ آف پاکستان کی جانب سے آرٹیکل 63 اے کی تشریح کالعدم قرار دیے جانے کے بعد اتحادی حکومت نے مزید وقت ضائع کیے بغیر اگلے ہفتے مجوز آئینی ترامیمی پیکج پارلیمنٹ سے منظور کروانے کی تیاریاں شروع کر دی ہیں جس کے بعد سپریم کورٹ کے اگلے اور آئینی عدالت کے پہلے چیف جسٹس کا انتخاب کیا جائے گا۔ حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر مجوزہ آئینی ترامیم منظور کروا لی گئیں تو چیف جسٹس فائز عیسی کا مستقبل روشن ہے جب کہ جسٹس منصور علی شاہ کے چیف جسٹس بننے کا امکان ختم ہو جائے گا۔
حکومتی ذرائع بتاتے ہیں کہ مجوزہ آئینی ترامیم کے پیکج کے حوالے سے مولانا فضل الرحمن مسلسل نخرے کر رہے ہیں جن کا بنیادی مقصد سودے بازی ہے لیکن انہیں خیبر پختون خواہ کی گورنرشپ کسی صورت نہیں دی جا سکتی، لہازا حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ آئینی ترامیم منظور کروانے کے لیے مولانا پر بالکل بھروسہ نہیں کیا جا سکتا، اسی لیے تحریک انصاف کے علاوہ کچھ آزاد اراکین پارلیمینٹ کو بھی آئینی ترامیم کے حق میں ووٹ ڈالنے کے لیےآمادہ کر لیا گیا ہے تاکہ دو تہائی اکثریت حاصل کی جاسکے۔ سپریم کورٹ کی جانب سے آرٹیکل 63 اے کا فیصلہ آ جانے کے بعد اب یہ اراکین اسمبلی آئینی ترمیم کے حق میں ووٹ ڈالیں گے تو ان کا وہ ووٹ گنا جائے گا اور یوں حکومت مطلوبہ اکثریت سے بل کو پاس کروا لے گی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اس عمل کے نتیجے میں جو لوگ نااہل ہوں گے انہیں دوبارہ قومی اسمبلی اور سینٹ میں منتخب کروا لیا جائے گا۔
سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد آئینی ترامیم کے پیکج کی منظوری کے لیے سیاسی رابطوں میں تیزی آ گئی ہے۔ سابق وزیر اعظم نواز شریف نے بھی اپنا لندن روانگی کا پروگرام منسوخ کر دیا ہے۔ توقع کی جا رہی ہے کہ آئندہ چند دنوں میں مجوزہ ترامیم کا مسودہ منظوری کے لیے ایوان میں پیش کر دیا جائے گا۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اس بار مجوزہ ترامیم کے لیے فضا ہموار کرنے کی ذمہ داری وزیر اعظم شہباز شریف کی بجائے بلاول بھٹو زرداری کو دی گئی ہے، جو مختلف بار ایسوسی ایشنز اور ذرائع ابلاغ میں ان ترامیم کے حق میں مہم چلا رہے ہیں۔ مولانا فضل الرحمن کو ائینی ترامیم پر منانے کی ذمہ داری بھی بلاول کے ہی حوالے کی گئی ہے لیکن زیادہ امکان یہی ہے کہ حکومت مولانا پر بھروسہ نہیں کرے گی چونکہ جو مطالبات انہوں نے پیش کیے ہیں انہیں پورا کرنا ممکن نہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ مولانا نے اپنے ایک قریبی رشتہ دار غلام علی کو فیصل کریم کنڈی کی جگہ خیبر پختون خواہ کا گورنر لگانے کا مطالبہ کیا ہے جسے مسترد کر دیا گیا ہے۔ اب مولانا نے غلام علی اور اپنے ایک اور ساتھی دلاور کو سینٹر بنوانے کے لیے تحریک انصاف سے سودے بازی شروع کر دی یے۔
ذرائع کے مطابق حکومت مجوزہ ترامیم پر بہت رازداری کے ساتھ کام کر رہی ہے اور اسی لیے ابھی تک ان ترامیم کا حتمی ڈرافٹ سامنے نہیں آیا۔ تاہم اس ڈرافٹ میں سب سے اہم ترمیم ایک ائینی عدالت بنانے کے حوالے سے ہے جو کہ سپریم کورٹ سے اوپر کے درجے کی حامل ہو گی اور تمام سیاسی تنازعات کا فیصلہ کیا کرے گی۔ یوں سپریم کورٹ کا سیاسی کردار ختم ہو جائے گا اور وہ صرف مفاد عامہ کے کیسز سننے تک محدود ہو جائے گی۔ ایسے میں اگر جسٹس منصور علی شاہ سپریم کورٹ کے اگلے چیف جسٹس بن بھی جاتے ہیں تو حکومت کو کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ اس بات کا بھی قوی امکان موجود ہے کہ جسٹس فائز عیسی ہی ائینی عدالت کے پہلے چیف جسٹس مقرر کیے جائیں گے۔ مجوزہ متوازی آئینی کورٹ کے پہلے چیف جسٹس کا تقرر وزیر اعظم خود کریں گے۔ ان ترامیم کی منظوری کے بعد سپریم کورٹ کے سینئر ترین جج کو چیف جسٹس بنانے کی بجائے حکومت چیف جسٹس کا انتخاب تین سینئر ترین ججوں میں سے کرے گی، یعنی جس طرح آرمی چیف کو سینیئر جرنیلوں میں سے چنا جاتا ہے اسی طرح اب سپریم کورٹ کا چیف جسٹس بھی تین سینیئر ججز میں سے چنا جائے گا۔ اسی لیے اپوزیشن کو یہ خدشہ ہے کہ نظام بدل کر حکومت اپنی مرضی کے ججز لانے کی کوشش کر سکتی ہے اور اگر کسی جج کے بارے میں یہ تاثر ہو کہ وہ کسی معاملے پر حکومت کے خلاف فیصلہ دے سکتا ہے تو اس کی مرضی جانے بغیر اس کا تبادلہ بھی کیا جا سکے گا۔
فائز عیسی کے فیصلوں نے پاکستانی سیاست کا دھارا کیسے بدلا ؟
مجوزہ ترامیم میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ کوئی جج غیرملکی شہریت نہیں رکھ سکے گا۔ اسی طرح ان ترامیم کے ذریعے انسانی حقوق کی دفعات میں تبدیلی کی بات بھی کی گئی ہے، جس کی مطابق کسی بھی سویلین کا ملٹری کورٹ میں ٹرائل ممکن ہو سکے گا اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارروائیوں کو عدالت میں چیلنج نہیں کیا جا سکے گا۔ ان ترامیم میں آرمی چیف کی تقرری، توسیع اور دوبارہ تقرری کے معاملات کو بھی تحفظ دیا گیا ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ جیسے ہی حکومت کے نمبر پورے ہوں گے، وہ ان ترامیم کا مسودہ پارلیمنٹ میں رکھ دے گی اور رولز معطل کر کے اسے منظور کروا لے گی۔
ذرائع کے مطابق چونکہ جسٹس قاضی فائز عیسی 25 اکتوبر کو ریٹائر ہونے والے ہیں لہٰذا اگلے چیف جسٹس کے آنے سے پہلے یا تو حکومت آئینی عدالت بنا لینا چاہتی ہے یا پھر چیف جسٹس کی تقرری کا طریقہ کار بدلنا چاہتی ہے کیوں کہ سینیئر ترین جج منصور علی شاہ اب کھل کر سیاست کر رہے ہیں اور تحریک انصاف کے ساتھ کھڑے ہیں۔ اسی لیے حکومت سپریم کورٹ کے سینئر جج کو سپریم کورٹ کا چیف جسٹس بنانے کی بجائے تین سینئر ترین ججوں میں سے اپنی مرضی کے جج کو تعینات کرنا چاہے گی۔ ایسے میں یہی لگتا ہے کہ جسٹس قاضی فائز عیسی آئینی عدالت کے پہلے چیف جسٹس بن جائیں گے اور جسٹس منصور علی شاہ سینیئر ترین جج ہونے کے باوجود سپریم کورٹ کے اگلے چیف جسٹس نہیں بن پائیں گے۔ حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر مجوزہ آئینی ترامیم کا پیکج پاس ہو گیا تو جسٹس امین الدین خان سپریم کورٹ اف پاکستان کے اگلے چیف جسٹس ہوں گے جنہیں فائز عیسی کا ایک قابل اعتماد ساتھی سمجھا جاتا ہے۔
