سپریم کورٹ و پاکستان بار کا قاضی عیسیٰ ریفرنس واپس لینے کا مطالبہ

سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن اور پاکستان بار کونسل نے وفاقی حکومت سے جسٹس قاضی فائز عیسی کے خلاف دائر صدارتی ریفرنس فوری طور پر واپس لینے کا مطالبہ کر دیا ہے.
پاکستان بار کونسل اور سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن نے مشترکہ اعلامیہ جاری کرتے ہوئے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ سپریم کورٹ کے جج جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں دائر ریفرنس فوری واپس لیا جائے۔ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ وفاقی وزیر قانون فروغ نسیم کی جانب سے جسٹس قاضی فائز عیسی کےخلاف بدنیتی پر مبنی جو ریفرنس تیار کیا گیا تھا اس کے عوامل اورمحرکات مکمل طور پر آشکار ہوچکے ہیں .اعلامیہ میں مزید کہا گیا ہے کہ عدلیہ کو تقسیم کرنے میں ناکامی کے بعد اب وفاقی وزیر قانون وکلا برادری کو منقسم کرنے پرعمل پیرا ہیں.اعلامیے میں مزید کہا گیا ہے کہ سابق اٹارنی جنرل انور منصور خان کے استعفے اور نئے اٹارنی جنرل خالد جاوید خان کی جانب سے ریفرنس میں حکومتی نمائندگی سے انکار کرنا اس سازش کو بے نقاب کرنے کیلئے کافی ہیں,وکلا برادری یہ مطالبہ کرتی ہے کہ حکومت جسٹس قاضی فائز عیسی کے خلاف دائر ریفرنس فوری واپس لے. یہ اعلامیہ وائس چیئرمین پاکستان بار کونسل عابد ساقی اور صدر سپریم کورٹ بارسید قلب حسن کی طرف سے جاری کیا گیا ہے۔
یاد رہے کہ وفاقی حکومت نے سپریم کورٹ کے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور سندھ ہائی کورٹ کے ایک جج کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس دائر کر رکھے ہیں۔پہلے ریفرنس میں جسٹس فائز عیسیٰ اور کے کے آغا پر بیرون ملک جائیداد بنانے کا الزام عائد کیا گیا۔ صدارتی ریفرنسز پر سماعت کیلئے سپریم جوڈیشل کونسل کا اجلاس 14 جون 2019 کو طلب کیا گیا تھا، اس حوالے سے اٹارنی جنرل آف پاکستان اور دیگر فریقین کو نوٹسز بھی جاری کیے گئے تھے۔
سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنسز کی سماعت اختتام پذیر ہوچکی ہے۔ ذرائع کے مطابق اٹارنی جنرل انور منصور خان نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے جواب کا جواب الجواب کونسل کے اجلاس میں جمع کرا دیا ہے، کونسل اٹارنی جنرل کے جواب کا جائزہ لینے کے بعد حکم جاری کرے گی۔جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی جانب سے صدر مملکت کو خط لکھنے پر سپریم جوڈیشل کونسل میں ایک اور ریفرنس دائر کیا گیا تھا جس کو کونسل نے خارج کردیا تھا۔
خیال رہے کہ عدالت عظمیٰ میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور دیگر کی جانب سے صدارتی ریفرنس کو چیلنج کیا گیا اور اس پر فل کورٹ سماعت کررہا ہے۔
