سپریم کورٹ جج جسٹس شوکت کا رگڑا لگانے میں مصروف

سپریم کورٹ میں اسلام آباد ہائی کورٹ کے سابق جج جسٹس شوکت عزیز صدیقی کے بحالی کیس کی سماعت کے دوران جج حضرات خفیہ ایجنسی کا سیاسی کردار بے نقاب کرنے والے اہنے ساتھی جج کا مسلسل رگڑا لگانے میں مصروف نظر آتے ہیں۔
11 جون کے روز کیس کی سماعت کے دوران 5 رکنی سپریم کورٹ بینچ کے سربراہ جسٹس عمر عطا بندیال نے واضح کیا کہ ہمیں ملک کے اداروں کا دفاع کرنا ہے، کیونکہ اگر اداروں کا تحفظ ہم نہیں کریں گے تو اور کون کرے گا۔ تاہم جسٹس شوکت عزیز صدیقی کے وکیل حامد خان ایڈووکیٹ کا کہنا تھا کہ برطرف کیے جانے والے جج نے اداروں پر کوئی الزام نہیں لگایا تھا بلکہ ادارے کے ایک فرد کا سیاسی کردار بے نقاب کیا تھا جو اپنی مرضی کا فیصلہ لینے کے لیے ان پر دباؤ ڈال رہا تھا۔ حامد خان نے کہا کہ شوکت صدیقی کے خلاف ریفرنس صدر مملکت نے نہیں بھیجا تھا، بلکہ سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کی زیر قیادت سپریم جوڈیشل کونسل نے از خود نوٹس لے کر شوکاز نوٹس جاری کیا اور اس کے جواب کی بنیاد پر جج کو برطرف بھی کر دیا۔ اس موقع پر جب حامد خان نے جسٹس قاضی فائز عیسی کے خلاف دائر کردہ صدارتی ریفرنس کا حوالہ دیا تو جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ وقت قلیل ہے، آپ اتنی تفصیل میں مت جائیں، اس تقریر کا ہونا، اس کا متن، اور اس کے حقائق سے متعلق آپ کو سب معلوم ہے، جسٹس شوکت صدیقی نے پنڈی بار کی تقریر میں اپنا بغض اور غصہ نکالا، اور یہ سب کرنے کے لیے ایک پبلک فورم چنا، ہم کیوں بھول گے کہ ہمیں ملک کے اداروں کا دفاع کرنا ہے، ان قومی اداروں کا تحفظ ہم نہیں کریں گے تو پھر کون کرے گا، جسٹس شوکت کے پاس ادارے کے خلاف شکایت کے لیے اندرونی طریقہ کار موجود تھا، لیخن یہ نئی روش شروع کر دی گئی کہ سب کچھ عوامی فورم پر جا کر پبلک کر دیں۔ یاد رہے کہ اس سے پہلے جسٹس شوکت عزیز صدیقی سپریم کورٹ کے سامنے کہہ چکے ہیں کہ انہوں نے راولپنڈی بار ایسوسی ایشن میں آئی ایس آئی کے سیاسی کردار کے حوالے سے جو باتیں کیں ان کا بنیادی مقصد خود پر مرضی کا فیصلہ لینے کے لیے پڑنے والے دباؤ کو کم کرنا تھا۔
11 جون کی سماعت کے دوران جسٹس اعجاز الاحسن نے حامد خان سے کہا کہ آپ دو سوالوں کے جواب دیں، کیا جسٹس شوکت کی تقریر جج کے کوڈ آف کنڈکٹ کی خلاف ورزی تھی یا نہیں، ہمیں یہ بھی سمجھائیں کہ سپریم جوڈیشل کونسل کو مزید انکوائری کی ضرورت تھی یا نہیں؟ اس پر حامد خان نے کہا کہ ہم نے سپریم جوڈیشل کونسل میں اوپن ٹرائل کی درخواست دی تھی جو کہ مسترد کر دی گئی، جج کی مدت ملازمت کے تحفط کے لیے اس کو بہت سے طریقے کار دیے گئے ہیں، جن کے تحت پہلے انکوائری ہونا چاہئے تھی تا کہ سچ سامنے آ جاتا۔
جسٹس اعجازلاحسن نے ادارے کی زبان بولتے ہوئے استفسار کیا کہ کیا یہ بہتر نہیں تھا ادارے پر حملہ کرنے سے پہلے اسکے بارے میں تحفظات سے آگاہ کر دیا جاتا؟۔ اس پر حامد خان بولے کہ چیف جسٹس پاکستان سے ملنے کے لیے شوکت صدیقی نے چار مرتبہ اپائنٹمنٹ لی، لیکن ملاقات نے کرنے دی گئی۔اس پر جسٹس سجاد علی شاہ نے پوچھا کہ یہ مان بھی لیں کہ شوکت عزیز صدیقی نے جو کہا وہ سچ تھا تو کیا انھیں عدلیہ کے اندر رہتے ہوئے یہ معاملہ حل نہیں کرنا چاہئے تھا؟۔ اس پر وکیل حامد خان نے جواب دیا کہ یعنی اگر شوکت عزیز صدیقی نام نہ لیتے تو بھی جرم تھا اور نام لے لیا تو بھی جرم ٹھہرا۔ جسٹس سجاد علی شاہ نے کہا کہ شوکت عزیز صدیقی کو ایسے معاملے پر خود متعلقہ افراد کو توہین عدالت کا نوٹس جاری کرنا چاہئے تھا۔ حامد خان نے جواب دیا کہ جب معاملہ چیف جسٹس صاحبان کے علم میں آیا تو انھوں نے بھی توہین عدالت کا نوٹس نہیں جارخ کیا، انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ نے شوکت صدیقی کیخلاف جو کرنا ہے کرے، لیکن انہوں نے اپنی تقریر میں خفیہ ایجنسی کے جس افسر کا نام لیا ان سے بھی پوچھا جائے۔ یاد رہے کہ جسٹس شوکت صدیقی نے پنڈی بار میں اپنی تقریر میں اور پھر سپریم کورٹ میں اپنے تحریری بیان میں آئی ایس آئی کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید پر نواز شریف ناہلی کیس میں مرضی کا فیصلہ حاصل کرنے کے لیے دباؤ ڈالا تھا جس سے انہوں نے انکار کیا اور اسلام آباد ہائی کورٹ سے بطور جج فارغ کر دیے گئے۔
سماعت کے دوران بینچ کے سربراہ جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیے کہ شوکت عزیز صدیقی چیف جسٹس کو رپورٹ بھیجتے تو وہ اس پر ایکشن لیتے، انہوں نے ایسا کچھ نہیں کیا، اگر عدلیہ میں اداروں کی مداخلت کی بات ہے تو عدلیہ کی آزادی کے کئی اور پہلو بھی ہیں، اگر ایک جج غلط کرتا ہے تو پوری عدلیہ کا ٹرائل شروع ہو جاتا ہے، شوکت صدیقی کا مداخلت کے خلاف ردعمل کے لیے پبلک فورم استعمال کرنا غلط تھا، وہ خاموشی سے انٹیلیجنس اداروں کے اہلکاروں سے ملتے رہے، وہ اگر بنیچ کی تشکیل کے لیے چیف جسٹس کو خط لکھ سکتے تھے تو اس معاملے پر کیوں نا لکھا۔ حامد خان نے جواب میں کہا کہ شوکت عزیز صدیقی کسی سے جا کر نہیں ملے بلکہ اداراے کے لوگ ان کو آ کر ملے۔ انکا کہنا تھا کہ شوکت صدیقی کی تقریر کا مقصد عدلیہ کو بدنام کرنا نہیں بلکہ نظام کو بہتر کرنا تھا۔ انہوں نے کہا کہ سپریم جوڈیشل کونسل کو خطرہ تھا کہ اگر اس کیس کی انکوائری شروع ہوئی تو میرا موکل بعض جرنیلوں کو بلانے کا کہے گا، اسی خطرے سے بچنے کے لیے سپریم جوڈیشل کونسل نے انکوائری نہیں کی اور اسکے بغیر ہی کیس کا فیصلہ سنا دیا۔
بعد ازاں جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ ہمیں 30 جون کا خیال ہے جب جسٹس شوکت عزیز ریٹائر ہو رہے ہیں لہذا ہم آرڈر کر رہے ہیں کہ جیسے ہی بینچ دستیاب ہو، مقدمہ سماعت کے لیے مقرر کر دیا جائے۔بعد ازاں کیس کی سماعت غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کر دی گئی۔
