سپریم کورٹ جج ویڈیو کیس کے فیصلے پر نظر ثانی کرے

سابق وزیراعظم نواز شریف نے جج ویڈیو اسکینڈل میں سپریم کورٹ آف پاکستان میں عدالتی فیصلے پر نظرثانی کیلئے اپیل دائر کردی ہے۔عدالت عظمیٰ میں نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث کی جانب سے دائر درخواست میں جج ارشد ملک و دیگر کو فریق بنایا گیا ہے۔
سپریم کورٹ میں دائردرخواست میں موقف اختیار کیا گیا کہ عدالت عظمیٰ نے ہمیں نوٹس کیے بغیر اور ہمیں سنے بغیر فیصلہ دیا اور عدالت نے ہمارا موقف لیے بغیر معاملے کے پیرامیٹرز طے کردئیے۔ نظرثانی درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ ویڈیو سکینڈل کے معاملے پر ہمارا موقف بھی سنا جائے، سپریم کورٹ نے ویڈیو اسکینڈل میں جو فیصلہ دیا، اُس سے ہمارا حق متاثر ہوا، لہٰذا انصاف کے تقاضے پورے کرنے کے لیے ہمارا موقف سنا جائے۔
عدالت میں دائر درخواست میں کہا گیا کہ ہمارا موقف سن کر سپریم کورٹ اپنے فیصلے پر نظرثانی کرے جبکہ ساتھ ہی نظرثانی اپیل میں نواز شریف نے اپنے خلاف عدالتی مشاہدے پر نظرثانی کی بھی استدعا کی ہے۔
یاد رہے کہ 6 جولائی کو سابق وزیر اعظم نواز شریف کی صاحبزادی مریم نواز، پریس کانفرنس کے دوران العزیزیہ اسٹیل ملز کیس کا فیصلہ سنانے والے جج ارشد ملک کی مبینہ خفیہ ویڈیو سامنے لائی تھیں۔
23اگست کو سپریم کورٹ میں دائر درخواست پر محفوظ فیصلہ سنایا گیا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ معاملہ اسلام آباد ہائی کورٹ میں زیر سماعت ہے اور ایف آئی اے پہلے ہی ویڈیو کی تحقیقات کر رہا ہے اس لیے سپریم کورٹ فی الحال مداخلت نہیں کر رہی۔ سپریم کورٹ کے تفصیلی فیصلے میں کہا گیا تھا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کو دیکھنا ہوگا کہ ویڈیو کا جج کے فیصلوں پر کیا اثر پڑا، ہائی کورٹ کے پاس اختیار ہے کہ وہ احتساب عدالت کے جج کی جانب سے دیئے گئے فیصلے میں شہادتوں کا جائزہ لے کر اس سزا کو ختم کردے، وہ دستیاب شہادتوں کو سامنے رکھ کر بھی کوئی فیصلہ دے سکتی ہے، ہائی کورٹ چاہے تو فیصلے کو دوبارہ ٹرائل کورٹ بھی بھیج سکتی ہے اور ٹرائل کورٹ فریقین کو سن کر کیس سے متعلق فیصلہ کر سکتی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button