سپریم کورٹ سے عمران خان کی آڈیو لیک نہیں ہوئی،چیف جسٹس

چیف جسٹس قاضی فائز عیسی کا تقریب سے خطاب میں کہنا تھا کہ انکوائری کروائی ہے سپریم کورٹ سے بانی پی ٹی آئی کی آڈیو لیک نہیں ہوئی ۔آئی ٹی اسٹاف نے بتایا کہ آڈیو کے اندر آنے والی کچھ آوازیں عدالت سے نہیں ہو سکتیں۔
پریس ایسوسی ایشن آف سپریم کورٹ کی تقریب حلف برداری،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے عہدیداروں سے حلف لیا۔
جسٹس اطہرمن اللہ کاکہنا ہے کہ اگر آڈیو لیک ہوئی تو اس میں برائی کیا ہے؟ یہ ایک کھلی سماعت میں ہونے والی گفتگو تھی۔
چیف جسٹس قاضی فائزعیسیٰ کاکہنا تھا کہ لاہور ہائیکورٹ نے ذوالفقار علی بھٹو کیس کے فیصلے میں 627 پیرا گراف لکھے۔سپریم کورٹ نے بھٹو کیس میں 963 پیرا گراف لکھے،فوجداری مقدمات میں اتنا طویل فیصلہ شاید اور کوئی موجود نہ ہو،ذوالفقار علی بھٹو کیس کا فیصلہ ہو چکا ہے اس لیے اس پر اب رائے دی جا سکتی ہے۔
قاضی فائز عیسیٰ کاکہنا تھاکہ عدالتی رپورٹنگ بہت مشکل کام ہے،بعض اوقات عدالتی رپورٹنگ میں ایسا ماضی کا پس منظر بیان کیا جاتا ہے جو ہم بھول چکے تھے،میں بھی بہت سال پہلے لکھا کرتا تھا،میری والدہ سیدہ قاضی عیسی بھی آرٹیکل لکھتی رہیں،اس زمانے میں بہت تحقیق کے بعد لکھا جاتا تھا،آج کل کا زمانہ بہت آسان ہو گیا ہے فون اٹھاؤ اور جو کہنا ہے کہہ دو۔
چیف جسٹس کامزید کہنا تھا کہ گالم گلوچ کا کلچر ختم تو نہیں ہو سکتا لیکن کم ضرور ہو سکتا ہے،۔میں نے سب سے پہلے میڈیا قوانین مرتب کر کے اسے کتاب کی شکل میں شائع کیا،ایک غیر ملکی نے مجھے کہا کیا آپ حضرت عیسی ع کے ٹرائل پر بھی نظرثانی کر سکتے ہیں؟ اچھی تحریر کیلئے ٹھنڈی آنکھ اور کھلا دل ہونا چاہیے۔
