سپریم کورٹ نے برطانوی ہائی کمشنر کو منہ توڑ جواب کیوں دیا؟

سپریم کورٹ آف پاکستان نے پی ٹی آئی کو انتخابی نشان ’بلے‘ سے محروم کرنے پر برطانوی ہائی کمشنر کو کھری کھری سنا دیں۔ رجسٹرار سپریم کورٹ نے جین میریٹ کے اعتراض پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ڈائریکٹ خط لکھ ڈالا۔ رجسٹرار نے اپنے خط میں برطانوی ہائی کمشنر کے اعتراضات کو بلاجواز قرار دے کر مسترد کر دیا۔
عدالت عظمیٰ نے برطانوی ہائی کمشنر کو لکھے گئے خط میں مزید کہا کہ سپریم کورٹ نے وہی کیا جو قانون کہتا ہے، اس فیصلے کے حوالے سے آپ کی تنقید بلا جواز تھی، انٹرا پارٹی الیکشن پر پارٹی نشان سے متعلق سماعت اور فیصلہ براہ راست نشر کیا گیا، قانون کے مطابق کوئی سیاسی جماعت انٹرا پارٹی انتخابات نہیں کرواتی تو وہ انتخابی نشان کیلئے اہل نہیں،سپریم کورٹ نے غلطیوں کا ازالہ کیا، اب برطانیہ بھی اپنی غلطیوں کا ازالہ کرے۔
خیال رہے کہ برطانوی ہائی کمشنر جین میریٹ نے 27 اپریل 2024 کو لاہور میں منعقد ہونے والے عاصمہ جہانگیر کانفرنس میں تقریر کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’اس خطے میں جمہوریت کمزور ہے، برطانیہ دنیا کی قدیم جمہوریت میں سے ایک ہے۔ اور اس کے تسلسل کے لیے ہم ابھی بھی کام کر رہے ہیں۔ یہ الیکشن کا سال ہے جبکہ پاکستان میں عدالتوں نے کچھ سیاسی رہنماؤں پر الیکشن میں حصہ لینے پر پابندی لگائی اور کچھ کے انتخابی نشانات ختم کیے گئے۔ ووٹ کا حق ایک جمہوری حق ہے عوامی حق ایک اتھارٹی ہے۔
تاہم سپریم کورٹ نے تحریک انصاف کے بلے نشان کے عدالتی فیصلہ پر برطانوی ہائی کمشنر کی تنقید پربذریعہ خط جواب دیتے ہوئے کہا کہ ’ایک سیاسی جماعت نے انٹرا پارٹی انتخابات نہیں کرائے، اس فیصلے کے بارے میں آپ کی تنقید بلاجواز تھی۔‘چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ کے حکم پر لکھے گئے خط میں مزید کہا گیا ہے کہ سپریم کورٹ آف پاکستان نے غلطیوں کا ازالہ کیا ہے، ضرورت اس امر کی ہے کہ برطانیہ بھی ماضی کی غلطیوں کو تسلیم کرے۔‘
تین صفحات پر مشتمل خط میں 1953 میں ایرانی حکومت کا تختہ الٹنے اور بالفور اعلامیہ کے ذریعے اسرائیلی ریاست کے قیام کا تذکرہ بھی کیا گیا جس میں کہا گیا کہ ’برطانوی حکومت نے دو نومبر 1917 کو اپنے شہری کو خط لکھا جس میں ایک آباد کار نوآبادیاتی ریاست کے قیام کے اپنے فیصلے سے آگاہ کیا، اس فیصلے کو علاقے کے لوگوں نے جو اس سے متاثر ہوئے اور نہ ہی آپ کے لوگوں نے ووٹ دیا، برطانوی حکومت نے یکطرفہ طور پر اس کا فیصلہ کیا، بالفور اعلامیہ وہ بنیاد بن گیا جس پر ایک نسلی ریاست قائم ہوئی، جو لوگ ہمیشہ وہاں رہتے تھے اس نسلی ریاست سے نکال دیئے گئے، ان پر وحشیانہ تشدد ہوا اور ہزاروں بچے مارے گئے، جو بچ گئے وہ معذور ہوئے۔‘
خط میں مزید کہا گیا کہ ’یہ بات خوش آئند تھی کہ آپ نے بارہا ’اوپن سوسائٹیز‘ کی اہمیت پر زور دیا اور کہا کہ یہ متحرک جمہوریتوں کے لیے ضروری ہے، آپ کو یہ جان کر خوشی ہو گی کہ سپریم کورٹ نے معلومات کے حق کو تسلیم کیا ہے، اسے خود پر بھی لاگو کیا ہے، ماضی کی پرتشدد غیر جمہوری غلطیوں پر قائم رہنا موجودہ اور آنے والی نسلوں کے لئے ٹھیک نہیں، آئیے سچائی کو اپنائیں۔‘
خط میں پوچھا گیا ہے کہ ’کیا 1953 میں محمد مصدق کی منتخب جمہوری حکومت کا تختہ الٹنا، ایرانی تیل پر قبضہ کرنا، سات دہائیوں سے زیادہ چھپنے کے بعد ظاہر نہیں ہونا چاہیے؟ کیا یہ مجرم اور مظلوم کے لیے بہتر نہیں ہو گا؟ کیا یہ اعتماد، ممکنہ طور پر دوستی اور امن کو جنم نہیں دے گا؟
خط میں مزید کہا گیا ہے کہ سیاسی جماعتوں میں انٹرا پارٹی انتخابات کا انعقاد آمریت کو روکنے کے لئے اور سیاسی جماعتوں کے اندر جمہوریت کو مضبوط کرنے کیلئے ضروری ہے۔‘ ’اس جمہوری اصول کی تعمیل کو یقینی بنانے کے لیے قانون میں یہ شرط رکھی گئی ہے کہ اگر کوئی سیاسی جماعت انٹرا پارٹی انتخابات نہیں کرواتی تو وہ انتخابی نشان کے لیے اہل نہیں ہو گی، ایک سیاسی جماعت جس نے خود اس قانون میں ووٹ دیا تھا اس نے لازمی انٹرا پارٹی انتخابات نہیں کرائے تھے، سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں اس بات کا اعادہ کیا کہ قانون نے کیا کہا ہے۔‘
