سپریم کورٹ نے فضائیہ ہاؤسنگ اسکیم پر سندھ ہائیکورٹ کا فیصلہ معطل کردیا

سپریم کورٹ نے سندھ ہائی کورٹ کا فضائیہ ہاؤسنگ اسکیم کے متاثرہ لوگوں کے واجبات کی ادائی سے متعلق دیا گیا حکم معطل کردیا۔
اسکیم میں سرمایہ کاری کرنے والے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی جانب سے سندھ ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کیا گیا تھا اور انہوں نے مناسب معاوضے کی استدعا کی تھی۔ جس پر جسٹس فیصل عرب کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 3 رکنی بینچ نے سماعت کی اور سندھ ہائی کورٹ کے ڈویژنل بینچ کا 19 مئی کا حکم معطل کردیا، ساتھ ہی قومی احتساب بیورو (نیب) اور دیگر فریقین کو نوٹسز جاری کردیے۔ دوران سماعت درخواست گزاروں کے وکیل حسیب جمالی نے بتایا کہ درخواست گزاروں نے تقریباً 5 سال قبل اپنی رقم سے سرمایہ کاری کی تھی اور انہیں اصل رقم کے بجائے مارک اپ اور سود کے ساتھ معاوضہ دینا چاہیے۔
واضح رہے کہ اپنے 19 مئی کے حکم میں سندھ ہائی کورٹ نے پاک فضائیہ اور بلڈرز کو فضائیہ ہاؤسنگ اسکیم کے تمام معاملات کو حل کرنے کی اجازت دیتے ہوئے الاٹیز کو 6 ماہ کے اندر رقم واپس کرنے کا کہا تھا۔
ساتھ ہی چیئرمین نیب کو یہ بھی ہدایت کی تھی کہ معاملے کی نگرانی کریں اور دونوں فریقین کی اپنے معاہدے کو پورا کرنے کےلیے معاونت کریں جب کہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ تمام متاثرہ لوگوں کو کم سے کم وقت میں مکمل ادائی ہو۔ سندھ ہائی کورٹ کے 2 رکنی بینچ نے جیل حکام کو یہ ہدایت بھی دی تھی کہ وہ دونوں قید بلڈرز کو رہا کریں تاکہ وہ اپنی ذمہ داری پوری کرسکیں لیکن ساتھ ہی وزارت داخلہ کو ان لوگوں کے نام ای سی ایل میں ڈالنے کا بھی کہا گیا تھا۔
یاد رہے کہ نیب نے اسکیم میں سرمایہ کاری کے ذریعے تقریباً 13 ارب روپے سے عوام کو مبینہ طور پر محروم کرنے پر جنوری میں میکسم پراپرٹیز کے بلڈر تنویر احمد اور بلال تنویر کو گرفتار کیا تھا۔ میکسم پراپرٹیز نے 2015 میں پاک فضائیہ کے ساتھ ایک مشترکہ منصوبے کا معاہدہ کیا تھا تاکہ فضائیہ ہاؤسنگ اسکیم تعمیر کی جائے اور اسی سلسلے میں لوگوں کو پلاٹس کےلیے اپلائی کرنے کا موقع فراہم کیا گیا تھا۔
جس کے بعد بڑی تعداد میں لوگوں نے ان پلاٹس کے حصول کےلیے اچھی خاصی رقم کی ادائی کی تھی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button