سپریم کورٹ نے منحرف اراکین کے ووٹ گننے کا فیصلہ دیا تو کیا ہوگا  ؟

چیف جسٹس قاضی فائز عیسٰی کی سربراہی میں آئین کے آرٹیکل 63 کے حوالے سے دائر کردہ نظر ثانی درخواست کا فیصلہ اس لیے بہت زیادہ اہمیت اختیار کر گیا یے کہ اس وقت حکومت کو اپنا مجوزہ آئینی ترمیمی پیکج منظور کروانے کے لیے پارلیمنٹ میں دو تہائی اکثریت کی ضرورت ہے۔ مسلہ یہ ہے کہ اگر حکومت اپوزیشن جماعتوں اور آزاد اراکین میں سے کچھ لوگوں کو ترمیمی پیکج کے حق میں ووٹ دینے کے لیے راضی کر بھی لیتی ہے تو جسٹس عمر عطا بندیال کے 2022 کے فیصلے کے مطابق ایسے اراکین پارلیمنٹ نہ صرف نااہل ہو جائیں گے بلکہ ان کا ووٹ بھی شمار نہیں ہو گا۔ آئینی ماہرین کہتے ہیں کہ عمر عطا بندیال کا فیصلہ آئین کے خلاف تھا چونکہ اگر کسی رکن پارلیمنٹ کا ووٹ ہی شمار نہیں ہوتا تو پھر اس پر فلور کراسنگ کا قانون بھی نہیں لگ سکتا، یعنی اگر فلور کراسنگ کا جرم ہی سار سرزد نہیں ہوا تو پھر نااہلی کی سزا بھی نہیں دی جا سکتی۔

یاد رہے کہ یہ فیصلہ تب آیا تھا جب عمران خان وزیراعظم تھے اور حمزہ شہباز شریف پنجاب میں وزیراعلی بن گئے تھے۔ جب حمزہ کو اعتماد کا ووٹ لینے کے لیے کہا گیا تو تحریک انصاف کے 19 اراکین پنجاب اسمبلی نے ان کے حق میں ووٹ ڈال دیا تھا۔ تاہم اس معاملے کو ایک صدارتی ریفرنس کے ذریعے سپریم کورٹ میں لے جایا گیا جہاں عمر عطا بندیال نے توقع کے عین مطابق ایک عمراندار جج کا کردار ادا کرتے ہوئے حمزہ شہباز کے حق میں پڑے پی ٹی آئی کے ووٹوں کو شمار کرنے سے روک دیا اور ان اراکین اسمبلی کو نااہل بھی قرار دے دیا۔

اس فیصلے کے خلاف دائر کردہ نظر ثانی اپیل کو جسٹس عمر عطا بندیال نے کبھی سنا ہی نہیں۔ اب اس اپیل کو دائر ہوئے دو برس سے زیادہ ہو چکے ہیں لہٰذا جسٹس قاضی فائز عیسی یہ اپیل سننے جا رہے ہیں۔ پہلے جسٹس منصور علی شاہ نے اس اپیل کو لگانے کی راہ میں روڑے اٹکائے اور پھر جسٹس منیب اختر نے بھی اہنا حصہ ڈالا، لیکن اب فائز عیسی نے نیا بینچ تشکیل دے کر ارٹیکل 63 کے کیس پر نظر ثانی اپیل کی سماعت شروع کر دی ہے۔

اپیل میں یہ موقف اختیار کیا گیا ہے کہ اگر کسی رکن پارلیمینٹ پر فلور کراسنگ کے قانون کا اطلاق ہوتا بھی ہے تو پہلے ووٹ کا شمار کیا جانا چاہیے۔ اگر اپیل منظور ہو جاتی ہے تو حکومت کی مجوزہ آئینی ترمیم کے حق میں ووٹ ڈالنے والے پارلیمنٹیرینز پر فلور کراسنگ قانون تو اپلائی ہو گا لیکن ان کا ووٹ بھی شمار ہو جائے گا اور یوں حکومت کو دو تہائی اکثریت حاصل ہو جائے گی۔ جو اراکین پارلیمنٹ حکومتی پیکج کے حق میں ووٹ ڈالنے پر ناہل قرار پائیں گے انہیں دوبارہ سے الیکشن لڑوا کر پارلیمنٹ کا حصہ بنا دیا جائے گا۔

یاد رہے کہ جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں پانچ رکنی بینچ نے آرٹیکل 63 اے کی تشریح سے متعلق صدارتی ریفرنس پر فیصلے میں قرار دیا تھا کہ منحرف رکن اسمبلی کا اپنی پارٹی پالیسی کے برخلاف دیا گیا ووٹ شمار نہیں ہوگا جبکہ تاحیات نااہلی یا نااہلی کی مدت کا تعین پارلیمان کرے۔ یہ فیصلہ 2 کے مقابلے میں 3 وعٹوں کی برتری سے سنایا گیا تھا۔ چیف جسٹس عمر عطا بندیال، جسٹس اعجازالاحسن اور جسٹس منیب اختر نے کہا تھا کہ منحرف رکن کا دیا گیا ووٹ شمار نہیں کیا جائے، جب کہ جسٹس مظہر عالم میاں خیل اور جسٹس جمال خان مندوخیل نے فیصلے سے اختلاف کیا تھا۔ یہ دونوں جج اب قاضی فائز عیسی کے بینچ میں بھی شامل ہیں چونکہ نظر ثانی اپیل وہی بینچ سنتا ہے جس نے پہلا فیصلہ دیا ہو۔ جسٹس منیب اختر اس بینچ میں بیٹھنے سے پہلے ہی معذرت کر چکے ہیں۔

یہودی ایجنٹ اور مولانا ڈیزل ملک دشمن ایجنڈے پر اکٹھے کیسے ہو گئے؟

جسٹس مظہر عالم میاں خیل اور جسٹس جمال خان مندوخیل نے اکثریتی فیصلے سے اختلاف کرتے ہوئے فیصلہ دیا تھا کہ آرٹیکل 63-اے خود ایک مکمل کوڈ ہے اور پارٹی پالیسی سے انحراف کی صورت میں نتائج کے حوالے سے بھی تفصیلی طریقہ کار فراہم کرتا ہے۔ اختلافی نوٹ میں کہا گیا کہ الیکشن کمیشن کی جانب سے رکن کے خلاف پارٹی سربراہ کے بھیجے گئے ڈیکلریشن کی تصدیق کیے جانے کی صورت میں اس کی ایوان کی رکنیت ختم ہوجائے گی اور اس کے نتیجے میں اس کی نشست خالی ہوجائے گی۔ اس حوالے سے کہا کہ آرٹیکل 63-اے کے تحت اپیل کا حق بھی دیا گیا ہے۔ اختلافی فیصلے میں بتایا گیا کہ آرٹیکل 63-اے کی مزید تشریح آئین کی دوبارہ تحریر یا پڑھنے کے مترادف ہوگی، مزید کہا گیا تھا کہ یہ ہمارا مینڈیٹ نہیں ہے کہ ہم پارلیمنٹ کی جانب سے کی گئی قانون سازی میں کوئی ترمیم کریں، تاہم اگر پارلیمنٹ سمجھتی ہے کہ کوئی ترمیم کرنا ضروری ہے تو پارٹی پالیسی کے منحرفین پر مزید سختی یا پابندیاں لگا سکتی ہے۔

Back to top button