سپریم کورٹ نے ڈاکٹرعبدالقدیر کو عدالت آنے کی اجازت دیدی

سپریم کورٹ نے سفری پابندیوں سے متعلق کیس میں ڈاکٹرعبد القدیر خان کو عدالت آنے کی اجازت دیتے ہوئے حکومت کی ان کیمرا سماعت کی استدعا مسترد کر دی۔
سفری پابندیوں کے خلاف ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی درخواست پر جسٹس مشیر عالم کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ نے سماعت کی۔ ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے وکیل نے دلائل دیئے کہ ان کے موکل کو آج عدالت نہیں آنے دیا گیا، عدالت آنا ان کا بنیادی حق ہے۔ وفاقی حکومت کے وکیل احمر بلال صوفی کا کہنا تھا کہ ڈاکٹر صاحب کے عدالت آنے سےمسائل ہوں گے۔ بہتر ہے عدالت ان کیمرہ سماعت رکھ لے۔
جسٹس مشیر عالم نے کہا کہ ایسی کوئی وجہ نہیں کہ سماعت ان کیمرہ کی جائے۔ جسٹس یحییٰ خان آفریدی نے ریمارکس دیئے کہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی قوم کےلیے خدمات کو تسلیم کرتے ہیں۔ اسلام آباد ہائی کورٹ نے فریقین کی رضا مندی سے 2009 میں فیصلہ دیا جسے 10 سال تک کہیں چیلنج نہیں کیا گیا۔ ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے اب لاہور ہائی کورٹ میں نئی درخواست دائر کر دی، اگر سپریم کورٹ معاملے میں براہ راست مداخلت کرے توکیا یہ مناسب ہوگا، عدالت کو مطمئن کیا جائے۔ ڈاکٹر عبدالقدیر خان اسلام آباد ہائی کورٹ دوبارہ کیوں نہیں گئے۔
ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے وکیل نے کہا کہ بنیادی حقوق کے معاملے میں سپریم کورٹ براہ راست مداخلت کر سکتی ہے۔ جسٹس یحییٰ خان آفریدی نے ریمارکس دیئے کہ عدالت سے غیر مناسب حکم کےلیے اصرار نہ کریں۔ درخواست پر اپنے موکل سے مشاورت کر کے موقف بتا دیں۔ عدالت نے سماعت 13 مئی تک ملتوی کر دی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button