سپریم کورٹ کو ڈاکٹر قدیر کا کیس سننے سے کس نے روکا؟

ایک برس کے طویل انتظار کے بعد سپریم کورٹ نے نیوکلیئر پروگرام کے خالق ڈاکٹر عبدالقدیر کی جانب سے اپنی قید تنہائی کے خلاف دائر درخواست کی سماعت عدالت لگائے اور کوئی وجہ بتائے بغیر ہی منسوخ کر دی۔ یاد رہے کہ کہ قدیر خان کی جانب سے خود پر لگائی گئی پابندیاں اٹھوانے کے لئے ایک درخواست سپریم کورٹ میں پچھلے برس جولائی میں داخل کروائی گئی تھی اور ایک برس کے طویل انتظار کے بعد 16 جولائی کے لیے اس کی سماعت مقرر کی گئی تھی جس روز سپریم کورٹ کے بنچ نمبر ایک نے اسے سننا تھا۔ تاہم ڈاکٹر قدیر خان کے وکیل کرنل ریٹائرڈ انعام الرحیم کے مطابق سپریم کورٹ نے بغیر کوئی وجہ بتائے 16 جولائی کی سماعت منسوخ کر دی۔ انکا کہنا ہے کہ اعلی عدلیہ بظاہر نامعلوم افراد کے شدید دباؤ تلے نظر آتی یے جس وجہ سے پہلے تو ایک برس تک داکٹر قدیر خان کی درخواست ہی نہیں سنی گئی اور پھر جب کیس کی تاریخ دی گئی تو سماعت ہی منسوخ کر دی گئی۔
یاد رہے کہ ڈاکٹر قدیر خان پچھلے پندرہ برس سے قید تنہائی کا شکار ہیں اور اس عید پر وہ اپنے پرانے دوستوں اور رشتہ داروں سے ملاقات کرنا چاہ رہے تھے۔ تاہم انکی یہ خواہش مستقبل قریب میں پوری ہوتی ہوئی نظر نہیں آتی چونکہ 16 جولائی کی سماعت منسوخ کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے کوئی نئی تاریخ نہیں دی ہے۔ مشرف کے آمرانہ دور سے اب تک قید تنہائی کاٹنے والے ڈاکٹر عبد القدیر نے 10 جون 2021 کو اپنے کیس کی سماعت جلد مقرر کرنے کی درخواست دی تھی اور سپریم کورٹ کو یاد دلایا تھا کہ ان کی درخواست جولائی 2020 سے زیر التوا ہے۔ عبدالقدیر خان نے اس کیس میں حکومت پاکستان، سیکریٹری وزارت داخلہ اسلام آباد اور دیگر کو فریق بنایا ہے۔ ڈاکٹر عبد القدیر خان کے وکیل کرنل (ر) انعام الرحیم ایڈووکیٹ کے مطابق محسن پاکستان کہلانے والے نیوکلیئر سائنسدان ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے کیس کی آخری سماعت سپریم کورٹ نے گزشتہ برس 21 جولائی کو کی تھی جس کے بعد تقریبا ایک برس کا وقفہ ہو چکا تھا لیکن ان کی درخواست نہیں سنی جا رہی تھی چنانچہ قدیر خان نے 10 جون کو سپریم کورٹ کو یاددہانی کے لیے دوبارہ درخواست دائر کی۔
کرنل (ر) انعام الرحیم نے کہا کہ سیکورٹی کے نام پر ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو برس ہس برس سے عملاً قید تنہائی میں رکھا گیا ہے اور ان کے عزیز و اقارب اور دوست تک ان سے نہیں مل سکتے ۔ یہاں تک کہ ان کے وکلاء بھی تنہائی میں ان سے نہیں مل سکتے۔ انعام رحیم نے کہا کہ افسوس کی بات ہے کہ اسکے بر عکس بھارتی دہشت گرد جاسوس کلبھوشن یادیو جو سینکڑوں پاکستانیوں کا قاتل ہےاس کو انصاف دینے کے لیے آرمی ایکٹ میں 2 بارترمیم کی گئی یعنی دشمن جاسوس کی سہولت کے لیے قانون بدلا گیا لیکن محسن پاکستان کو بغیر کسی قانون کے مشرف دور سے قید تنہائی میں رکھا جا رہا ہے۔ کرنل انعام نے کہا کہ کلبھوشن یادیو تک اس کے اہل خانہ کو رسائی دی گئی لیکن محسن پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان نہ اپنی مرضی سے کوئی ملاقات کر سکتے ہیں اور نہ ہی اپنے گھر سے باہر جاسکتے ہیں۔ انکا کہنا تھا کہ قدیر خان کے وکیلوں کو بھی ان سے نہیں ملنے دیا جاتا۔کرنل انعام الرحیم نے کہا کہ ظلم کی بات یہ ہے کہ پاکستان کو ایٹمی قوت بنانے والے سائنسدان کا کیس سننے کے لئے سپریم کورٹ نے 12 ماہ لگا دیے اور پھر سماعت کے روز کیس ہے سے منسوخ کر دیا گیا جس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستانی عدلیہ اپنے فیصلوں میں آزاد نہیں ہے اور شدید ریاستی دباو میں کام کر رہی ہے۔
خیال رہے کہ قدیر خان کو غیرقانونی طور پر جوہری ٹیکنالوجی کی ایران، لیبیا اور شمالی کوریا منتقلی کے الزام پر سابق پرویز مشرف کے دور میں چارج شیٹ کرنے کے بعد اسلام آباد ہی میں ان کے گھر میں نظر بند کر دیا گیا تھا۔قدیر خان ان الزامات کی سختی سے تردید کرتے ہیں۔ مشرف کے آمرانی دور کے بعد دو حکومتیں اپنی مدت مکمل کر چکی ہیں اور تیسری ہائیبرڈ حکومت برسر اقتدار ہے لیکن اس دوران بھی عبدالقدیر کو نقل و حرکت کی اجازت نہیں ہے۔
