سپریم کورٹ کی فوجی عدالت کے سزا یافتگان کی ضمانت پر پابندی

سپریم کورٹ آف پاکستان نے وفاقی حکومت کی درخواست پر پشاور ہائی کورٹ کو ایسے ملزمان کی ضمانت دینے سے روک دیا ہے جن کو فوجی عدالتوں نے سزائیں سنائی تھیں اور جنہوں نے ان سزاؤں کو ہائی کورٹ میں چیلنج کر رکھا ہے۔ یاد رہے کہ ان کیسز کی سماعت سابق فوجی آمر جنرل پرویز مشرف کو پھانسی کا حکم سنانے والے پشاور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس وقار احمد سیٹھ کر رہے ہیں۔ تاہم سپریم کورٹ نے واضح کیا کہ اسکا ضمانت نہ دینے کا حکم ایک عبوری حکم ہے اور جب تک سپریم کورٹ وفاقی حکومت کی درخواست پر فیصلہ نہیں دیتی، پشاور ہائی کورٹ ان کیسز کی سماعت جاری رکھ سکتی ہے۔
اپنے عبوری فیصلے میں سپریم کورٹ نے کہا کہ انصاف کرنا ہائی کورٹ کی آئینی ذمہ داری ہے اور سپریم کورٹ اسے حتمی فیصلے دینے سے نہیں روک سکتی۔ جسٹس مشیر عالم اور جسٹس قاضی محمد امین پر مشتمل سپریم کورٹ کے 2 رکنی بینچ نے پشاور ہائی کورٹ کو ہدایت کی ہے کہ وہ مذکورہ کیسز کے میرٹس پر کارروائی جاری رکھ سکتی ہے لیکن اسے کوئی ضمانتی حکم نہیں دینا چاہیئے۔ واضح رہے کہ نومبر 2018 میں پشاور ہائی کورٹ کے جسٹس وقار سیٹھ نے فوجی عدالتوں سے سزا یافتہ 71 افراد کی سزائیں کالعدم قرار دے دی تھی جس کے خلاف وفاقی حکومت نے اپیلوں کے ذریعے سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا۔ پشاور ہائیکورٹ نے اپنے تفصلی فیصلے میں وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو تمام مجرموں اور نظربند افراد کو رہا کرنے کا بھی حکم دیا تھا اور مزید کہا تھا کہ ان کی غیر معینہ مدت تک نظربندی بشمول انٹیلی جنس ایجنسیوں کی تحویل میں رکھے جانے کو سزا کے مقصد کے لیے کسی طور پر بھی سراہا نہیں گیا تھا۔
173 صفحات پر مشتمل فیصلے میں ہائی کورٹ نے مجرمان کے اعترافی بیانات میں نقائص سامنے آنے پر انہیں مسترد کردیا تھا اور سوال کیا تھا کہ کیا آئین کی دفعہ 10(اے) کے تحت مجرمان کو فیئر ٹرائل کا حق دیا گیا یا نہیں۔ بینچ نے یہ بھی کہا تھا کہ اعترافی بیانات کا تمام تر عدالتی ریکارڈ اردو میں ہے اور ’ایک ہی لکھائی اور مخصوص طرز بیان‘ پر مشتمل ہے۔ یعنی تمام اعترافی بیانات ایک ہی شخص نے لکھے۔ عدالت نے یہ بھی کہا کہ تمام کیسز میں تمام ملزمان سے پوچھے گئے سوال بالکل ایک جیسے اور اس کے جوابات بھی یکساں تھے۔
پشاور ہائی کورٹ بینچ نے اپنے فیصلے میں کہا تھا کہ اس کا مطلب ہے کہ تینوں عدالتوں میں ہونے والی کارروائی ’منصوبہ بندی‘ سے کی گئی تھی۔ بینچ نے مزید کہا تھا کہ ہر ایک کیس کے مکمل ریکارڈ کے مطالعے سے ظاہر ہوتا ہے کہ استغاثہ کی تیار کردہ کسی رپورٹ میں کبھی بھی مجرمان کا نام شامل نہیں کیا گیا اور نہ ہی انہیں کہیں نامزد کیا گیا۔
دوسری جانب پشاور ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ کے دو رکنی بینچ کے روبرو اٹارنی جنرل خالد جاوید خان نے مؤقف اپنایا کہ انہیں خدشہ ہے کہ ہائی کورٹ مجرمان کی عبوری ضمانت پر غور کررہی ہے۔ اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ یہ عام مجرمان نہیں بلکہ دہشت گردی کے الزام میں فوجی عدالتوں سے سزا یافتہ ہیں، بہت سے لوگوں نے ان مجرمان کو سلاخوں کے پیچھے پہنچانے کے لیے اپنی زندگیاں قربان کی ہیں۔
سماعت کے بعد حکم لکھواتے ہوئے جسٹس مشیر عالم نے کہا کہ انصاف کرنا ہائی کورٹ کا فرض ہے، اگر وہ میرٹ پر کیسز کا فیصلہ کرتی ہے تو عدالت عظمیٰ کو کوئی اعتراض نہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ سپریم کورٹ ایسی غلط مثال کی حوصلہ افزائی نہیں کرسکتی جس سے عدالت عظمیٰ پر ہائی کورٹ کے خلاف ہر دوسرے کیس میں حکم امتناع کے حصول کے لیے درخواستوں کا بوجھ بڑھے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button