سپریم کورٹ کےفیصلے کے بعد نیب کا کوئی قانونی جواز نہیں رہا

پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ ملک میں احتساب کے نام پر تماشا جاری ہے۔ سپریم کورٹ کے تاریخی فیصلے کے بعد نیب ادارہ ختم ہوگیا، نیب ادارے کا کوئی قانونی جواز نہیں رہا، پارلیمنٹ کو احتساب کا نیا ادارہ بنانا چاہیے، قانون سازی کیلئے اپوزیشن اپنی ذمہ داری ادا کرے
وفاقی دارالحکومت میں لیگی رہنما احسن اقبال، شاہد خاقان عبابسی، خواجہ سعد رفیق کے ساتھ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ خواجہ سعد رفیق،خواجہ سلمان رفیق نے صعوبتیں برداشت کیں، دونوں بھائیوں کوخراج تحسین پیش کرتا ہوں، خواجہ سعد رفیق آج بھی اپنے قائد کے ساتھ چٹان کی طرح کھڑا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں بھائیوں کی رہائی پر جتنا بھی شکرادا کیا جائے کم ہے۔ یہ ایک ایسے پراسس کا آغازہے آنے والے وقت میں انصاف کا بول بولا ہوگا، عدالت میں جانے والے سائل اس فیصلے کا حوالہ دیں گے، عدلیہ کوسلام پیش کرتا ہوں۔
میڈیا سے گفتگو کے دوران پاکستان مسلم لیگ ن کے نائب صدر شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ نیب کوحکومتی بنچوں کے کیسزنظرنہیں آتے۔ سعد رفیق کے فیصلے میں لکھا ہے نیب کے عمل نے ادارے کی کریڈبیلٹی کوختم کردیا ہے۔ نیب تمام حقوق کوپامال کرتا ہے، فیصلے میں لکھا ہے بیس سال سے نیب اپوزیشن کودبانے کا آلہ ہے۔لیگی نائب صدر کا کہنا تھا کہ صرف خواجہ سعد رفیق کیس نہیں ہرکیس کی یہی حالت ہے، کیس کا مقصد ہراساں کرنا اورجیلوں میں ڈالنا ہے۔ فیصلہ معمولی باتیں نہیں ہے، فیصلے کے بعد آج نیب اورحکومت ملکرادارے کوختم کرنے کا فیصلہ کرلیں، سپریم کورٹ نے فیصلے میں نیب کی حقیقت لکھی۔انہوں نے مزید کہا کہ جج صاحب نے فیصلے میں شعربھی لکھا، سعد رفیق کیس ایک کلاسک مثال ہے، حکومتی ادارے آئینی حقوق کوپامال کرکے غیرقانونی طورپرحراست میں لیتے ہیں۔ سپریم کورٹ نے حقیقت سامنے رکھ دی ہے۔
شاہد خاقان کا مزید کہنا تھا کہ ملک میں احتساب کا تماشا لگا ہوا ہے، یہ وہی باتیں ہیں جوہم پچھلے دوسال سے کررہے تھے، وہی باتیں سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں لکھ دی ہے۔ خواجہ سعد رفیق کا فیصلہ تاریخی حثیت رکھتا ہے۔بات کو جاری رکھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ نیب آئین میں دیئے گئے حقوق پامال کررہا ہے۔ فیصلے میں لکھا ہے نیب کا صرف ایک مقصد اپوزیشن کی آوازکودبانا ہے۔ عدالت نے نیب کوعوام کے سامنے ننگا کردیا ہے۔
لیگی نائب صدر کا کہنا تھا کہ خواجہ سعد رفیق کے لیے بڑا آسان تھا سرجھکا لیتا، انہوں نے سرجھکانے کے بجائے مقابلہ کیا۔ نیب آلہ کاربنا ہوا ہے، ادارے کے ہتھکنڈے ملکی مفاد میں نہیں ہیں۔شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ چیئرمین نیب اگرفیصلے کے الفاظ کوسمجھتے ہیں تواخلاقی جرات کا مظاہرہ کریں۔ جب اعلیٰ عدلیہ ادارے کے خلاف ایسی بات کردے توادارے کا وجود نہیں رہتا۔ اپوزیشن کوسالوں جیل میں رکھا جاتا ہے، نیب قانون کے مطابق تیس دن کے اندرکیس کومکمل کرنا ہوتا ہے۔ شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ خواجہ برادران کیس میں عدالت کا فیصلہ تاریخی ہے۔سپریم کورٹ نے فیصلے میں نیب کی حقیقت لکھی ہے۔سپریم کورٹ نے نیب کے بارے میں جولکھا وہ اس قدر حقیقت ہیں کہ حکومت اور نیب کو چاہیے کہ ادارے کو ختم کردیں۔نیب اپوزیشن کو پکڑتی ہے لیکن حکومت میں بیٹھے کرپٹ نظر نہیں آتے۔نیب کے ہتھکنڈے ملکی مفاد میں نہیں ہیں، چیئرمین نیب کسی عدالت کے جج نہیں ہیں۔ انھوں نے کہا کہ انسان میں اتنی اخلاقی جرات ہونی چاہیے جب اعلیٰ عدلیہ ایک ادارے بارے اس طرح کی بات کرے تو پھر ادارے کا وجود نہیں رہتا.
اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے خواجہ آصف نے خواجہ سعد رفیق اور سلمان رفیق کی درخواست ضمانت سے متعلق سپریم کورٹ کے فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ عدلیہ میں جانے والے اور انصاف کے طلب گار اس کیس کا حوالہ دیں گے۔انہوں نے کہا کہ خواجہ سعد رفیق اور خواجہ سلمان رفیق کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں کہ انہوں نے موجودہ نظام کے خلاف جنگ میں جو مشکلات برداشت کیں لیکن پیچھے نہیں ہٹے اور آج بھی ایک چٹان کی طرح اپنے نظریے ، قائد اور جماعت کے ساتھ کھڑے ہیں۔خواجہ آصف نے کہا کہ یہ ایک ایسے عمل کا آغاز ہے جو اس بات کی شہادت دے رہا ہے کہ آنے والے وقت میں انصاف کا بول بالا ہوگا اور حکمران جب اپنی ذاتی انا اور اغراض و مقاصد کے لیے قانون اور اداروں کا استعمال کرتے ہیں تو کسی نہ کسی دن انصاف کا بول بالا ہوتا ہے۔مسلم لیگ(ن) کے رہنما نے کہا کہ میں اپنی جماعت کی جانب سے صحافی مطیع اللہ جان کی گرفتاری کی مذمت کرتا ہوں، مطیع اللہ جان کو پولیس کی تحویل میں لیا گیا ہے۔خواجہ آصف نے کہا کہ اس وقت میڈیا جو کردار ادا کررہا ہے اور حکومت کے خلاف میڈیا میں جو آوازیں اٹھ رہی ہیں اور 2 سال میں کایا پلٹی ہے کہ ایسی ایسی آوازیں جو حکومت کی حمایت کرتی تھیں، آج وہ ان کے سب سے بڑے ناقد بن گئے ہیں۔
رہنما مسلم لیگ(ن) نے کہا کہ مطیع اللہ جان نے میڈیا اور صحافت کی آزادی کے لیے پہلے بھی بات کی اور آج بھی بات کی اور میرا خیال ہے کہ کل (بروز بدھ) سپریم کورٹ میں توہین عدالت کے مقدمے میں ان کی پیشی بھی تھی۔ان کا کہنا تھا کہ ایسے موقع پر انہیں تحویل میں لینا، ان کی آواز کو، صحافت کی آواز کو خاموش کرنے کی ایک کوشش ہے جو ناکام ہوگی۔انہوں نے کہا کہ ہم بحیثیت پارٹی، اسمبلی کے اندر اور باہر آزادی اظہار رائےکی حمایت کریں گے کہ اس ملک میں ہر شخص کو جو بھی ضابطہ اخلاق ہے اس کے مطابق تقریر و تحریر کی آزادی ہونی چاہیے۔اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے خواجہ آصف نے مزید کہا کہ کوئی صحافی یا سیاسی کارکن، حکومت کے خلاف کچھ کہتا ہے اور اسے اس طریقے سے نشانہ بنایا جائے گا تو ہم بھی ان کی آواز کے ساتھ آواز ملائیں گے اور احتجاج کے تمام آپشنز استعمال کریں گے۔
خواجہ آصف نے کہا کہ جس طرح صحافت کا گلا گھونٹا جارہا ہے اس کی ایک مثال میر شکیل الرحمٰن کی نظر بندی ہے۔انہوں نے کہا کہ پجھلے 2 سال میں اور اس سے پہلے بھی صحافیوں کو سچ بولنے سے روکنے پر جس طرح کے ہتھکنڈے استعمال کیا گیا وہ ایک مہذب معاشرے میں نہیں ہوتے۔مسلم لیگ(ن) کے رہنما نے کہا یہ وقت ہے کہ ہم آئین میں درج آزادی اظہار رائے کے حق سے متعلق ذمہ داری کو پورا کریں گے، ہم نے حلف اٹھایا ہے اور اس ذمہ داری کو پورا کریں گے۔
اس موقع پر بات کرتے ہوئے احسن اقبال کا کہنا تھا کہ زبردستی، جبرکے ذریعے غیرآئینی طریقے سے بچوں کووالد سے جدا کیا گیا، یہ نقصان کون پورا کرے گا؟ مشرف کے دورمیں لوگ نیب کے آگے سجدہ ریزہوگئے، نوازشریف کے سپاہیوں کو آئین پاکستان، جمہوریت سے پیار ہے، خواجہ سعد،سلمان رفیق کوسولہ ماہ بیجا جیل میں رکھا گیا۔عدالتی فیصلے کے بعد دونوں بھائیوں کے سولہ ماہ کون لٹائے گا۔انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کی آوازکودبانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ نیب کے ذریعے سیاسی حقیقتیں بدلنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ سپریم کورٹ کے فیصلے نے(ن)لیگ کے موقف کی تائید کردی۔سابق وفاقی وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ ہم سب نے نیب کی غیرقانونی ڈٹیننش کاٹی، وقت آگیا ہے حکومت کوگھربھیجنا ضروری ہوگیا ہے، نالائق، کرپٹ حکومت ہے لوگوں کوآٹا، چینی نہیں مل رہی۔احسن اقبال کا کہنا تھا کہ فیصلہ کرنا ہوگا ہم نے ایک آئینی جمہوری ریاست یا پھینٹا کریسی بننا ہے، یہ پاکستان کوپھینٹا کریسی بنانا چاہتے ہیں، اپوزیشن کوپھینٹا لگانا چاہتے ہیں۔
میڈیا سے گفتگو کے دوران خواجہ سعد رفیق کا کہنا تھا کہ پاکستان بنانے والوں کی اولادوں کے ساتھ ریاست نے مسلسل بدسلوکی کی۔ عدالت کا یہی جملہ کافی ہے کیس انسانیت کی تذلیل ہے۔ انہوں نے کہا کہ بہت افسوس سے کہنا پڑتا ہے پاکستان میں یہ پہلی بارنہیں ہوا۔ ملک کے منتخب وزیراعظم کونکالا گیا۔ اس فیصلے کا مجھے ساڑھے تین سال سے انتظارتھا۔
