سپریم کورٹ کے حکم پر عملدرآمد کیا جائے گا

سندھ کے وزیر تعلیم و محنت سعید غنی نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ کے حکم پر عملدرآمد کرنے کے پابند ہیں۔
نجی چینل اے آر وائے سے گفتگو کرتے ہوئے سعید غنی نے کہا کہ سپریم کورٹ کے حکم پر عملدرآمد کرنے کے پابند ہیں، کوشش کریں گے کہ عملدرآمد ہو۔
قبل ازیں سپریم کورٹ نے حکومت کی جانب سے ہفتہ، اتوار کے روز مارکیٹس اور کاروباری سرگرمیاں بند رکھنے کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے ملک بھر میں شاپنگ مالز کھولنے کا حکم دیا تھا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ مارکیٹس اور کاروباری سرگرمیوں کو ہفتہ اتوار بند رکھنا آ ئین کی خلاف ورزی ہے، پنجاب اور اسلام آباد شاپنگ مالز کھولنے کا ارادہ رکھتے ہیں تو سندھ میں شاپنگ مالز بند رکھنے کی کوئی وجہ نظر نہیں آتی۔ عدالت نے کہا کہ سندھ شاپنگ مالز کھولنے کے لیے وفاقی حکومت سے رجوع کرے، اجازت کے بعد صوبے شاپنگ مالز کھولنے میں رکاوٹ پیدا نہ کریں۔
خیال رہے کہ گزشتہ روز حکومت سندھ نے شاپنگ مالز کھولنے اور دکانوں کے اوقات کار بڑھانے کے تاجروں کے مطالبات مسترد کرتے ہوئے کہا حکومتی قوانین کی خلاف ورزی پر سخت کارروائی عمل میں لانے کی تنبیہ کی۔
سندھ حکومت نے شاپنگ مالز کھولنے کے حوالے سے فیصلے پر نظرثانی کی یقین دہانی کرائی لیکن دکانوں کے اوقات 5بجے سے بڑھانے اور افطار کے بعد کاروبار کی اجازت دینے سے انکار کردیا بکہ بند کی گئی دکانیں بھی کھولنے کی اجازت دینے سے انکار کردیا۔ انہوں نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ 31 مئی تک کاروبار کے حوالے سے جو فیصلہ کیا گیا تھا ہم اس پر قائم ہیں لیکن اگر وزیر اعظم نے کسی فیصلے پر ازسرنو غور کرنا ہے تو مناسب طریقہ یہ ہے کہ قومی رابطہ کمیٹی کا اجلاس طلب کر کے فیصلے کا جائزہ لیں لیکن میٹنگ کے فیصلے کا جائزہ لینے کے بجائے خود سے کوئی فیصلے کرنا مناسب نہیں۔
دوسری جانب تاجر برادری نے سندھ حکومت کے احکامات کو ماننے سے انکار کرتے ہوئے کہا تھا کہ ہمارا حق ہے کہ ہم چاند رات تک کاروبار کریں اور اگر کوئی حق نہیں دے گا تو ہم حق چھیننا جانتے ہیں۔
کمشنر افتخار شلوانی کے دفتر میں ناکام مذاکرات کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے تاجر رہنماؤں نےشاپنگ مالز بھی کھولنے کا اعلان کیا تھا، انہوں نے کہا تھا کہ کل سے جیلیں بھر دیں گے لیکن کاروبار رات گئے تک کھلیں گے۔
انہوں نے کہا تھا کہ کراچی میں 40 فیصد شاپنگ مالز بند ہیں لیکن حکومت اور انتظامیہ نے ہمارے مطالبات ماننے سے انکار کردیا ہے۔
واضح رہے کہ صوبے میں کورونا وائرس کے بڑھتے کیسز کے پیش نظر سندھ حکومت نے 23 مارچ کی رات 12 بجے سے 15 روز کے لاک ڈاؤن کا اعلان کیا تھا۔
ابتدائی طور ہر صبح 8 بجے سے رات 8 بجے تک کاروبار کی اجازت دی گئی تھی لیکن بڑھتے ہوئے کیسز کے پیش نظر صرف شام پانچ بجے تک کاروبار کھولنے کا اعلامیہ جاری کیا گیا تھا جبکہ بعدازاں لاک ڈاؤن میں بھی 14 اپریل تک توسیع کردی گئی تھی۔ حکومت نے 15اپریل کو ایک مرتبہ پھر لاک ڈاؤن میں توسیع کا فیصلہ کیا تھا لیکن تاجروں کی جانب سے بڑھتے ہوئے دباؤ کے پیش نظر کچھ کاروبار کھولنے کی اجازت دی گئی تھی تاکہ تاجروں کی مشکلات کا کسی حد تک ازالہ کیا جا سکے۔اس سلسلے میں اشیائے خوردونوش، زراعت، صحت، توانائی، فلاحی تنظیموں، بینک، میڈیا سمیت چند دیگر شعبوں کو جزوی طور پر کھولنے کی جازت دی گئی تھی۔
بعدازاں ملک بھر میں وائرس کے پھیلاؤ اور کیسز کی بڑھتی ہوئی شرح کو دیکھتے ہوئے وفاقی حکومت نے لاک ڈاؤن میں 9مئی تک توسیع کردی تھی تاہم اب اس میں قدرے نرمی کرتے ہوئے 11مئی سے تاجروں کو کاروبار کی اجازت دے دی گئی تھی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button