سپر پاور امریکہ "پینڈو” طالبان سے کیسے ہار گیا؟


شلوار قمیض اور پگڑیوں میں ملبوس افغان طالبان کے ہاتھوں 20 برس طویل جنگ میں شکست کھانے کے بعد دنیا کی جدید ترین فوج، ٹیکنالوجی اور فضائیہ رکھنے والی سپر پاور امریکہ کے بارے میں یہ سوال کیا جا رہا ہے کہ وہ طالبان کو شکست کیوں نہیں دے پائی؟
سوال یہ بھی ہے کہ افغانستان میں آخر ایسی کیا بات ہے کہ اسے پوری دنیا ‘سلطنتوں کے قبرستان’ کے نام سے جانتی ہے؟ آخر امریکہ، برطانیہ، سوویت یونین سمیت دنیا کی تمام بڑی طاقتیں اسے جیتنے کی کوشش میں کیوں ناکام ہوئیں؟ یہ ایک ایسا سوال ہے جس کا جواب افغانستان کی تاریخ اور اس کے جغرافیائی محل و وقوع میں پوشیدہ ہے۔ 19 ویں صدی میں برطانوی سلطنت، جو اس وقت دنیا کی سب سے طاقتور سلطنت تھی، اس نے اپنی پوری طاقت سے اسے فتح کرنے کی کوشش کی۔ لیکن سنہ 1919 میں برطانیہ کو بالآخر افغانستان چھوڑ کر جانا پڑا اور افغانوں کو آزادی دینی پڑی۔
اس کے بعد سوویت یونین نے سنہ 1979 میں افغانستان پر حملہ کیا۔ اس کا ارادہ یہ تھا کہ سنہ 1978 میں بغاوت کے ذریعے قائم کی گئی کمیونسٹ حکومت کو گرنے سے بچایا جائے۔ لیکن انھیں یہ سمجھنے میں دس سال لگے کہ وہ یہ جنگ نہیں جیت پائیں گے۔ برطانوی سلطنت اور سوویت یونین کے درمیان ایک قدر مشترک ہے۔ جب دونوں سلطنتوں نے افغانستان پر حملہ کیا تو وہ اپنی طاقت کے عروج پر تھے۔ لیکن اس حملے کے ساتھ آہستہ آہستہ دونوں سلطنتیں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہونے لگیں۔ 2001 میں امریکی قیادت میں افغانستان پر حملہ ہوا اور کئی سالوں تک جاری رہنے والی جنگ میں لاکھوں افراد ہلاک ہوئے۔ اس حملے کے 20 سال بعد امریکی صدر جو بائیڈن نے افغانستان سے اپنی فوج کو واپس بلانے کا فیصلہ کیا ہے۔
یہ ایک متنازعہ فیصلہ تھا جس پر پوری دنیا میں شدید تنقید کی گئی۔ اس ایک فیصلے کی وجہ سے طالبان نے افغان دارالحکومت کابل پر انتہائی تیزی سے قبضہ کر لیا ہے۔ بائیڈن نے اپنے فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ امریکی شہریوں کو ‘ایسی جنگ میں نہیں مرنا چاہیے جسے افغان خود لڑنے کے لیے تیار نہ ہوں۔’ بائیڈن نے افغانستان کی ‘سلطنتوں کے قبرستان’ کے طور شہرت کو یاد کرتے ہوئے کہا: ‘ چاہے کتنی ہی فوجی قوت کیوں نہ لگا لیں ایک مستحکم، متحد اور محفوظ افغانستان کا حصول ممکن نہیں ہے۔’
سچ تو یہ ہے کہ حالیہ صدیوں میں افغانستان کو کنٹرول کرنے کی کوشش کرنے والی دنیا کی طاقتور فوجوں کے لیے یہ ایک قبرستان ہی ثابت ہوا ہے۔ ابتدا میں ان حملہ آور لشکروں کو کچھ کامیابی ملی ہو لیکن آخر میں انھیں افغانستان چھوڑ کر بھاگنا پڑا ہے۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ امریکہ کو افغانستان میں پہلی دفعہ شکست نہیں ہوئی۔ امریکہ میں اس بات پر اتفاق رائے ہے کہ دنیا کی یہ سب سے بڑی سپر پاور افغانستان، شام، عراق اور یمن میں دہشت گردوں کو جڑ سے اکھاڑنے میں ناکام رہی ہے۔ طالبان کی افغان جنگ میں فتح اور اقتدار میں واپسی امریکہ کی ناکامی کا سب سے بڑا ثبوت ہے۔
بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق تاریخ پر ایک نظر ڈالیں تو امریکہ سنہ 1945 تک تقریباً تمام بڑی جنگیں جیت چکا تھا، لیکن 1945 کے بعد سے امریکہ نے بہت کم جنگوں میں فتح حاصل کی ہے۔ امریکہ نے 1945 کے بعد سے پانچ بڑی جنگیں لڑی ہیں جن میں کوریا، ویت نام، خلیجی جنگ، عراق اور افغانستان شامل ہیں۔ اس کے علاوہ چند معمولی جنگیں بھی ہیں جن میں صومالیہ، یمن اور لیبیا کی جنگیں شامل ہیں۔ 1991 کی خلیجی جنگ کے علاوہ، جسے ایک کامیابی سمجھا جا سکتا ہے، امریکہ دیگر تمام جنگیں ہار چکا ہے۔
شکست ایک لگ چیز ہے لیکن جس طرح سے امریکی فوجی بن غازی، صومالیہ، سائیگون اور اب کابل سے بے بسی کی حالت میں واپس آئے ہیں اس نے امریکی شکست کو مزید شرمناک بنا دیا ہے۔ اب سوال یہنہے کہ آخر امریکہ جنگ کیوں ہار جاتا ہے؟ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس کی کئی وجوہات ہیں، جن میں مقامی ثقافت کو نہ سمجھنا اہم ہے۔
مغربی ایشیائی امور کے ماہر پروفیسر آفتاب کمال پاشا بھی امریکی شکست کی بڑی وجہ مقامی ثقافت کے بارے میں مضبوط فہم کا فقدان سمجھتے ہیں۔ انکامکہنا یے کہ ’امریکی دوسرے ممالک کی ثقافت کو نہیں سمجھتے اور قریب سے سمجھنا بھی نہیں چاہتے۔ ڈک چینی (امریکہ کے سابق نائب صدر)، ڈونلڈ رمز فیلڈ (امریکہ کے سابق وزیر دفاع) کھلے عام کہتے تھے کہ جب امریکی افواج بغداد میں داخل ہوں گی تو عراق کی شیعہ برادری صدام حسین کے خلاف بغاوت کر دے گی اور امریکی فوجیوں کا پھولوں کے ہاروں سے استقبال کرے گی۔ کہاں ہوا استقبال، کہاں ہوئی بغاوت؟ یہ عراق کے اندرونی معاملات اور وہاں کے سماج کے بارے میں ان کی بڑی غلط فہمی تھی۔’
پروفیسر پاشا افغانستان میں امریکہ کی شکست کی ایک اور مثال دیتے ہوئے کہتے ہیں: ’افغانستان میں ان کا سامنا مشکل علاقوں سے ہوا، ان وادیوں، پہاڑوں اور غاروں سے جہاں طالبان کے اڈے تھے اور ان سے طالبان پوری طرح شناسا تھے لیکن امریکی فوجی نہیں۔ چنانچہ افغانستان میں شکست کے بعد امریکہ کے سیکھنے کے لیے بہت سی چیزیں ہیں۔ سب سے اہم سبق یہ ہے کہ پہلی جنگ ختم ہونے سے پہلے دوسری جنگ شروع نہ کریں۔ اخلاقیات اور مذہبی جوش کی وجہ سے جنگ شروع نہ کریں اور اگر بات کرنے کا موقع ملے تو انکار نہ کریں۔
اسکے علاوہ جنگ کے لیے اپنے واضح اہداف مقرر کریں جو آپ حاصل کر سکتے ہیں کیونکہ جنگیں شروع کرنے کے بجائے انہیں ختم کرنا زیادہ مشکل ہوتا ہے۔

Back to top button