سہیل آفریدی کے آبائی علاقے میں فوجی آپریشن کی تیاری

 

خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی جانب سے صوبے میں دہشت گردوں کے خلاف کسی بھی فوجی آپریشن کی کھلی مخالفت کے باوجود فوجی قیادت نے وادی تیراہ میں آپریشن کا فیصلہ کرتے ہوئے مقامی آبادی کو علاقے خالی کرنے کا الٹی میٹم دے دیا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس فیصلے کے بعد سب سے پہلے نقل مکانی کا آغاز خود وزیر اعلیٰ آفریدی کے آبائی اور سیاسی حلقے سے ہوا ہے، اور ان کے رشتہ داروں نے نقل مکانی شروع کر دی ہے۔ یعنی ہاتھی کے دانت کھانے کے اور اور دکھانے کے اور نکلے۔

یاد رہے کہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کا تعلق قبائلی ضلع خیبر سے ہے اور انتخاب جیتنے کے فوراً بعد انہوں نے علاقے میں کسی بھی فوجی آپریشن کی کھلی مخالفت کا اعلان کیا تھا۔ سیاسی مبصرین کے مطابق یہ مؤقف پرو طالبان قبائل اور شدت پسند عناصر سے ہمدردی رکھنے والے حلقوں کی حمایت حاصل کرنے کی کوشش تھی۔ خود وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے ایک صحافی سے گفتگو میں کہا کہ نہ کابینہ نے کسی آپریشن کی اجازت دی اور نہ اسمبلی میں اس پر بحث ہوئی، تاہم ساتھ یہ اعتراف بھی کیا کہ ’یہ طاقتور لوگ ہیں، انہیں اجازت کی ضرورت نہیں ہوتی۔‘

میڈیا رپورٹس کے مطابق ضلع خیبر کی وادی تیراہ سے طالبان شدت پسندوں کو ختم کرنے کے لیے فوجی آپریشن کی تیاریاں مکمل ہو گئی ہیں جن کے پیشِ نظر نقل مکانی کا سلسلہ شروع ہو چکا ہے۔ تیراہ سے نقل مکانی کرکے پشاور پہنچنے والے بادشاہ خان نے بی بی سی کے نمائندے کو بتایا کہ علاقے میں آئے روز گولہ باری اور ڈرونز کے ذریعے بارودی مواد گرنے کے واقعات پیش آ رہے ہیں۔ انکا کہنا تھا کہ ہم سمجھ نہیں پا رہے تھے کہ کیا کریں، لہٰذا بزرگوں نے کہا کہ اب یہاں سے نکل جانا ہی بہتر ہے، انہوں نے کہا کہ علاقے میں کبھی جھڑپیں، کبھی کرفیو اور کبھی سرچ آپریشنز معمول بن چکے ہیں، جس سے شہریوں کی زندگی اجیرن ہو گئی ہے۔ بادشاہ خان جو ایک اسکول ٹیچر ہیں، کے مطابق 2025 کے دوران بیشتر تعلیمی ادارے بند رہے اور خوف کے باعث طلبہ کی حاضری انتہائی کم ہو گئی۔

جرگے کے رکن کمال الدین کے مطابق جرگے کے مطالبات تسلیم کیے جانے کے بعد نقل مکانی کا نوٹیفکیشن جاری کیا گیا، جس پر چیف سیکریٹری، کمشنر پشاور اور ڈپٹی کمشنر خیبر کے دستخط موجود ہیں۔ جرگے نے بتایا کہ نقل مکانی کرنے والے ہر خاندان کو ڈھائی لاکھ روپے نقد، پچاس ہزار روپے کرایہ مکان اور ٹرانسپورٹ سہولت فراہم کی جائے گی۔ خیمہ بستی کے بجائے نقد امداد دی جائے گی تاکہ لوگ کرائے کے مکانات حاصل کر سکیں۔ کمال الدین کے مطابق تیراہ میں تقریباً تیس ہزار خاندان آباد ہیں اور 25 جنوری تک مکمل انخلا کیا جائے گا جبکہ دو ماہ بعد واپسی کا عمل شروع ہوگا۔

پی ڈی ایم اے کے ایک عہدیدار نے تصدیق کی ہے کہ پائندہ چینا میں کیمپ قائم کیا گیا ہے اور رجسٹریشن جاری ہے، تاہم صوبائی حکومت کی جانب سے اب تک واضح پالیسی سامنے نہیں آئی۔ تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی اقبال آفریدی کے مطابق نہ تو منتخب نمائندوں کو اعتماد میں لیا گیا اور نہ ہی فوجی آپریشن یا نقل مکانی سے متعلق کوئی واضح نوٹیفکیشن جاری ہوا ہے۔ اگر وادی تیرہ میں طالبان کے عسکریت پسند موجود ہیں تو انہیں پکڑیں یا ماریں، لیکن سوال یہ ہے کہ علاقہ مکینوں کو بے گھر کیوں کیا جا رہا ہے؟‘

یاد رہے کہ وادی تیراہ ضلع خیبر کا اہم مگر دشوار گزار علاقہ ہے، جو سپین غر کے دامن میں واقع ہے۔ یہاں ماضی میں ٹی ٹی پی اور لشکرِ اسلام جیسی تنظیمیں متحرک رہی ہیں۔ 2008، 2013، 2016، 2020 اور 2022 میں بھی مختلف نوعیت کے آپریشنز کیے جا چکے ہیں، جن کے باعث بارہا نقل مکانی ہوئی۔ حالیہ مہینوں میں بھی فائرنگ، مبینہ فضائی حملوں اور مظاہرین پر فائرنگ کے واقعات پیش آئے ہیں، جن پر سرکاری سطح پر کوئی واضح وضاحت سامنے نہیں آئی۔
سیاسی اختلافات، صوبائی حکومت کی مخالفت اور بیانات کے باوجود زمینی حقیقت یہ ہے کہ وادی تیراہ میں فوجی آپریشن کے فیصلے پر عملدرآمد شروع ہو چکا ہے، اور اس کا پہلا اثر خود وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کے آبائی علاقے پر پڑا ہے، جہاں سے نقل مکانی کا سلسلہ خاموشی کے ساتھ مگر تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے۔

Back to top button