سیاحت پر پابندی ختم: موت کا فرشتہ بھی واپس آ گیا

حکومت پاکستان کی جانب سے سیاحت پر پابندی اٹھائے جانے کے بعد عوام پہاڑی علاقوں پر حملہ آور ہو گئے ہیں اور کرونا ایس او پیز کی دھجیاں اڑا کر رکھ دی ہیں جس کے بعد ان خدشات کا اظہار کیا جا رہا ہے کہ اگر موذی وائرس سے بچنے کے لیے احتیاط نہ کی گئی تو دیگر کئی ممالک کی طرح پاکستان میں بھی کرونا کی دوسری لہر کی صورت میں موت کا فرشتہ واپس آ سکتا ہے۔
اگر آپ کچھ لمحوں کے لیے گذشتہ چند ماہ کو بھول جائیں تو یقین مانئے نتھیا گلی اور مری میں کوئی ایسا منظر نہیں جو آپ کو یہ یاد کروائے کہ ہم سب اب بھی ایک موذی عالمی وبا کی زد میں ہیں۔ مری اور نتھیا گلی کے علاقے سیاحت کے لیے کھلے ہی تھے کہ ملک بھر سے سیاح پہاڑی علاقوں کی طرف امڈ آئے۔ سیاحت پر پابندی اٹھائے جانے کے بعد سے روزانہ اوسطاً 50 سے 60 ہزار گاڑیاں مری اور نتھیا گلی کا رخ کر رہی ہیں۔ بیشتر ہوٹلز میں فل بکنگ چل رہی ہے جبکہ دکانیں اور ریستوران بھی کھچا کھچ بھرے ہوئے ہیں۔ لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ کم ہی لوگ ماسک پہنے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں اور زیادہ تر کا یہ کہنا ہے کہ اب کرونا وائرس ختم ہو چکا ہے۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ کئی مہینوں سے لاک ڈاؤن اور سماجی فاصلے برقرار رکھنے کی پابندیاں شہریوں کے لیے ایک مشکل مرحلہ تھا۔ سیاحت پر پابندی ختم ہوتے ہی کئی لوگوں کا سیاحتی مقامات کی طرف چلے آنا بھی سمجھ میں آتا ہے، مگر بنیادی ایس او پیز کا خیال نہ رکھنے کا جواز بھلا کیا ہو سکتا ہے جب کہ اب بھی روزانہ کرونا سے درجنوں افراد کے مرنے کی خبریں رہی ہیں۔
کہنے کو تو سیاحتی سرگرمیوں پر عائد پابندی ’نو ماسک، نو ٹوئرزم‘ پالیسی کے تحت ہٹائی گئی تھی، مگر اب ان مقامات پر ایسے سیاح شاذ و نادر ہی نظر آتے ہیں جو اس پالیسی پر عمل کر رہے ہوں، بیشتر لوگ فی الحال ’نو ماسک‘ پالیسی پر ہی عمل پیرا ہیں۔ مری جیسے چھوٹے سے تفریحی مقام پر سماجی فاصلہ برقرار رکھنا بھی ایک بڑا مسلہ ہے کیونکہ پچاس سے ساٹھ ہزار گاڑیاں اگر ایک دن میں اس علاقے میں داخل ہوں تو اندازا دو سے ڈھائی لاکھ افراد ان میں سوار ہوتے ہیں۔ اب سوال یہ ہے کہ دو یا ڈھائی لاکھ افراد کیسے ایک دوسرے سے دو میٹر یا چھ فٹ کا فاصلہ قائم کر سکتے ہیں؟
سیاحت پر پابندی ختم کیے جانے کے بعد سے مری اور نتھیا گلی میں اس قدررش چل رہا ہے کہ تل دھرنے کو جگہ نہیں تھی۔ نتھیا گلی کی حسین بل کھاتی سڑک پر بادل آپ کے ساتھ ساتھ اڑتے ہیں۔ ان ہی مناظر سے لطف اندوز ہوتی کئی فیملیز سڑک کنارے باربی کیو پارٹی کرنے میں مگن نظر آتی ہیں، مری کے راستے میں کئی مقامات ’بندر پوائنٹس‘ ہیں جہاں بچے بندروں کو کھانا کھلانے میں مصروف نظر آتے ہیں جبکہ کہیں گھڑسواری بھی کی جارہی ہے۔ کئی ماہ بعد ایسے مناظر دیکھ کر آپ کو بھی اچھا لگے گا کہ وہ رونقیں جو کرونا وائرس کی وجہ سے ماند پڑ چکی تھیں، اب بحال ہو گئی ہیں۔
مگر یہ سب اس وقت تک ہی بھلا لگتا ہے جب تک آپ کسی ریستوران، بازار یا ریسٹ ایریاز میں داخل نہ ہو جائیں، کیونکہ یہاں کے مناظر سمجھ بوجھ رکھنے والے کسی بھی انسان کو مری سے واپس موڑ سکتے ہیں۔ اپنی صحت کے حوالے سے فکر مند افراد اس پریشانی میں مبتلا نظر آتے ہیں کہ عوام کے اس جمِ غفیر میں کھانا کہاں کھایا جائے۔انتظامیہ کی جانب سے ہدایات جاری کی گئی ہیں کہ ریستورانٹ اپنی مجموعی گنجائش سے پچاس فیصد کم افراد کو بیٹھنے کی اجازت دیں۔ یعنی کسی ریستورانٹ میں پچاس افراد کی بیٹھنے کا انتظام ہے تو ایک وقت میں صرف پچیس افرا د کو ہی کھانا پیش کیا جائے گا۔
مگر چھ ماہ بعد کھلنے والے ان ریستورانوں کے مالکان بھی شاید یہ سوچ رہے ہیں کہ جتنا کمایا جا سکتا ہے، کما لیا جائے اور سیاحوں کو بھی سماجی فاصلہ برقرار رکھنے کی پرواہ ہے نہ ہی وائرس کے پھیلاؤ کا خوف۔ ایسا لگتا ہے جیسے حکومتی ہدایات کے برعکس ریستورانوں نے اب تعداد نصف کرنے کی بجائے دگنی کر دی ہے۔
مری میں کچھ موجود بڑے ہوٹلز میں تو حکومت کے نافذ کیے گئے ایس او پیز کی پابندی کے انتظامات ہیں تاہم چھوٹے ہوٹلوں، ریستورانوں اور دیگر پکنک پوائنٹس پر ایسے کوئی انتظامات نہیں ہیں جس سے ان خدشات کا اظہار کیا جا رہا ہے کہ شاید کرونا وائرس اگلے چند ہفتوں میں دوبارہ سے سر اٹھانا شروع کر دے۔
