سیاست میں اپنے تایا نواز شریف کا شاگرد، حمزہ شہباز

پنجاب کے نئے وزیراعلیٰ شہباز کی سیاسی گرومنگ میں ان کے والد شہباز شریف سے زیادہ ان کے تایا نواز شریف کا کردار ہے، اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ سیاسی معاملات میں حمزہ والد سے زیادہ اپنے تایا کے قریب رہے اور نواز شریف نے بھی ان کی سیاسی تربیت پر خصوصی توجہ دی لیکن یہ بھی ایک دلچسپ اتفاق ہے کہ تایا کی تربیت میں رہنے کے باوجود مزاج کے اعتبار سے حمزہ اپنے والد شہباز شریف کے نقش قدم پر چلے، حمزہ شہباز اور ان کی کزن مریم نواز سیاست میں اگرچہ آگے پیچھے آئے لیکن زمانے کے اعتبار سے انھیں ہم عصر ہی سمجھا جائے گا۔ یوں ان دونوں کی شخصیت اور سیاست کو سمجھنے کے لیے ان کی شخصیت کے موازنے سے زیادہ مدد ملتی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ نواز شریف کے ہاتھوں حمزہ کی بھرپور سیاسی تربیت کے باوجود ان کی شخصیت کو شہباز کی شخصیت کی توسیع ہی سمجھا جاتا یے۔ سیاست میں شہباز شریف نے جس شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا، حمزہ شہباز نے پورے اعتماد اور جذبے کے ساتھ اسے آگے بڑھایا۔ ان کے مقابلے میں مریم نواز کی شخصیت کو جانچیں تو صاف دکھائی دیتا ہے کہ وہ اپنے والد کی طرح مکمل سیاست دان ہیں، کرشماتی اور کراؤڈ پلر، یوں اگر دیکھا جائے تو شریف برادران اور ان کی دوسری نسل کے درمیان مزاج اور کردار کی یہ تقسیم کار ان کی سیاست میں کامیابی کی ضمانت ہے۔
بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق مریم نواز اور حمزہ شہباز کے مزاجوں کے اس فرق نے شریف خاندان کی سیاست کے ایک یقینی نقصان کو فائدے میں بدل دیا۔ دونوں کزنز کے درمیان کارکردگی دکھانے کے سلسلے میں فطری طور پر مقابلہ آرائی کی فضا رہتی ہے۔ مسلم لیگ نون کی سیاست پر گہری نظر رکھنے والے صحافی سلمان غنی کہتے ہیں کہ ایک زمانے میں حمزہ اور مریم کے درمیان کارکردگی دکھانے کے سلسلے میں مسابقت کا سلسلہ ضرور جاری رہتا تھا لیکن اسی دوران انکی فطری صلاحتیں ان پر غالب آ جاتیں اور ان کی توجہ اپنے اپنے مزاج کے مطابق اپنی پسند کے شعبوں کی طرف مبذول ہو جاتی۔ اس طرح تقسیم کار بھی ہو جاتی اور کارکردگی میں بھی اضافہ ہوتا۔’
شریف خاندان کو قریب سے دیکھنے والے والے سینئر صحافی پرویز بشیر کہتے ہیں کہ حمزہ سیباز کو ہمیشہ مشکل ٹاسک ملا اور وہ اس میں سرخرو بھی ہوئے۔ پرویز بشیر کا یہ تبصرہ دراصل ان انتخابی معرکوں کی کہانی بیان کرتا ہے جن کی ذمہ داری انھیں سونپی گئی اور کامیابی نے ان کے قدم چومے۔ پرویز بشیر کے اس تجزئے کو سلمان غنی کے مشاہدے سے بھی تائید ملتی ہے۔ حمزہ اگر خود مختلف انتخابی معرکوں میں کامیاب ہوتے آئے ہیں تو اس کے پس پشت وہ انتخابی ماحول بھی قرار دیا جا سکتا ہے جس میں مسلم لیگ ن کو مجموعی طور پر بڑی کامیابیاں ملیں۔ حمزہ شہباز کی سیاسی و انتظامی مہارت اصل میں ضمنی انتخابات میں کھل کر سامنے آئی۔ اپنی اور مخالف حکومتوں کے دوران کئی مشکل ضمنی انتخابات کی ذمہ داری انھیں سونپی گئی۔ ایسی ذمہ داریاں انھوں نے خوش دلی سے قبول کیں اور کامیابی سے ہم کنار ہوئے۔
ضمنی انتخابات میں ان کی مہارت کی کئی داستانیں پنجاب کی سیاست میں یادگار ہیں لیکن سب سے نمایاں وہ انتخابی معرکہ ہے جو صوبے اور مرکز دونوں میں پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کے دوران ان کی قیادت میں کامیابی کے ساتھ لڑا گیا۔ 2018 کے انتخابات میں حمزہ شہباز قومی اور صوبائی دونوں اسمبلیوں سے کامیاب ہوئے تھے لیکن قیادت کے کہنے پر صوبائی نشست انھوں نے برقرار رکھی اور قومی اسمبلی کی نشست خالی کر دی۔ اس نشست سے سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کو ضمنی انتخاب لڑایا گیا جو مری سے اپنی آبائی اور اسلام آباد کی ایک نشست سے شکست کھا چکے تھے۔ یہ ایک مشکل ضمنی انتخاب تھا کیوں کہ ضمنی انتخاب میں عام طور وقت کی حکومت ہی کو کامیبابی ملتی ہے۔ حمزہ نے یہ مشکل چیلنج قبول کیا اور نمایاں فرق کے ساتھ اس میں شاہد خاقان عباسی کو کامیابی ہوئی۔ شاہد خاقان عباسی ہوں یا دیگر لوگ، خاص طور پر سیاسی مبصرین، وہ اس کامیابی کا کریڈیٹ کھلے دل کے ساتھ حمزہ شہباز کو دیتے ہیں۔
سیاست میں اپنے تایا یعنی میاں نواز شریف کا شاگرد بننے سے حمزہ کو دوہرا فائدہ ہوا۔ انتظامی مہارت اور کارکردگی تو والد کی طرف سے انھیں ملی تھی، تایا کی تربیت سے انھیں پارلیمانی سیاست اور اپنے پرائے سب کو ساتھ لے کر چلنے کی مہارت بھی میسر آگئی۔ اس طرح وہ شریف خاندان کی سیاست کے ایک اچھے اور لائق جانشین کے طور پر ابھرے۔ ان کی یہ مہارت اس حالیہ سیاسی بحران کے موقع پر بھی ابھر کر سامنے آئی۔ سردار عثمان بزدار کی سبکدوشی کے بعد اپوزیشن کی طرف سے چودھری پرویز الٰہی کو وزیر اعلیٰ بنانے کا فیصلہ ہوا تھا لیکن وہ پیچھے ہٹ گئے۔ پنجاب کی سیاست میں یہ مسلم لیگ اور اتحادی جماعتوں کے لیے ایک بہت بڑا خلا بلکہ چیلنج تھا۔ اس موقع پر حزب اختلاف کی قیادت نے پرویز الٰہی کے متبادل کی تلاش کے لیے اراکین اسمبلی پر نگاہ دوڑائی کہ اتنی مشکل میں کون اتنے مختلف الخیال اراکین اسمبلی کو اپنے گرد اکٹھا رکھ سکتا ہے؟
سلمان غنی کہتے ہیں کہ اس مشکل صورت حال میں دور دور تک حمزہ کے علاوہ کوئی دوسرا دکھائی نہیں دیتا تھا۔ یہ ایک ایسی حقیقت تھی جس سے اتحادی جماعتوں کو بھی اتفاق تھا۔’ حمزہ کی یہ مہارت اپنے دو بڑوں یعنی اپنے تایا اور والد، دونوں کی طرز سیاست کی دین ہے لیکن تقریر کا معاملہ ایسا ہے جس میں وہ مکمل طور پر اپنے تایا پر گئے ہیں۔ انھیں تقریر کرتے ہوئے دیکھیں تو اپنی حرکات و سکنات میں وہ میاں نواز شریف کی پیروی کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ انھیں دیکھ کر میاں نواز شریف کی جوانی کی تقریریں یاد آجاتی ہیں۔ قومی سیاست میں ان کا نام سب سے پہلے اس وقت نمایاں ہوا جب جنرل پرویز مشرف کے زمانے میں شریف خاندان کو سعودی عرب جلا وطن کیا گیا۔ شریف خاندان کے لیے وہ وقت یقیناً مشکل تھا لیکن حمزہ شہباز کے لیے زیادہ مشکل تھا۔ سبب یہ تھا کہ خاندان جلا وطن تھا اور وہ پاکستان میں تن تنہا تھے اور وہ بھی جنرل پرویز مشرف جیسے ڈکٹیٹر کی حکومت میں جو اس خاندان کی سیاست اور کاروبار دونوں کا خاتمہ کرنے کے درپے تھے۔ ان مشکل دنوں میں انھوں نے کاروبار اور جائیداد کی نگرانی بھی کی اور جیل بھی کاٹی۔ انھیں خاندان کے ضامن کے طور پر پاکستان میں ٹھہرایا گیا تھا جن کی ذمہ داری بہت سے دیگر کاموں کی انجام دہی کے علاوہ جائیداد کی فروخت کے ذریعے قرضوں اور جرمانوں کی ادائیگی بھی تھی۔
یہی زمانہ ان کی زندگی کی دوسری جیل یاترا کا بھی تھا۔ اس سے قبل وہ بے نظیر بھٹو کے دوسرے دور حکومت میں بھی جیل کاٹ چکے تھے۔ اس زمانے میں ان کے جیل کے ساتھیوں میں چودھری پرویز الٰہی بھی تھے۔ اڈیالہ جیل کی یہ قید ان کے لیے بڑی یادگار تھی۔ اسی زمانے میں چودھری خاندان، خاص طور پر چودھری پرویز الٰہی کے ساتھ ان کے قریبی تعلقات قائم ہوئے۔ یہ قربت اتنی گہری تھی کہ جب گھر سے کھانا منگوانے کے لیے یہ لوگ مل کر مینیو طے کرتے تو چودھری پرویز الٰہی کہا کرتے: ‘مینیو حمزہ صاحب کی مرضی سے بنے گا۔’ اڈیالہ جیل کی قید نے حمزہ اور چودھری پرویز الٰہی کو سیاسی اختلاف کے باوجود ہمیشہ قریب رکھا۔ پنجاب کی وزارت اعلیٰ کے انتخاب پر یہ پہلی بار ہوا ہے کہ یہ دونوں شخصیتیں یوں کھل کر ایک دوسرے کے سامنے آئی ہیں۔
یہ بھی سچ ہے کہ شریف خاندان میں حمزہ وہ پہلے اور واحد شخص ہیں جنھوں نے سب سے زیادہ جیلیں کاٹیں اور سب سے زیادہ قربانی دی۔ تجزیہ کار کہتے ہیں کہ پنجاب کی سیاسی اور انتظامی قیادت سنبھالتے ہوئے دو عوامل حمزہ شہباز کا راستہ آسان بنائیں گے۔ ان کے والد شہباز شریف کا شمار پنجاب کے کامیاب ترین وزرائے اعلیٰ میں کیا جاتا ہے۔ جس طرح کہا جاتا ہے کہ ہر کامیاب مرد کے پیچھے کسی عورت کا ہاتھ ہوتا ہے، بالکل اسی طرح شہباز شریف کی کامیابی کے پیچھے بھی ایک ہاتھ تھا اور یہ ہاتھ تھا حمزہ شہباز کا۔ شہباز شریف کو اپنی انتظامی سرگرمیوں اور ترقیاتی منصوبوں کی نگرانی اور ان کی بروقت یا وقت سے پہلے تکمیل میں آسانی میسر نہ آتی، اگر ان کے پیچھے حمزہ شہباز ان کے سیاسی معاملات نہ سنھبالتے۔
سلمان غنی کہتے ہیں کہ اس زمانے میں انھوں نے یہ سیکھا کہ ایک سیاسی شخصیت اور حکمراں کو کیسے اپنے سیاسی رفقا کو ساتھ لے کر چلنا ہے۔ کس طرح کے فیصلے کرنے سے حکومت کی مقبولیت میں اضافہ ہوگا اور سب سے اہم بات یہ کہ کوئی سیاسی سرگرمی کم خرچ بالانشین کیسے بنائی جاتی ہے۔ اس زمانے میں وہ اجلاسوں میں بھی بیٹھتے اور موقع و حالات کی مناسبت سے اہم فیصلے بھی کرتے۔ ان فیصلوں پر مہر اگرچہ شہباز شریف کی ہی ہوتی تھی لیکن حمزہ کو ان کے کریڈیٹ سے کوئی محروم نہیں کر سکتا۔ ہہی تجربہ ہے جس نے حمزہ شہباز کی سیاسی جڑیں گہری کیں، ان کے تعلقات میں وسعت پیدا کی اور ان کی قائدانہ صلاحیتیوں کو جلا بخشی۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ حمزہ اپنے والد کی طرح وزیر اعلی بن کر پنجاب کے عوام کی امیدوں پر پورا اتر پاتے ہیں یا نہیں؟
