شیخ چلی کے مزید جھوٹ

وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید بے بنیاد خبریں دینے اور لایعنی دعوے کرنے میں اپنا ثانی نہیں رکھتے۔ وہ سالہا سال سے اپنی جھوٹ کی دکان کھولے بیٹھے ہیں لیکن حالیہ دنوں میں انہوں نے اوپر تلے ڈھیر ساری جھوٹی کہانیاں میڈیا کے سامنے بیان کرکے اپنی رہی سہی ساکھ بھی مٹی میں ملا دی ہے تاہم بعض لوگوں کے لئے اپنی ساکھ سے اہم مخصوص ایجنڈے کی ترویج ہوتی ہے کیونکہ اسی کی بنیاد پر پر ان کی سیاست چلتی ہے۔
گزشتہ چند دنوں کے دوران شیخ رشید کے تین دعوے اوپر تلے غلط ثابت ہو چکے ہیں۔ چند روز قبل شیخ رشید نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ کوٹ لکھپت جیل میں قید ایک صاحبزادی سے موبائل فون برآمد ہوا ہے۔ اس موبائل فون سے ایسی ایسی معلومات ملی ہیں کہ اب ان لوگوں کا بچنا ناممکن ہو گیا ہے۔ شیخ رشید کا اشارہ واضح طور پر مریم نواز شریف کی طرف تھا جو چوہدری شوگر ملز کیس میں اس وقت کوٹ لکھپت جیل میں قید ہیں۔ تاہم وفاقی وزیر کے اس دعوے کی تردید پنجاب کے انسپکٹر جنرل جیل خانہ جات مرزا شاہد سلیم بیگ نے کردی۔ انہوں نے اپنے بیان میں یہ واضح کیا کہ کوٹ لکھپت جیل میں قید مریم نواز شریف کے ٹفن یا سامان میں سے کوئی موبائل فون برآمد نہیں ہوا۔ اس حوالے سے سے تمام خبریں بے بنیاد اور من گھڑت ہیں۔ شیخ رشید سے جب اس حوالے سے استفسار کیا گیا کہ شیخ صاحب آپ نے تو بہت بڑا دعویٰ کیا تھا کہ مریم نواز جیل میں بھی فون استعمال کرتی ہیں اور اب وہ فون ان سے برآمد ہو گیا جس سے بڑے بڑے انکشافات ہوئے۔ تاہم آئی جی جیل خانہ جات نے آپ کے دعوے کی تردید کر دی، اس پر آپ کیا کہیں گے ۔۔۔ شیخ رشید نے اس سوال کا جواب دینے سے ہی انکار کردیا۔
اس سے قبل شیخ رشید نے یہ دعوی کیا کہ مولانا فضل الرحمن آزادی مارچ اور لاک ڈاؤن نہیں کریں گے۔ شیخ رشید نے اپنی جانب سے یہ بریکنگ نیوز دی، تاہم اگلے ہی دن مولانا نے دھڑلے سے اعلان کیا کہ وہ 27 اکتوبر کو وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کی جانب لاکھوں کارکنوں کے ساتھ بڑھیں گے اور اب انہیں کوئی نہیں روک سکتا۔ شیخ رشید کی یہ خبر بھی باؤنس ہوگی اور جب ان سے پوچھا گیا کہ شیخ صاحب آپ نے کیا دعوی کیا اور مولانا نے مارچ اور لاک ڈاؤن کی تاریخ بھی دے ڈالی۔ کیا کہیں گے اس بارے میں۔ صحافی کے سوال کے جواب میں شیخ رشید نے کہا کہ پتا نہیں مولانا کو کہاں سے اشارہ ملا ہے۔ چوبیس گھنٹے پہلے تک تو مولانا کا یہی ارادہ تھا کہ وہ سڑکوں پر نہیں آئیں ھے، بعد میں نہ جانے کیوں ان کا ارادہ تبدیل ہوگیا۔
اسی طرح چند روز قبل شیخ رشید نے نے ایک بار پھر اپنا پرانا دعوی دہرایا کہ مسلم لیگ ن دو حصوں میں تقسیم ہو چکی ہے۔ ایک دھڑے کی قیادت نواز شریف جبکہ دوسرا دھڑا ان کے چھوٹے بھائی شہباز شریف کا ہے۔ تاہم شیخ رشید نے اپنے اس دعوے کی تردید خود ہی کر دی جب انہوں نے یہ کہا کہ شہبازشریف ڈبل شاہ نہ بنیں۔ ڈبل گیم کرنے کی بجائے وکٹ کے ایک طرف کھیلیں۔ اس کا مطلب صاف واضح ہے کہ شیخ رشید یہی کہنا چاہتے ہیں کہ میاں شہباز شریف اپنی رائے رکھتے ہیں لیکن وہ اپنے بھائی کے کہنے کے مطابق چلتے ہیں۔ شیخ رشید نے میاں شہباز شریف کو ڈبل شاہ کہہ کر اپنے دعوے کی خود ہی نفی کردی ہے کہ شہباز شریف نے اپنے بھائی سے جماعت الگ کر لی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button