سیاسی جلسوں میں خواتین کو ہراساں کرنے کے واقعات میں تیزی

https://youtu.be/A7w1Kd-SZes
ملکی سیاست میں تیزی آنے کے ساتھ ساتھ سیاسی اجتماعات میں خواتین کے ساتھ جنسی ہراسگی کے واقعات میں بھی تیزی آ گئی ہے۔سیاسی اجتماعات میں بڑھتے جنسی ہراسگی کے واقعات پر تمام سیاسی جماعتیں تشویش کا اظہار تو کر رہی ہیں لیکن ان کے سدباب کے لئے مروجہ قوانین سے فائدہ نہیں اٹھایا جارہا۔ اسی وجہ سے بدکردار لوگ اجتماعات میں خواتین کے ساتھ چھیڑ خانی سے باز نہیں آرہے اور یہ سلسلہ دراز ہورہا ہے۔
قانون کے مطابق اگر کوئی شخص کسی عورت کو عوامی اجتماع پر ہاتھ لگاتا ہے تو قانون کے تحت 354 سیکشن لگتا ہے جس کی سزا تین سال قید اور جرمانہ ہوتا ہے مگر المیہ یہ ہے کہ ایسے واقعات تسلسل کے ساتھ رونما ہونے کے باوجود اس جرم میں کسی شخص کو کبھی سزا نہیں ملی۔ اس کی بڑی وجہ مقدمہ درج نہ کروانا، تفتیش کا ناقص نظام اور منفی معاشرتی رویے ہیں۔
عوامی مقامات پر خواتین کو تو جنسی ہراسگی کا سامنا کرنا ہی پڑتا تھا تاہم اب پست سوچ کے حامل عناصر کی طرف سے سیاسی اجتماعات میں نہ صرف عام خواتیں بلکہ سیاسی جماعتوں کی مرکزی قیادت کو بھی ایسی صورٹھال کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ لاہور جلسے کے حوالے سے مختلف علاقوں میں منعقد مسلم لیگ ن کی ریلی میں جہاں لاہوریوں کا جوش و خروش دیدنی تھا وہیں جیالوں کی طرف سے اعلیٰ لیگی قیادت اور مرکزی خواتین رہنماؤں کو مختلف مقامات پر مشکل صورتحال کا سامنا کرنا پڑا۔مسلم لیگ ن کی رہنما مائزہ حمید کے مطابق حالیہ دنوں مریم نواز کی لاہور کی ریلی میں مردوں کے ہجوم نے مجھے اور ہماری ایک خاتون کارکن کو گھیر لیا تھا جس کی وجہ وہ خاصی خوفزدہ ہو گئی تھی۔ جب میں انھیں وہاں سے نکالنے کی کوشش کر رہی تھی تو کیمرہ مین نے ہماری مدد کرنے کے بجائے ہماری ویڈیو بنانے کو ترجیح دی۔ ہراسگی کے مذکورہ واقعے کی یہ ویڈیو وائرل بھی ہوئی جس میں اس واقعے کو رونما ہوتے دیکھا جا سکتا ہے۔مائزہ کہتی ہیں کہ انھیں سیاست میں کئی سال ہو گئے ہیں اور انھوں نے بہت سے جلسوں اور ریلیوں میں شرکت کی ہے لیکن کبھی ایسا واقعہ پیش نہیں آیا ہے۔تاہم ایسے واقعات جب بھی رونما ہوتے ہیں انھیں میڈیا سنسی خیز خبر بنا کر چلاتا ہے اور سیاسی جماعتیں انھیں سیاست کا رنگ دے دیتی ہیں۔ بیشتر افراد ایسے معاملات کو ہراساں کیے جانے کے زمرے میں نہیں لیتے ہیں
یہ عوامی اجتماعات، جلسوں، جلوسوں یا ریلیوں میں پیش آنے والا پہلا واقعہ نہیں ہے۔ اس سے قبل پاکستان کی حکمراں جماعت پاکستان تحریک انصاف کے جلسوں اور ریلیوں میں خواتین کے ساتھ ہراسانی کے واقعات کی ویڈیوز منظر عام پر بھی آئیں اور ایسے واقعات بھی رپورٹ ہوئے۔ پی ڈی ایم کے جلسے کی دعوت دینے کے لیے مسلم لیگ نواز کی رہنما مریم نواز لاہور کی ریلی میں ایک مقام سے گزریں تو ان کی کمر پر ایک شخص نے ہاتھ لگایا جس کے ردعمل میں مریم نواز کے کے گارڈز اور کارکنوں کی جانب سے اس شخص پر تھپڑ برسائے گئے۔ یہی نہیں کچھ دن پہلے مسلم لیگ ن کی ہی رہنما مریم اورنگزیب سے ایک ورکر نے ان کے ساتھ تصویر بنوانے کی فرمائش کی۔ انھوں نے اجازت تو دے دی مگر اس دوران اس شخص نے مریم اورنگزیب کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر تصویر بنوانے کی کوشش کی گئی تو انھوں نے اسے روک کر پیچھے کر دیا۔
ان واقعات کے حوالے سے ایک سیاسی کارکن کا کہنا تھا کہ سیاسی جلسوں میں جتنے بھی انتطامات کر لیے جائیں، مرد کارکنوں کی جانب سے خواتین کارکنوں کی ہراسانی ہوتی ہے۔ان کا مزيد کہنا تھا کہ اس بات کا اندازہ آپ ایسے لگا لیں کہ اس ملک کی طاقتور سیاسی رہنما، جن کے ساتھ گارڈ ہوتے ہیں، وہ بھی ایسے واقعات سے نہیں بچ پاتی ہیں۔ایک اور سیاسی ورکر کا کہنا تھا کہ میں نے اپنی جماعت کے ہر جلسے میں پیش پیش رہتی ہوں لیکن ایسے عناصر موجود ہوتے ہیں جو شاید آتے ہی اس لیے ہیں کہ خواتین کو ہراساں کریں گے۔میرے خود کے ساتھ ایک دو مرتبہ ایسے وقعات پیش آئے ہیں۔ جس کے بعد میں اپنے ساتھ چھڑی رکھتی ہوں۔
اس حوالے سے بات کرتے ہوئے سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا تھا کہ خواتین کو ہراساں کرنے کے خلاف قوانین موجود ہیں لیکن مسئلہ یہ ہے ان میں بہتری کے علاوہ ان پر عمل درآمد کروانے کے لیے مضبوط سسٹم موجود نہیں ہے۔ یہی نہیں بلکہ پارلیمنٹ میں بیٹھی خواتین کو، خواتین کے حق اور ہراسانی کے خلاف قوانین میں ترامیم اور نئے قواتین مرتب کرنے کے لیے کسی قسم کی قانونی معاونت اور پروفیشنل سپورٹ بھی نہیں فراہم کی جاتی ہے۔ جس کی وجہ سے زیادہ تر خواتین اس بارے میں کچھ کر نہیں پاتی ہیں۔ ان کے خیال میں ہراساں کرنے والے شخص کو قانون کے مطابق سزا لازمی ہونی چاہیے۔ ہمارے ہاں یہ ہوتا ہے کہ ایسے واقعات کے بعد پولیس ہی درمیان میں پڑ کر معافی تلافی کروا دیتی ہے۔ اس لیے بھی خواتین کھل کر نہیں بولتی ہیں کہ ہونا تو کچھ ہے نہیں اور پھر ایسے معاملات میں خواتین کا قصور بھی گنا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ بھی خاموشی کو ہی بہتر حل سمجھتی ہیں۔
سیاسی رہنماوں کے مطابق خواتین کو ہراساں کرنے کا رجحان بہت زیادہ ہے اور جو خواتین سیاست کے لیے نکلتی ہیں ان کے بارے میں یہ سوچا جاتا ہے کہ یہ ہمارے لیے ہی باہر نکلی ہیں جو ہمارے معاشرے کی سب سے بڑی بدقسمتی ہے۔خاتون کا تعلق کسی بھی سیاسی پارٹی سے ہو ، انکا احترام ہونا چاہیے لیکن پاکستانی مرد انھیں مال غنیمت سمجھتے ہیں۔ اس حوالے سے معاشرتی سوچ بدلنے کی ضرورت ہے۔ گھر میں موجود ہر بچے اور مرد کی یہ تربیت ہونی چاہیے کہ جتنی آپ کے گھر کی عورت قبل احترام ہے اتنی ہے گھر سے باہر موجود عورت بھی قابل عزت ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ عورتوں ہی نے عورت کی عزت کو بہت ہی سستا اور نازک بنا دیا ہے۔ جس کی وجہ سے ایسے وقعات پر خواتین خاموش ہو جاتی ہیں۔ زیادہ تر سیاسی ورکرز ایسے واقعات سے بچنے کے لیے کسی نہ کسی مرد یا فیلمی کے ساتھ جلسوں اور عوامی اجتماعات میں جانے تو ترجیح دیتی ہیں۔
خواتین کے قوانين سے متعلق بات کرتے ہوئے قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ پارلیمنٹ میں بیٹھی بیشتر خواتین مخصوص نشستوں پر آتی ہیں جس کی وجہ سے ان کے پاس قوانین کے حوالے سے زیادہ اختیارات نہیں ہوتے ہیں جبکہ اس وقت بھی پارلیمنٹ میں بیٹھی زیادہ تر خواتین عمر میں بھی بڑی ہیں اور وہ ہراسانی پر ویسے ہی بات کرنا ضروری نہیں سمجھتی ہیں۔یہی نہیں ہمارے ہاں قانون کی عمل داری کا نظام بھی ٹھیک نہیں ہے۔ اگر کوئی شخص کسی عورت کو عوامی اجتماع پر ہاتھ لگاتا ہے تو قانون کے تحت 354 سیکشن لگتا ہے جس کی سزا تین سال قید اور جرمانہ ہوتا ہے۔ ریکارڈ اٹھا کر دیکھ لیں کہ کتنے کیسز میں یہ سزائیں دی گئی ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button