سیاسی جماعتوں کو کرائے کے ورکر کیوں خریدنا پڑتے ہیں؟


سیاست میں بار بار کی فوجی مداخلت، عسکری نرسری کی پنیری سے سیاسی کٹھ پتلیوں کی پیدائش اور اسکے نتیجے میں کمزور ہوتی ہوئی سیاسی وفاداریوں کے پیش نظر ہمارا ملک تیزی سے کمٹڈ اور نظریاتی کارکنان کے قبرستان میں تبدیل ہوتا جا رہا ہے۔
ملکی، حکومتی اور سیاسی معاملات میں بڑھتا ہوا عسکری کرداراور سیاستدانوں کی ایک دوسرے کی نان سٹاپ کردار کشی کے نتیجہ میں اب سیاسی جماعتوں میں لیڈر کی ایک کال پر جمع ہونے اور جان کی بازی لگا دینے والے کارکنان بھی تیزی سے مفقود ہونا شروع ہوگئے ہیں۔ اس حوالے سے پیپلز پارٹی ،مسلم لیگ(ن) ، جماعت اسلامی اورعوامی نیشنل پارٹی سب سے زیادہ متاثر ہوئی ہیں۔ یہ سلسلہ الیکشن 2018 سے پہلے شروع ہوا جب مختلف جماعتوں کے کارکنان نے تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کرنا شروع کی جس کی بنیادی وجہ الیکشن کا موسم بھی تھا جس میں لوگ یہ فیصلہ کرتے ہیں کہ انہوں نے آئندہ پانچ سال کے لیے کس سیاسی جماعت کے ساتھ چلنا ہے۔ مختلف جماعتوں کے کارکنان کی جانب سے تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کرنے کی ایک وجہ یہ تاثر بھی تھا کہ عمران خان اقتدار میں آنے والے ہیں۔ ایک اور وجہ یہ تھی کہ پی پی پی اور نون لیگ سے مایوس ہو جانے والے سیاسی کارکنان کے پاس بھی آخری آپشن تحریک انصاف کی بچی تھی کیونکہ عمران خان کو پہلے آزمایا نہیں گیا تھا۔ لہذا بڑی تعداد میں مختلف جماعتوں سے تعلق رکھنے والے سیاسی کارکنان نے پی ٹی آئی میں شمولیت اختیار کی۔ ان میں وہ لوگ بھی شامل تھے جو الیکشن کے موسم میں مال بنانے کے لئے اپنی سیاسی وفاداریوں کا سودا کرتے ہیں لیکن یہ بھی سچ ہے کہ تحریک انصاف حکومت کی ناکامی کے بڑھتے ہوئے تاثر کے بعد مختلف سیاسی جماعتوں سے عمران خان کی جماعت میں شمولیت اختیار کرنے والے کارکنان کی ایک بڑی تعداد اب پارٹی کا ساتھ چھوڑ رہی ہے۔
شاید یہی وجہ ہے کہ قربانیاں دینے والے نظریاتی کارکنوں کے بد دل ہوجانے کے باعث کپتان اقتدار میں آنے کے بعد سے اب تک ملک کے کسی بھی کونے میں کوئی ایسا بڑا جلسہ نہیں کرسکے جیسا کہ وہ وزیر اعظم بننے سے پہلے کرتے رہے ہیں۔
اسی طرح اپوزیشن جماعتوں کے احتجاجی مظاہروں کے حاضرین کی تعداد بھی اب سکڑتی چلی جارہی ہے۔ ملک بھر میں سیاسی نرسریاں بند ہیں لیکن عسکری نرسریوں میں برائلر کارکنان اور سیاستدان تیار کرنے کا عمل جاری ہے۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ بڑی سیاسی جماعتوں میں انتخابی ٹکٹوں کی تقسیم کے عمل میں پیسہ اور رشتے داریاں چھا جانے سے سیاسی کارکنان کا بحران پیدا ہوگیا ہے۔بڑی سیاسی جماعتوں پیپلز پارٹی، مسلم لیگ(ن) ، جماعت اسلامی اورعوامی نیشنل پارٹی کے پاس گزشتہ 10سال میں مر مٹنے والے کارکنوں کی نئی کھیپ نہیں آئی، بیشتر وہی پرانے سیاسی کارکنان جو 1990 میں متحرک ہوئے تھے اب بھی متحرک نظر آتے ہیں۔ ان جماعتوں میں نیا خون شامل نہیں ہو رہا۔ ان حالات میں لگتا یہی ہے کہ ہماری سیاسی جماعتوں کو مستقبل میں کمٹڈ اور نظریاتی کارکنوں کی مزید کمی کا سامنا کرنا پڑے گا ، سیاسی جماعتوں کو ابھی سے اس کمی کا احساس ہونے لگا ہے خاص طور پر جب انہیں اپنے جلسوں جلوسوں کو کامیاب بنانے کے لیے کرائے کے ورکرز حاصل کرنے پڑتے ہیں۔ پہلے سیاسی جلسوں میں دریاں اور کرسیاں کارکن بچھاتے تھے، اب ان کا کمرشل معاوضہ دیا جانے لگا ہے۔ ان حالات میں سمجھنا چاہیئے کہ سیاسی جماعتوں نے قربانیاں دینے والے نظریاتی کارکنوں کی عزت نفس بحال نہ کی تو آنے والے سالوں میں سیاسی جماعتوں کیلئے جلسے کرنا بہت مشکل ہو جائے گا، یہی حال اب تحریک انصاف کا بھی ہونے لگا ہے ، آج بیشتر سیاسی جماعتوں کے کارکنان نالاں دکھائی دیتے ہیں، گزشتہ 20 سال میں تحریک انصاف کے جو کارکنان فرنٹ فٹ پر تھے وہ اب پیچھے ہٹتے دکھائی دینے لگے ہیں، انہیں بھی پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے کارکنوں کی طرح یہ اعتراض ہے کہ نظریاتی اور پرانے لوگوں کی بجائے پجارو اور لینڈ کروزر مافیا سے تعلق رکھنے والے سیاسی لوٹوں کو آگے لایا جا رہا ہے اور انہیں پیچھے کیا جا رہا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button