سیف ہاؤس سے فرار ہونے والے احسان اللہ کا اگلا نشانہ بلاول کیوں؟


پاکستانی سیکیورٹی اداروں کی حراست سے پر اسرار حالات میں فرار ہو جانےوالے تحریک طالبان پاکستان کے سابق ترجمان احسان اللہ احسان نے جہادی فرنٹ پر دوبارہ متحرک ہوتے ہوئے بلاول بھٹو کو جان سے مارنے کی دھمکی دے دی ہے جس کے بعد پیپلز پارٹی نے مطالبہ کیا ہے کہ اس خطرناک ترین دہشتگرد کے فرار کے ذمہ داران کو فوری بے نقاب کرتے ہوئے احسان اللہ احسان کو گرفتار کیا جائے۔
خیال رہے کہ ہتھیار ڈالنے کے بعد کئی برسوں سے ریاستی اداروں کی مہمان نوازی سے مستفید ہونے والے سابق طالبان ترجمان احسان اللہ احسان سیکیورٹی اہلکاروں کو ماموں بناتے ہوئے خفیہ آپریشن کے بہانے 11 جنوری 2020 کے روز پراسرار طور پر فرار ہو گیا تھا۔ منصوبہ بندی کے تحت ہی احسان اللہ احسان نے فرار ہونے سے 10روز قبل اپنے بیوی بچوں کو اپنے والدین سے ملوانے کے بہانے ساتھ لیا اور 11 جنوری 2020 کو پشاور میں اپنے سرکاری سیف ہاوس کے پچھلے دروازے سے فرار ہوگیا۔ بعد ازاں سینکڑوں پاکستانیوں کے قتل کی ذمہ داری قبول کرنے والے احسان نے انکشاف کیا تھا کہ اس نے پانچ فروری 2017 کو ایک معاہدے کے تحت خود کو پاکستان کے خفیہ اداروں کے حوالے کر دیا تھا۔ اس نے تین برس تک اس معاہدے کی پاسداری کی لیکن سیکیورٹی اداروں نے اسے بیوی بچوں سمیت قید کر لیا تھا۔ ان تین برسوں میں پاکستانی فوج نے کیے گئے وعدے پورے نہیں کیے اور معاہدے کی خلاف ورزی کی جس پر اس نےفرار ہونے کا فیصلہ کیا اور پھر 11 جنوری 2020 کو وہ حراست سے نکلنے میں کامیاب ہوگیا۔
فرار کے بعد اپنے ایک آڈیو پیغام میں اس نے مزید کہا کہ وہ پاکستانی اداروں اور فوج کے بارے میں اوراپنی گرفتاری، اداروں سے ہونے والے معاہدے اور پھر فرار کے حوالے سے مزید تفصیلات دے گا اور بہت سے چہروں کو بے نقاب کرے گا۔ پہلے پہل تو حکومتی ذمہ دارن کی طرف سے اس واقعہ پر خاموشی رکھی گئی تاہم بعد ازاں اپوزیشن کی طرف سے اسمبلی فلور پر احسان اللہ احسان کے فرار بارے جواب طلب کرنے پر اس کے فرار کی تصدیق کر دی گئی۔
دوسری طرف پشاور آرمی پبلک سکول کے سانحے میں شہید ہونے والے سو سے زائد طالب علموں کے والدین نے الزام عائد کیا تھا کہ احسان اللہ احسان ریاستی اداروں کی حراست سے فرار نہیں ہوا بلکہ اسے فرار کروایا گیا ہے۔ انھوں نے سپریم کورٹ سے اس حوالے سے شفاف تحقیقات کرانے کا مطالبہ بھی کیا تھا تاہم اب تک ریاستی ادارے کسی فورم پر بھی یہ جواب نہیں دے سکے کہ آخر اتنی کڑی نگرانی کے باوجود سینکڑوں معصوم پاکستانیوں کے قتل کی ذمہ داری قبول کرنے والا احسان اللہ احسان ان کی حراست سے کیسے فرار ہوا؟ اس حوالے سے عدلیہ نے بھی خاموشی اختیار کر رکھی ہے اور سانحہ آرمی پبلک اسکول کے متاثرین کی جانب سے احسان کے فرار بارے دائر کردہ رٹ پٹیشن بھی سردخانے میں ڈال دی گئی ہے۔
اب احسان اللہ احسان کا ایک دھمکی آمیز ٹوئٹ سامنے آیا ہے جس میں اس نے پیپلز پارٹی کے چئیرمین بلاول بھٹو کو قتل کی دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ تمہارا انجام بھی تمہاری ماں جیسا ہو گا۔ احسان نے دراصل یہ دھمکی ٹویٹر پر بلاول بھٹو کے ایک بیان کے ردعمل میں دی ہے جس میں بلاول نے وزیر اعظم عمران خان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا تھا کہ آپ اسامہ دہشت گرد اسامہ کو شہید مانتے ہو اور شہید بے نظیر بھٹو کو شہید نہیں کہتے۔ اپنے ٹویٹ میں احسان نے بلاول کو جواب دیتے ہوئے لکھا کہ تمھارا حال بھی تمھاری ماں جیسا ہوگا۔ بلاول بھٹو کو دھمکی دیتے ہوئے سابق طالبان ترجمان کا کہنا تھا کہ اس ملک کی بقا کی خاطر اسلام پسندوں نے قربانیاں دی ہیں اور آپ جیسے بے مذہبوں نے لوٹ مار کے کھیل کھیلے۔
سینکڑوں پاکستانیوں کے قتل کی ذمہ داری قبول کرنے والے احسان اللہ احسان نے دھمکی دیتے ہوئے بلاول کو کہا کہ ہم ملک کی نظریاتی سرحدوں کی حفاظت کی خاطر تم جیسوں سے لڑتے رہیں گے اور تمہارا انجام بھی تمہاری امی جیسا ہو گا۔ یاد رہے کہ محترمہ بے نظیر بھٹو کی شہادت کا الزام تحریک طالبان پاکستان کے بانی سربراہ بیت اللہ محسود پر عائد ہوا تھا لیکن پیپلز پارٹی نے یہ الزام لگایا تھا کہ جنرل پرویز مشرف نے بی بی کو ختم کرنے کے لیے جہادیوں کو استعمال کیا۔
پیپلز پارٹی نے بلاول بھٹو کو قتل کی دھمکی دینے کا معاملہ ہر سطح پر اٹھانے کا فیصلہ کرتے ہوئے سابق ترجمان پر ایف آئی آر کے اندراج کیلئے کمیٹی تشکیل دے دی ہے اور حکومت سے اس حوالے سے وضاحت طلب کر لی ہے۔ پارٹی رہنماوں کو قومی اسمبلی، سینیٹ اور صوبائی اسمبلیوں میں اس حوالے سے آواز بلند کرنے کی ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔ پیپلز پارٹی کی طرف سے احسان کی دھمکی آمیز ٹوئیٹ کی ٹائمنگ پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا گیا ہے کہ چند روز قبل بلاول بھٹو کی طرف سے حکومتی نااہلی اور کرپشن سامنے لائی گئی ہے اور اب احسان اللہ احسان کی دھمکی سامنے آ گئی ہے۔ لگتا ہے عمران خان اور دہشت گرد آپس میں بھائی بھائی ہیں۔ پارٹی رہنما نفیسہ شاہ نے کہا ہے کہ احسان اللہ احسان کی ٹویٹ الارمنگ ہے، اگر یہ حراست میں تھا تو ریلیز کیسے ہوا، اس کو دوبارہ گرفتار کیوں نہیں کیا جا سکا۔ انہوں نے کہا کہ اس دھمکی پر ہم چپ نہیں رہیں گے اور یہ معاملہ ہر سطح پر اٹھائیں گے۔
دوسری طرف سکیورٹی اداروں کا کہنا ہے کہ وہ احسان اللہ احسان کو گرفتار کرنے کے لیے ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں لیکن اب تک اس کا سراغ نہیں مل پایا۔ دوسری طرف احسان اللہ احسان اپنے ویڈیو پیغام میں بتا چکا ہے کہ وہ پاکستان چھوڑ چکا ہے اور آج کل ترکی کے مضافات میں مقیم ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button