سینٹورس مال کیخلاف ایکشن کا آغاز عمران حکومت نے کیا

معلوم ہوا ہے کہ شہباز شریف حکومت پر انتقامی کاروائی کا الزام لگانے والے آزاد کشمیر کے وزیر اعظم سردار تنویر الیاس کے اسلام آباد میں واقع سینٹورس پلازہ کے خلاف قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی پر کارروائیوں کا آغاز عمران دور حکومت میں ہوا تھا۔ بنیادی وجہ یہ تھی کہ سنٹورس شاپنگ مال کی بیسمینٹ کو کار پارکنگ کے لیے استعمال کرنے کی بجائے وہاں پر دفاتر تعمیر کر دیے گئے تھے چنانچہ کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے بلڈنگ کنٹرول سیکشن نے انہیں غیر قانونی قرار دے کر ان دفاتر کا استعمال ترک کرنے کیلئے پہلا نوٹس جاری کیا۔ لیکن جب سینٹورس مال انتظامیہ نے کوئی جواب نہ دیا تو سی ڈی اے نے پہلے ایک شوکاز نوٹس جاری کیا اور پھر مال کو سربمہر کرنے کا نوٹس دے دیا۔ یہ تمام نوٹسز عمران کے دور حکومت میں جاری کیے گئے مگر ان پر کوئی عملی کارروائی نہیں کی گئی۔ اسکے بعد شاپنگ مال کو ایک اور نوٹس جاری کر کے پوچھا گیا کہ سینٹورس کی انتظامیہ نے کملپیشن سرٹیفیکیٹ لئے بغیر اس کا استعمال کیوں شروع کیا۔

یہ نوٹس عمران خان دور حکومت کے دوران 25 اکتوبر 2019 کو جاری کیا گیا۔ اس نوٹس میں کہا گیا کہ بیسمنٹ نمبر ایک میں غیر قانونی طور پر دفاتر اور سٹور قائم کئے گئے ہیں۔ بیسمنٹ نمبر دو میں غیر قانونی کنٹین بنائی گئی ہے۔ بیسمنٹ نمبر تین میں غیر قانونی مینٹینینس سٹور اور مینجمنٹ آفس قائم کئے گئے ہیں۔ بیسمنٹ نمبر چار میں ویئر ہاؤس اور سٹور بنا یا گیا ہے۔ اس نوٹس میں مذید کہا گیا کہ آپ یہ خلاف ورزی 15دن کے اندر ختم کر دیں ورنہ سی ڈی اے آپ کے خلاف قانونی کاروائی کرنے کا مجاز ہوگا۔ اس کے بعد 28 دسمبر 2020 کو بھی نوٹس جاری کیا گیا۔31 مارچ 2021 کو یہی نوٹس دوسری بار بھیجا گیا اور دوبارہ ہدایت کی گئی کہ اس خلاف ورزی کو ختم کیا جائے۔ 11 اکتوبر 2021 کو بھی نوٹس جاری کیا گیا جس میں یہ خلاف ورزی دہرائی گئی اور گزشتہ دونوں نوٹسز کا حوالہ دے کر خلاف ورزی ختم کرنے کی ہدایت کی گئی لیکن سردار تنویر الیاس کے کان پر جوں تک نہ رینگی۔

عمران حکومت ختم ہونے سے پہلے 18 فروری 2022 اور پھر 3 مارچ 2022 کو بھی سینٹورس مال کی انتظامیہ کو شوکاز نوٹس جاری کیے گئے اور یاد دہانی کروائی گئی کہ سی ڈی اے کے احکامات پر عمل درآمد نہیں کیا گیا۔ اس دوران عمران حکومت کا خاتمہ ہوگیا اور نئی حکومت کے تحت سی ڈی اے نے اپنی پرانی کارروائی جاری رکھی جس سے اب سردار تنویر الیاس نے شہباز حکومت کی انتقامی کارروائی قرار دے دیا ہے۔

Back to top button