سینٹ اجلاس، مشاہد اللہ نے عمران خان کو بھکاری اعظم قرار دے دیا

مسلم لیگ ن کے رہنما مشاہد اللہ خان نے وزیر اعظم عمران خان کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے منگتا قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کا لیڈر منگتا تھا، نوازشریف سے مانگنے جدہ، لندن اور جاتی عمرہ جاتا تھا.سینیٹ میں آٹا بحران پر بحث کے دوران وزیراعظم عمران خان پر تنقید کرنے کے معاملے پر مسلم لیگ (ن) کے مشاہد اللہ خان اور تحریک انصاف کے سینیٹر فیصل جاوید آمنے سامنے آگئے۔
سینیٹ اجلاس میں میں آٹا بحران پر بحث کے دوران لیگی سینیٹ مشاہد اللہ خان کا کہنا تھا کہ آٹا اور چینی چوری کرنے پر یہ لوگ عوام سے معافی مانگیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ واجد ضیاء نے آٹا بحران کی تحقیقات کرکے رپورٹ دے دی ہے، جس میں 3 نام دئیے ہیں، رپورٹ میں ایک خاتون اور 2 مردوں کے نام ہیں، ساری دنیا کو آٹا اور چینی چور کا پتہ لگ گیا ہے۔
مشاہد اللہ کا کہنا تھا کہ آپ سلیکٹڈ ہیں، آپ کا کیا جاتا ہے، جو خرچے دیتے ہیں، ان کی ملز تو لگیں گی، گلی کوچوں میں جائیں، دیکھیں لوگ آپ کے بارے میں کیا کہتے ہیں، اسٹیڈیم میں چینی چور کے نعرے لگتے ہیں۔
انہوں نے وزیراعظم عمران خان پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ان کا لیڈر منگتا تھا، نوازشریف سے مانگنے جدہ، لندن اور جاتی عمرہ جاتا تھا، 5 یا 10فیصد شوکت خانم کو دیتا، باقی جیبوں میں رکھ لیتا تھا۔انہوں نے مزید کہا کہ سلیکٹڈ وزیراعظم چوروں کا وزیراعظم ہے۔
وزیر اعظم پر تنقید ہوئی تو حکومتی سینیٹر فیصل جاوید مشاہد اللہ خان کی جانب لپکے، سینیٹ کی سیکیورٹی نے حکومتی اور اپوزیشن بینچز کے درمیان حصار بنا لیا۔ سینیٹر فیصل جاوید نے مداخلت کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایوان کی توہین ہے، معافی مانگیں، جس پر مشاہداللہ نے کہا کہ یہ سارے مل کر ہم سے آٹا چوری، چینی چوری اور دوائی چوری پر معافی مانگیں گے۔اس دوران اجلاس میں اپوزیشن بینچز سے آٹا چور اور چینی چور کے نعرے لگتے رہے۔
خیال رہے کہ گزشتہ ماہ ملک بھر میں گندم کے بحران کے باعث آٹے کی قیمت 70 روپے فی کلو تک جا پہنچی تھی۔ بحران پر قابو پانے کے لیے اقتصادی رابطہ کمیٹی نے 3 لاکھ میٹرک ٹن گندم درآمد کرنے کی منظوری دی تھی۔ وزیراعظم عمران خان نے آٹے کے بحران اور قیمتوں میں اضافے کا نوٹس لیتے ہوئے تحقیقاتی کمیٹی قائم کی تھی اور وزراء کو بحران کی وجوہات جاننے کا ٹاسک سونپا تھا۔ ذرائع کے مطابق وزیراعظم عمران خان کو ملک میں جاری آٹا بحران سے متعلق بھجوائی گئی رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ آٹا بحران باقاعدہ ایک منصوبہ بندی کے تحت پیدا کیا گیا جس میں افسران اور بعض سیاسی شخصیات بھی ملوث ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button