سینڈک منصوبہ کورونا وائرس کے باوجود جاری ہے

ایم سی سی ریسورس ڈیولپمنٹ لمیٹڈ (ایم آر ڈی ایل) کے چیئرمین ہی زوپنگ کا کہنا ہے کہ کورنا وائرس کے باوجود سینڈک تانبے اور سونے کا منصوبہ جاری ہے۔
کمپنی کی جانب سے جاری بیان میں انہوں نے کہا کہ پاکستان کی کل افرادی قوت میں سے صرف نصف یا 900 سے کم ملازمین اس منصوبے پر کام کر رہے ہیں کیوں کہ اس سال کام کرنے والوں کی شدید قلت تھی۔ ہی زوپنگ نے کہا کہ اس وبائی مرض کے دوران اس منصوبے میں کام کرنے والے ملازمین کے مسلسل کام کرنے کے وقت کی بنیاد پر کمپنی نے ماہانہ 30 سے 105 ڈالر اضافی الاؤنس فراہم کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا سیندک منصوبہ کان کنی، اور دھات نکالنے پر مشتمل ہے، یہاں اگر پیداوار کے ایک حصے کو بھی اہلکاروں کی کمی کا سامنا ہو تو سارا منصوبہ بند ہوجائے گا۔
انہوں نے کہا کہ ایک بار جب منصوبے کی پیداوار رک جاتی تو اس کی پیش گوئی نہیں کی جاسکتی کہ وبا کے دوران اس کا دوبارہ آغاز کب ہوگا۔ انہوں نے متنبہ کیا کہ پاکستانی ملازمین کی ایک بڑی تعداد اپنی ملازمت سے محروم ہوجائے گی اور اس کے ساتھ ساتھ آمدنی میں بھی کمی آئے گی۔ ان کے مطابق ایم آر ڈی ایل شفٹوں میں کام پر زور دے رہا ہے کیوں کہ جنوری سے 600 کے قریب ملازمین چھٹیوں پر گئے ہوئے تھے اور اب تک 191 ملازمین کام پر واپس آئے ہیں جن میں سے 109 قرنطینہ میں رہنے کے بعد صحت مند حالت میں تھے۔ انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ ہر ہفتے تقریبا 55 افراد سینڈک میں واپس آتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اس کمپنی نے بلوچستان حکومت کی ہدایات کے مطابق کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے اور ان پر قابو پانے کے لیے زبردست کوششیں کی ہیں۔ ہی ژوپنگ کا کہنا تھا کہ ”کورونا وائرس کے اختتام کا ابھی تک معلوم نہیں ہوسکا ہے اور یہ منصوبہ دور دراز کے علاقے میں ہے جس میں طبی سہولیات محدود ہیں جس کی وجہ سے کمپنی نے پاکستان میں محکمہ صحت کے معیار کے مطابق ملازمت پر واپس آنے والے ملازمین کے لیے معیاری آپریٹنگ طریقہ کار وضع کیا ہے’۔ انہوں نے کہا کہ پرانے ہاسٹل کے علاقے میں قریب 120 قرنطینہ کمروں کی تزئین و آرائش کی گئی جو رہائشی علاقے سے 3 کلومیٹر دور اور سینڈک میں منصوبے کے علاقے میں ہے۔
