سینیٹرسیف اللہ ،حامدزمان کو حفاظتی تحویل میں لینے کی تصدیق

وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ نے تحریک انصاف کے سینیٹر سیف اللہ نیازی اور رہنما حامد زمان کو حفاظتی تحویل میں لینے کی تصدیق کر دی۔

اسلام باد میں پریس کانفرنس میں انہوں نے تصدیق کی کہفارن فنڈنگ کیس میں پیش نہ ہونے پر پی ٹی آئی کے دونوں رہنماؤں کو حفاظتی تحویل میں لیا گیا،اور ضروری ہوا تو ضابطے کی کارروائی پوری کر کے گرفتار بھی کیا جائے گا۔

قبل ازیں وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے پاکستان تحریک انصاف کے رہنماؤں کے دعوے کی تردید کی تھی جس میں انہوں نے کہا تھا کہ سینیٹر سیف اللہ نیازی کو اسلام آباد سے حراست میں لیا گیا۔ رابطہ کرنے پر بھی ایف آئی کے حکام نے تردید کرتے ہوئے کہا تھا کہ سینیٹر سیف اللہ نیازی کو حراست میں لینے کی خبریں میڈیا پر نشر کی جا رہی ہیں، ایف آئی اے نے انہیں گرفتار نہیں کیا۔

جس کے کچھ دیر بعد ترجمان ایف آئی اے کے بیان میں بتایا گیا کہ سینیٹر سیف اللہ خان نیازی کی سینیٹ کے احاطے سے ایف آئی اے کی جانب سے گرفتاری کی خبریں بے بنیاد ہیں۔

ترجمان ایف آئی اے بیان کے مطابق سینیٹر سیف اللہ نیازی کو اب تک ایف آئی کے کسی بھی ونگ نے گرفتار نہیں کیا،الیکٹرانک اور سوشل میڈیا پر گرفتاری کے حوالے سے چلنے والی خبروں کی ایف آئی اے سختی سے ترید کرتا ہے۔

ادھر ایف آئی اے نے فارن فنڈنگ کیس میں پی ٹی آئی کے بانی رہنما حامد زمان کو لاہور سے گرفتار کرنے کی تصدیق کی۔

پی ٹی آئی رہنمارہنما فواد چوہدری نے گرفتاریوں کی مذمت کی ہے۔ ایک ٹویٹ میں انہوں نے لکھا کہ ملک میں اتنی بڑی فسطائیت کبھی نازل نہیں ہوئی، اس سے زیادہ توہین پارلیمنٹ کی ہو نہیں سکتی، چیئرمین سینیٹ کم از کم غیرت کا مظاہرہ کریں اور اس عمل کا نوٹس لیں۔

دریں اثنا پی ٹی آئی رہنما افتخار درانی نے ایک ٹویٹ کے ذریعے اطلاع دی تھی کہ سینیٹر سیف اللہ نیازی کو سینیٹ کے احاطے سے اغوا کر لیا گیا ہے، پہلے بھی ان کے گھر پر حملہ کیا گیا تھا اور ذاتی سامان تحویل میں لیا گیا تھا۔

اس کے علاوہ ایف آئی اے کی ٹیم پی ٹی آئی کے سینیٹر طارق شفیع کو گرفتار کرنے کے لیے گزشتہ روز سے ان کے گھر پر موجود تھی،ایف آئی اے کے مطابق طارق شفیع کے خلاف کروڑوں روپے کی منتقلی کے مقدمے میں سرچ آپریشن جاری ہے اور ان کے سرچ وارنٹ بھی موجود ہیں۔سینیٹر طارق شفیع پی ٹی آئی میں فنانس بورڈ کے رکن ہیں۔

Back to top button