سینیٹر مرزا محمد آفریدی بھی کرونا وائرس کا شکار

ایوان بالا (سینیٹ) کے آزاد سینیٹر مرزا محمد آفریدی بھی کورونا وائرس کا شکار ہوگئے۔
خیال رہے کہ یہ ان سیاست دانوں میں سے ایک ہی جو حال ہی میں اس وائرس سے متاثر ہوئے ہیں جبکہ ملک میں مجموعی طور پر ساڑھے 14 ہزار سے زائد افراد وائرس کا شکار ہوچکے ہیں۔سابق فاٹا سے تعلق رکھنے والے مرزا محمد خان آفریدی نے ایک بیان میں کہا کہ وہ گزشتہ ہفتے پشاور گئے تھے، جہاں انہوں نے مختلف علاقوں میں راشن بیگ تقسیم کیا تھا۔انہوں نے بتایا کہ کچھ دن پہلے انہیں بخار اور جسم میں درد محسوس ہوا اور پھر انہوں نے ‘حفاظتی اقدامات’ کے طور پر اپنا ٹیسٹ کروایا، جس کا نتیجہ آج مثبت آگیا۔مرزا محمد خان آفریدی کا کہنا تھا کہ وہ اس وقت لاہور میں اپنے گھر میں آئیسولیشن میں ہیں اور بہتر محسوس کر رہے ہیں تاہم مجھ سے ملاقات کرنے والے بھی اپنا ٹیسٹ ضرور کروالیں۔
ادھر سینیٹ کے ڈپٹی چیئرمین سلیم مانڈوی والا نے مرزا محمد آفریدی سے رابطہ کرکے ان کی صحت کے بارے میں دریافت کیا۔مزید برآں پیپلزپارٹی کی سینیٹر شیری رحمٰن نے بھی مرزا آفریدی کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا اور امید ظاہر کی کہ وہ جلد ہی مکمل صحتیاب ہوں گے۔اپنے ایک ٹوئٹ میں انہوں نے لکھا کہ میری ان (مرزا آفریدی) سے بات ہوئی اور وہ کافی پرامید نظر آئے۔شیری رحمٰن نے لکھا کہ وہ نوجوان ہیں اور انشااللہ اس وائرس کا مقابلہ کرسکتے ہیں۔
خیال رہے کہ مرزا محمد خان آفریدی پہلے سیاست دان نہیں جو اس وائرس سے متاثر ہوئے بلکہ اس سے قبل سندھ کے گورنر، قومی اسمبلی و صوبائی اسمبلی کے رکن، صوبائی وزیر بھی وائرس سے متاثر ہوچکے ہیں۔
گزشتہ روز سندھ کے گورنر عمران اسمٰعیل نے بھی خود میں وائرس کی تشخیص ہونے کی تصدیق کی تھی۔اسی سلسلے میں آج وزیراعظم عمران خان نے بھی ٹوئٹ کی اور لکھا کہ وہ عمران اسمٰعیل کی وائرس سے جلد شفایابی کے لیے دعا گو ہیں۔
خیال رہے کہ رواں ماہ میں ہی متحدہ مجلس عمل کے رکن قومی اسمبلی منیر خان اورکزئی اور خیبرپختونخوا کے ڈائریکٹر آف پبلک ہیلتھ ڈاکٹر اکرام اللہ خان کو بھی کورونا وائرس ہوا تھا، علاوہ ازیں گزشتہ ہفتے وزیر صحت خیبرپختونخوا نے بتایا تھا کہ ان کے معاون خصوصی کامران خان بنگش بھی کووڈ 19 کا شکار ہوگئے۔ساتھ ہی انہوں نے ان کی جلد صحتیابی کے لیے بھی دعا کی تھی۔یہی نہیں بلکہ گزشتہ ماہ ضلع مردان سے منتخب رکن صوبائی اسمبلی عبدالسلام آفریدی بھی کورونا وائرس کا شکار ہوئے تھے۔اس سے قبل سندھ کے وزیر تعلیم سعید غنی کا بھی کورونا کا ٹیسٹ مثبت آیا تھا تاہم بعد ازاں ان کا ٹیسٹ منفی آگیا تھا اور وہ کام پر دوبارہ آگئے تھے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button