سینیٹ اجلاس میں ارکان نے عدلیہ و ججز پراعتراضات اٹھا دیئے

سینیٹ اجلاس میں ارکان نے عدلیہ و ججز پر اعتراضات اٹھاتے ہوئے سلیکٹو جسٹس اور توہین عدالت میں تفریق کے الزامات عائد کردیے۔
قائم مقام چیئرمین سیدال خان کی زیر صدارت سینیٹ اجلاس ہوا تاہم بعدازاں سینیٹر شیری رحمان نے ایوان کی کارروائی کو چلایا۔
سینیٹر فیصل سبزواری کا کہنا تھا کہ فیصل واوڈا نے کل ایک اہم نکتہ اٹھایا، ایسا لگتا ہے لاکھوں ووٹ لینے والے اراکین پارلیمنٹ کے علاوہ سب کی عزت ہے ، آئین صرف ججوں کی عزت کی بات نہیں کرتا بلکہ اراکین پارلیمنٹ کی عزتوں کی بات بھی کرتا ہے۔
سینیٹر محسن عزیز نے کہاکہ جب ہماری پارٹی کو جھنڈا لگانے کی اجازت نہیں تھی کسی نے آواز نہیں اٹھائی، سینیٹر چوہدری اعجاز کے کئی مرتبہ پروڈکشن آرڈر جاری کئے، اس ایوان میں بارہ لوگوں کی موجودگی میں الیکشن میں تاخیر کا بل پاس کیا گیا تو کیا یہ پارلیمنٹ کی عزت تھی؟ ایک چیف جسٹس نے کہا الیکشن کروائے جائیں تو اس پر عمل نہیں کیا گیا، ایک جج کے پاس کون سی فورس ہوتی جو وہ اپنے فیصلے پر عمل کرائے، پارلیمنٹ کی توقیر کا آئین کے حوالے سے تحفظ کرنا بہت ضروری ہے، اس کو ذاتی ایجنڈا نا بنایا جائے، جب ذاتی ایجنڈوں پر بات ہوتی ہے تو ہمیں طیش آتا ہے۔
لیگی سینیٹر طلال چودھری نے کہا کہ پوری مہذب دنیا میں توہین عدالت کا قانون ختم ہوچکا ہے، کسی مہذب دنیا میں عدالتیں کسی عام شہری کو بھی نوٹس نہیں کرتیں، آئین بنانے والوں کو سزا دینے سے نہیں آئین توڑنے والوں کو سزا دینے سے عدلیہ کا وقار بڑھے گا۔
جے یو آئی کے سینیٹر کامران مرتضی نے کہا کہ تاثر مل رہا ہے یہ اجلاس بلانے کا مقصد ایک ہی ہے، ایک سپریم کورٹ اور کچھ ہائی کورٹس کے ججز آج بھی نشانے پر ہیں، شاید وجہ یہ ہے کہ کوئی فیصلہ یا ریمارکس نہ آئے، لگتا ہے کچھ ججز کیخلاف ایک پراکسی شروع ہوئی ہے اور ہم بھی اسی کیساتھ چل رہے ہیں ۔
سینیٹر ایمل ولی خان نے بھی کہا کہ لگتا ہے اس اجلاس کو خاص اس مقصد کیلئے بلایا گیا ہے کہ ہم اس ایوان سے عدلیہ، ججز کو جواب دہ بنائیں، آج ایک دفعہ پھر پارلیمان استعمال ہورہا ہے، جو استعمال کررہے اس کی بات نہیں ہورہی، یہ ملک اس لئے نہیں بنا کہ بندوق والے حکمران ہوں بلکہ آپ محافظ ہیں۔
سینیٹر کامران مرتضی نے کہا کہ سابق سینیٹر مشتاق احمد غزہ بچاؤ تحریک چلا رہے ہیں ، ان کی تحریک کے کارکنوں پر گاڑی چڑھائی گئی ہے اور دو افراد جاں بحق ہوگئے ہیں۔
چیئرپرسن شیری رحمان نے کہا کہ اس معاملے پر وزیرداخلہ سے رپورٹ طلب کرلیتے ہیں۔
وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے وضاحت کی کہ حکومتی نمائندے کے حوالے سے کہنا چاہتا ہوں اداروں میں ٹکراؤ کی صورتحال نہیں، چیف جسٹس آف پاکستان ایک متحمل اور بیلنسڈ جج ہیں، آئین پاکستان کسی عدالت کو یہ اختیار نہیں دیتا کہ وہ غصے میں آکر جو مرضی کہہ دے، پارلیمان ایک سپریم ادارہ ہے، میں امید رکھتا ہوں چیف جسٹس شفافیت کو سامنے رکھ کر کیس پر فیصلہ کریں گے۔
سینیٹر شیری رحمان نے سینیٹر فیصل واوڈا کا معاملہ سینیٹ سیکرٹریٹ کو بھجواتے ہوئے ہدایت کی کہ سینیٹ سیکرٹریٹ اس معاملے پر اپنی رپورٹ بناکر چئیرمین سینٹ کو ارسال کرے۔
