سینیٹ اجلاس میں نیپرا بل اپوزیشن کے احتجاج کے باوجود منظور

سینیٹ اجلاس کے دوران بجلی کی پیداوار، ترسیل اور تقسیم کی ریگولیشن میں ترمیم کا بل اپوزیشن کے احتجاج کے باوجود منظور کرلیا گیا۔
سینیٹ اجلاس کے دوران نیپرا بل پیش کیا گیا جس کے ایجنڈا میں شامل نہ ہونے پر اپوزیشن نے شدید احتجاج کیا۔
بل میں کہا گیا کہ صارفین کے مفاد میں نیپرا بجلی کی ترسیل سے وابسطہ پبلک سیکٹر لائسنس یافتہ کمپنی کے لیے یکساں ٹیرف مقرر کرے گی۔
کہا گیا کہ منظور شدہ ٹیرف یا یکساں ٹیرف کے حوالے سے نوٹی فیکشن 30 روز کے اندر جاری کیا جائے گا اور اگر وفاقی حکومت نیپرا کے مقرر کردہ ٹیرف کا نوٹی فیکشن مقررہ وقت میں جاری نہیں کرتی یا نظر ثانی کا نہیں کہتی تو نیپرا اپنی سفارش کے فوری اطلاق کی تجویز دے سکتا ہے جس پر وفاقی حکومت 30 روز کے اندر نیپرا کو ٹیرف پر نظر ثانی کا کہہ سکتی ہے۔
کہا گیا کہ نیپرا سہ ماہی بنیاد پر منظور شدہ ٹیرف میں ایڈجسمنٹ کر سکتی ہے جس پر وفاقی حکومت 15 روز کے اندر نظر ثانی کی ہدایت دے سکتی ہے۔
یہ ایڈجسمنٹ ٹرانسمیشن چارجز، تقسیم کے نقصانات، مرمت کی مد میں کی جا سکتی ہے، نیپرا ماہانہ بنیاد پر فیول چارجز کی مد میں منظور شدہ ٹیرف میں ایڈجسمنٹ کر سکتی ہے۔
اس حوالے سے قائمہ کمیٹی کی رپورٹ میں کہا گیا کہ ملک بھر میں بجلی کے یکساں ٹیرف کا نفاز ہو گا، ملک بھر میں مختلف ٹیرف وصول نہیں کیے جائیں گے۔
بل پر بات کرتے ہوئے پیپلز پارٹی کے سینیٹر رضا ربانی نے کہا کہ بل کے مطابق اتھارٹی خود سے نوٹی فیکشن جاری کر دے گی، یہ بین الاقوامی مالیاتی ادارواں کے ایما پر کیا جا رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ نوٹی فیکشن کا حق صرف وفاقی حکومت کے پاس رہنا چاہیے۔
مجرمانہ معاملات پر باہمی قانونی تعاون کا ترمیمی بل منظور
علاوہ ازیں اجلاس کے دوران مجرمانہ معاملات پر باہمی قانونی تعاون کا ترمیمی بل اپوزیشن کی مخالفت کے باوجود کثرت رائے سے منظور کرلیا گیا۔
سینیٹ میں پیش کیے گئے اس ترمیمی بل پر جماعت اسلامی سے تعلق رکھنے والے سینیٹر مشتاق احمد نے ترامیم پیش کرتے ہوئے کہا کہ ‘ہم بھی چاہتے ہیں ملک ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ سے نکالنے چاہتے ہیں، لیکن غلامانہ قانون سازی نہیں ہونی چاہیے’۔
ان کا کہنا تھا کہ ‘آئین اور بنیادی حقوق کے خلاف قانون سازی نہیں ہونی چاہیے ، حکومتی ترمیم کے تحت آپ نوٹس دیے بغیر کسی کو اٹھا لیں گے’۔
انہوں نے کہا کہ ‘ریاست کو اغواگیر، ڈاکو بنایا جارہا ہے اور اس کے ذریعے شکیل آفریدی، کلبھوشن یادیو کے لیے راہ ہموار کی جارہی ہے’۔
انہوں نے کہا کہ ‘میں ترمیم پیش کرتا ہوں کہ کسی پاکستانی کو بغیر نوٹس گرفتار نہ کیا جائے اور نہ ہی کسی کے حوالے کیا جائے ‘۔
تاہم ان کی ترمیم کثرت رائے سے مسترد کردی گئی۔
بعد ازاں سینیٹر مشتاق احمد بل کی منظوری کے بعد ایوان سے واک آوٹ کر گئے۔
مجرمانہ معاملات پر باہمی قانونی تعاون کے ترمیمی بل میں کہا گیا کہہ ‘جرم سے مراد وہ جرم ہے جو تعزیرات پاکستان یا کسی اور قانون کے تحت قابل سزا ہو یا اُس ملک کے قانون کے تحت قابل سزا ہو جس سے باہمی قانونی تعاون کیا جا رہا ہے’۔
کہا گیا کہ ‘باہمی قانونی تعاون کی تمام درخواستوں پر مرکزی اتھارٹی تیزی سے عملدرآمد اور فیصلہ کرے گی اور قانون سے وہ دفعات حذف کر دی جائیں گی جس کے مطابق وفاق صوبے یا مقامی اتھارٹی سے وسائل پر اضافی بوجھ کے باعث قانونی معاونت سے انکار کر سکتے ہیں’۔
جعلی شناختی کارڈز کے اجرا پر توجہ دلاؤ نوٹس
اجلاس کے دوران کالعدم تنظیموں اور غیر ملکیوں کو نادرا کی جانب سے جعلی شناختی کارڈز کے اجرا پر متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) کے سینیٹر فیصل سبزواری توجہ دلاؤ نوٹس دیتے ہوئے کہ وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) کے ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) سندھ نے انکشاف کیا ہے کہ سندھ میں 50 فیصد نادرا اہلکاروں اور افسران نے جعلی شناختی کارڈز بنائے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ‘این ڈی ایس، دشمنی ایجنسی، کالعدم تنظیموں کے جعلی شناختی کارڈز بنائے گئے ہیں اور 30 سے 40 لاکھ غیر ملکیوں کے شناختی کارڈز بنائے گئے ہیں ‘۔
انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ نادارا کے ان افراد کو بے نقاب کیا جائے اور برطرف کیا جایے جن لوگوں نے یہ کارڈ بنائے ہیں اور جعلی شناختی کارڈز بلاک کیے جائیں۔
اس پر حکومتی بینچز سے علی محمد خان نے جواب دیتے ہوئے ڈی جی کا بیان ان کی زبان پھسلنا بھی ہو سکتا ہے، معلوم نہیں ایک ذمہ دار شخص ایسا بیان کیسے دے سکتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ‘سندھ میں 40 لاکھ جعلی شناختی کارڈز کی بات کی گئی، ہمارے ریکارڑ کے مطابق 2018 سے اب تک کراچی میں 5 لاکھ، سندھ میں 23 لاکھ سے زائد شناختی کارڈز جاری کیے گئے ہیں’۔
انہوں نے کہا کہ ‘کیسے ممکن ہے کہ 40 لاکھ جعلی شناختی کارڈ جاری ہوں جب کہ کل 29 لاکھ شناختی کارڈزجاری کئے گئے ہیں تاہم پھر بھی غلط کام ہوئے ہیں’۔
انہوں نے مزید کہا کہ نادرا سندھ کے 39 ملازمین کو معطل کیا گیا، علاقائی ڈی جی کو او ایس ڈی بنایا گیا اور 10 افراد کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی ہیں۔
بعد ازاں ڈپٹی چئیرمین سینیٹ مرزا آفریدی نے معاملے کو متعلقہ قائمہ کمیٹی کے سپرد کر دیا
