سینیٹ انتخابات: اوپن بیلٹ کیلیے سپریم کورٹ میں ریفرنس دائر

حکومت نے سینیٹ الیکشن اوپن بیلٹ سے کرانے کے لیے سپریم کورٹ میں ریفرنس دائر کردیا۔
صدرمملکت نے سینیٹ کے الیکشن پر شو آف ہینڈز کے معاملے پر سپریم کورٹ کی رائے مانگ لی ہے، صدر مملکت نے آرٹیکل 186 کے تحت سپریم کورٹ میں ریفرنس بھجوانے کی وزیراعظم کی تجویزکی منظوری دے دی ہے اور آرٹیکل 186 کے تحت ریفرنس پر دستخط کردیے جس کے بعد حکومت نے سینیٹ الیکشن اوپن بیلٹ سے کرانے کے لیے ریفرنس سپریم کورٹ میں دائر کردیا ہے۔
صدر مملکت نے سینیٹ کے الیکشن میں اوپن بیلٹ، شو آف ہینڈز کے معاملے پرسپریم کورٹ کی رائے مانگی ہے جو آئین میں ترمیم کیے بغیر الیکشن ایکٹ 2017 کے سیکشن (6) 122 میں ترمیم کے لیے مانگی گئی ہے۔حکومتی ریفرنس میں مؤقف اختیار کیا گیا ہےکہ سینیٹ انتخابات کا طریقہ کار آئین میں واضح نہیں ہے، سینیٹ کا انتخاب الیکشن ایکٹ 2017 کے تحت کرایا جاتا ہے، سینیٹ کا الیکشن اوپن بیلٹ کے تحت ہوسکتا ہے اور اوپن بیلٹ سے سینیٹ الیکشن میں شفافیت آئے گی۔وفاقی حکومت کا کہنا ہےکہ سینیٹ میں خفیہ بیلیٹنگ سے ارکان کی خریدوفروخت میں منی لانڈرنگ کااستعمال ہوتا ہے اور خفیہ ووٹنگ سے سینیٹ الیکشن کے بعد شفافیت پرسوال اٹھائے جاتے ہیں۔
صدر مملکت عارف علوی نے سینیٹ انتخابات اوپن بیلٹ اور شو آف ہینڈز کے ذریعے کروانے کے معاملے پر سپریم کورٹ کی رائے طلب کی ہے۔پریس انفارمیشن ڈپارٹمنٹ سے جاری ایک بیان کے مطابق صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے آئین کے آرٹیکل 186 کے تحت سپریم کورٹ میں ریفرنس بھجوانے کی وزیرِ اعظم کی تجویز کی منظوری دے دی اور ریفرنس پر دستخط کر دیے۔بیان میں کہا گیا کہ صدر نے وزیرِ اعظم کی تجویز پر سینیٹ کے الیکشن اوپن بیلٹ یا شو آف ہینڈز کے ذریعے کرانے کے عوامی اہمیت کے معاملے پر سپریم کورٹ کی رائے مانگی ہے۔بیان کے مطابق سپریم کورٹ کو ارسال کردہ ریفرنس میں آئین میں ترمیم کیے بغیر الیکشن ایکٹ 2017 کی دفعہ 122 (6) میں ترمیم کرنے پر عدالت عظمیٰ کی رائے مانگی گئی ہے۔
خیال رہے کہ 15 دسمبر کو وفاقی حکومت نے سینیٹ انتخابات فروری میں کروانے اور اوپن بیلٹ کے معاملے پر سپریم کورٹ کا مشاورتی دائرہ کار لاگو کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔یہ انتخابات ایوان بالا کی 52 نشستوں پر ہوں گے کیوں کہ 104 اراکین سینیٹ 11 مارچ کو ریٹائر ہوں گے۔کابینہ اجلاس کے دوران آئین کی دفعہ 186 کے تحت سپریم کورٹ کی رائے حاصل کرنے کی تجویز اٹارنی جنرل پاکستان خالد جاوید خان نے دی تھی۔کابینہ کو بریفنگ دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ اگر الیکشن کمیشن کے شیڈول کردہ انتخابات کے انعقاد سے قبل ایک آرڈیننس کے ذریعے الیکشن ایکٹ 2017 کی دفعہ 112(6) میں ترمیم کردی جائے تو سینیٹ انتخابات خفیہ بیلیٹ کے بجائے کھلے عام رائے شماری کے ذریعے کیے جاسکیں گے۔ان کا کہنا تھا کہ تاہم معاملے کی حساسیت اور اس حقیقت کو مدِ نظر رکھتے ہوئے کہ سینیٹ انتخابات میں ابھی کافی وقت ہے حکومت آئین کی دفعہ 186 کے تحت سپریم کورٹ میں ریفرنس دائر کر کے اس معاملے پر وضاحت لے سکتی ہے۔اٹارنی جنرل کے مطابق یہ ضروری تو نہیں لیکن چونکہ معاملہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے جو سینیٹ کے افعال متاثر کرے گا اس لیے سپریم کورٹ کی رائے لینا دانشمندانہ فیصلہ ہوگا۔
اس سے قبل وزیراعظم نے ایک بیان میں اپنی حکومت کی جان سے سینیٹ انتخابات خفیہ رائے شماری کے بجائے ہاتھ دکھا کر کروانے کی خواہش ظاہر کی تھی۔بعدازاں سابق وزیر پارلیمانی امور اعظم خان سواتی نے کہا تھا کہ کہ سینیٹ انتخابات کے لیے حکومت آئینی ترمیم نہیں لائے گی اور موجودہ الیکشن ایکٹ کے تحت ہی کوئی قانون منظور کرائیں گے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button