سینیٹ الیکشن میں واوڈا اور گیلانی کو ٹکٹ دینے پر تنقید

پاکستان میں آئندہ ماہ ہونے والے سینیٹ انتخابات کے لیے تمام جماعتوں نے اپنے نامزد امیدواروں کی فہرست جاری کر دی ہے جس کے بعد سے کچھ ناموں پر مختلف وجوہات کی بنا پر سیاسی حلقوں اور سوشل میڈیا پر تبصرے کیے جا رہے ہیں۔ ان ناموں میں جہاں ایک جانب پاکستان تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی اور وفاقی وزیر برائے آبی وسائل فیصل واوڈا پر تنقید ہو رہی ہے وہیں پاکستان پیپلز پارٹی کے رکن اور سابق وزیرِاعظم یوسف رضا گیلانی کا نام بھی زیر بحث ہے۔ ادھر حکمران جماعت پی ٹی آئی نے گذشتہ روز سے سامنے آنے والی تنقید کے بعد بلوچستان سے سینیٹ کے لیے امیدوار عبدالقادر سے ٹکٹ واپس لے کر ظہور آغا کو جاری کر دیا ہے۔ وزیراعظم عمران خان کے معاون خصوصی برائے سیاسی روابط ڈاکٹر شہباز گل نے اس بات کا اعلان ایک ٹویٹ کے ذریعے کیا۔
تاہم فیصل واوڈا کو سینیٹ کا ٹکٹ دینے پر اپوزیشن جماعتوں کے اراکین کے علاوہ سوشل میڈیا پر بھی خاصی تنقید کی جا رہی ہے۔ اس کی ایک وجہ ان پر الیکشن کمیشن میں گذشتہ ڈھائی برسوں سے دوہری شہریت سے متعلق نااہلی کا زیر سماعت کیس ہے۔ اپوزیشن جماعتوں کا مؤقف ہے کہ انھیں سینیٹ کا ٹکٹ اس لیے دیا گیا تاکہ انھیں اس مقدمے سے بچایا جا سکے جبکہ ادھر پی ٹی آئی کا مؤقف یہ ہے کہ انھیں سینیٹ میں ایک ’دبنگ` آواز کی ضرورت ہے۔
اس حوالے سے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے پاکستان مسلم لیگ نون کے رکنِ قومی اسمبلی اور سابق وزیرِاعظم شاہد خاقان عباسی کا کہنا ہے کہ فیصل واوڈا کو ٹکٹ دینے کی وجہ بڑی سادی سی ہے۔ ’ان کے خلاف (دوہری شہریت کا) مقدمہ بہت مضبوط ہے لیکن ڈھائی سال سے اس بارے میں فیصلہ ہی نہیں دیا جا رہا۔ اگر انھیں دبنگ آواز ہی چاہیے تھی تو ایسے اور بھی بہت لوگ ہیں اور فیصل واوڈا تو وفاقی وزیر ہیں یہ ہر روز سینیٹ میں بیٹھ سکتے ہیں۔‘ انھوں نے کہا کہ یہ انصاف کے دوہرے معیار ہیں۔ ’سنہ 2018 میں ہمارے دو سینیٹرز سعدیہ عباسی اور ہارون اختر کو بغیر کسی سماعت کے ازخود نوٹس کے تحت سپریم کورٹ نے نکال دیا تھا۔‘
فیصل واوڈا کو ٹکٹ دینے سے متعلق سوال کا جواب دیتے ہوئے پاکستان تحریک انصاف کے رکنِ قومی اسمبلی اور وفاقی وزیرِ برائے سائنس و ٹیکنالوجی فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ ’پہلی بات تو یہ ہے کہ آرٹیکل 62 اور 63 سینیٹ پر بھی لاگو ہوتا ہے اس لیے اگر اپوزیشن کو اس حوالے سے کوئی اعتراضات ہیں تو وہ انھیں سکروٹنی کے وقت چیلنج کر سکتی ہے۔‘ انھوں نے کہا کہ ’سینیٹ میں ہمیں ایک مضبوط آدمی چاہیے اور وہ سندھ سے فیصل واوڈا ایک ایسے امیدوار ہیں جن پر سارے رکنِ صوبائی اسمبلی متفق ہیں۔‘ تاہم اس سے قبل جیو نیوز کے ایک پروگرام میں فواد چوہدری نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ فیصل واوڈا کو ٹکٹ دینے کی ایک اور وجہ یہ ہے کہ ان کے خلاف دوہری شہریت سے متعلق جو نااہلی کا کیس بنا ہوا ہے اس میں تاریخ سے متعلق جو ابہام موجود ہے اسے ہمیشہ کے لیے ختم کیا جائے تاکہ واوڈا صاحب اپنی وزارت پر توجہ دے سکیں۔
سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کو اسلام آباد سے سینیٹ کے انتخاب کے لیے اپوزیشن کے سیاسی اتحاد پی ڈی ایم کی مشترکہ حمایت اور ان کی نامزدگی پر بات کرتے ہوئے شاہد خاقان عباسی نے اس بات کی تصدیق کی کہ ’پی ڈی ایم کا متفقہ فیصلہ ہے کہ سابق وزیرِ اعظم یوسف رضا گیلانی کو اسلام آباد کی سیٹ سے ٹکٹ دیا جائے اور پی ڈی ایم کی تمام جماعتیں ان کی حمایت کریں گی۔‘ فواد چوہدری سے یوسف رضا گیلانی کو ٹکٹ دینے کے حوالے سے پوچھا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ ’یوسف رضا گیلانی قابلِ احترام ہیں لیکن وہ وزیرِ اعظم رہ چکے ہیں اور ان کا سینیٹ کی سیٹ کے لیے کھڑا ہونا ویسے ہی ہے، جیسے سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کانگریس کے لیے الیکشن لڑیں۔‘
Faisal Vawda’s dual nationality case is yet another example of why people have little faith in our judicial system
According to reports, Faisal Vawda was a dual national on 11 June 2018, when he submitted his nomination papers
He later renounced US citizenship on 22 June
— Reema Omer (@reema_omer) February 12, 2021
انھوں نے پی ڈی ایم کی یوسف رضا گیلانی کی حمایت کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ ہمارے سیاستدانوں کی اخلاقی گراوٹ کی نشاندہی کرتا ہے۔ کیونکہ ان ہی یوسف رضا گیلانی کے خلاف نواز شریف کالا کوٹ پہن کر عدالتوں کے چکر لگاتے تھے کہ انھیں نااہل کیا جائے۔ پھر پاکستان مسلم لیگ نواز اشتہار دیتی تھی کہ یہ زرداری کی بدعنوانی چھپاتے ہیں اور اب انھیں ہی ووٹ دیا جا رہا ہے۔‘
سینیٹ نامزدگیوں پر سوشل میڈیا ردعمل
اس حوالے سے سوشل میڈیا پر صارفین کی جانب سے سامنے آنے والے ردِ عمل میں اکثر صارفین اور تجزیہ نگار پی ٹی آئی کی جانب سے فیصل واوڈا کی نامزدگی کو تنقید کا نشانہ بناتے نظر آئے۔
وکیل اور تجزیہ نگار ریما عمر کا کہنا تھا کہ فیصل واوڈا کے خلاف نااہلی خاصا سیدھا سادہ کیس ہے لیکن اس حوالے سے الیکشن کمیشن اور اسلام آباد ہائی کورٹ میں سماعت نہیں ہوتی کیونکہ فیصل واوڈا سماعت ملتوی کرنے کی درخواست کر دیتے ہی اور اب پی ٹی آئی نے انھیں سینیٹ کا ٹکٹ دے دیا ہے۔
Senate tickets are awarded by PM @ImranKhanPTI and he knows better than us all combined.
PM tried his best to pave the way for open belt but still cases are pending in SC.
— 𝐼𝓂𝓇𝒶𝓃 𝐿𝒶𝓁𝒾𝓀𝒶 (@Lalika79) February 12, 2021
صحافی احمد سعید نے لکھا: ’فیصل واوڈا کو ٹکٹ دینا قانونی مراحل کو دھوکہ دینے کے مترادف ہے۔‘
ایک اور صارف جو بظاہر تحریک انصاف کے حامی نظر آتے ہیں، نے لکھا: ’وزیرِ اعظم عمران خان کی جانب سے سینیٹ کے ٹکٹ دے دیے گئے ہیں اور وہ ان سے بہتر کوئی نہیں جانتا۔‘
