سینیٹ انتخابات میں ووٹنگ کے طریقہ کار پر ابہام کے دوران 170 کاغذات نامزدگی جمع

ملک میں جہاں 3 مارچ کو ہونے والے سینیٹ انتخابات کےلیے ووٹنگ کے طریقہ کار پر اب تک غیریقینی صورت حال برقرار ہے اور سیاسی جماعتیں اپنے امیدواروں کو حتمی شکل دینے میں مصروف ہیں وہی سینیٹ انتخابات کےلیے مجموعی طور پر 170 امیدواروں نے کاغذات نامزدگی جمع کرادیے۔
الیکشن کمیشن پاکستان (ای سی پی) کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق پارلیمنٹ کے ایوان بالا کی 48 نشستوں کےلیے ملک بھر سے 170 کاغذات نامزدگی جمع کرائے گئے ہیں، جس میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے 44 امیدواروں سمیت 70 نے پیر کو کاغذات نامزدگی جمع کرانے کے آخری روز اپنی نامزدگی کے کاغذات جمع کرائے۔ کاغذات نامزدگی کے آخری روز حکمران پی ٹی آئی سے تعلق رکھنے والے امیدواروں کی اتنی بڑی تعداد کے کاغذات جمع کرانے سے ان رپورٹس کو تقویت ملتی ہے کہ تقریباً تمام صوبوں بالخصوص سندھ میں اپنی صفوں میں اختلافات کے باعث پارٹی اپنے امیدواروں کو حتمی شکل دینے میں مصروف تھی۔ سندھ سے پی ٹی آئی کے 12 امیدوار جس میں 2 امیدواروں فیصل واوڈا اور سیف اللہ ابڑو کی پہلی منظوری دی جاچکی تھی، نے آخری روز اپنے کاغذات جمع کرائے۔ ان مجموعی 170 امیدواروں میں سے صرف 11 آزاد امیدوار ہیں جس میں سے 9 خیبرپختونخوا اور 2 بلوچستان سے ہیں۔ اعداد و شمار کو دیکھیں تو سب سے زیادہ 51 نامزدگیاں خیبرپختونخوا سے دیکھنے میں آئیں، جس کے بعد بلوچستان سے 41، سندھ سے 39، پنجاب سے 29، اسلام آباد سے 10 امیداروں نے اپنے کاغذات نامزدگیاں جمع کرائیں۔ ان امیدواروں میں سے 87 نے 29 جنرل نشستوں کےلیے، 33 امیدواروں نے ٹیکنوکریٹس کی 8 نشستوں کےلیے، 40 امیدواروں نے خواتین کےلیے مختص 9 نشستوں کےلیے جب کہ 10 امیدواروں نے بلوچستان اور خیبرپختونخوا سے اقلیتوں کی 2 نشستوں کےلیے کاغذات نامزدگی جمع کرائے۔ الیکشن کمیشن کے ترمیم شدہ شیڈول کے مطابق نامزد امیداروں کے ناموں کا اعلان آج (منگل) کو کیا جائے گا جب کہ17 اور 18 فروری کو ان کاغذات کی اسکروٹنی ہوگی، کاغذات نامزدگی منظور یا مسترد ہونے کے خلاف اپیلیں 19 اور 20 فروری کو جمع کرائی جائیں گی جب کہ ان اپیلوں پر فیصلہ 22 اور 23 فروری کو ہوگا اور امیدواروں کی نظرثانی شدہ فہرست 24 فروری کو جاری کی جائے گی۔ علاوہ ازیں کاغذات نامزدگی واپس لینے کےلیے آخری تاریخ 25 فروری ہے جب کہ پولنگ 3 مارچ کو ہو گی۔ الیکشن کمیشن کی جانب سے پیر کو ہدایات جاری کی گئیں کہ اسکروٹنی کے وقت امیدواروں کے ’پروپوسرز اور سیکنڈرز‘ کو ریٹرننگ افسر (آر او) کے سامنے ذاتی طور پر موجود ہونا ہوگا بصورت دیگر اسی پی نے خبردار کیا ہے کہ آر او کی جانب سے کاغذات ’سرسری طور پر مسترد کردیے جائیں گے‘۔
واضح رہے کہ سینیٹ کے 104 اراکین میں سے 52 اراکین (50 فیصد) اپنی 6 سالہ مدت ختم ہونے کے بعد 11 مارچ کو ریٹائر ہورہے ہیں، تاہم اس مرتبہ قبائلی اضلاع کے خیبرپختونخوا میں ضم ہونے کی وجہ سے چار نشستوں پر پولنگ نہیں ہوگی، لہٰذا 48 سینیٹرز کا انتخاب کیا جائے گا۔ جس میں خیبرپختونخوا اور بلوچستان سے 12، 12 سینیٹرز، پنجاب اور سندھ سے 11،11 جب کہ اسلام آباد سے 2 سینیٹرز کو منتخب کیا جائے گا۔ پولنگ میں چاروں صوبوں سے عام (جنرل) نشستوں پر 7 اراکین، 2 نشستوں پر خواتین، 2 نشستوں پر ٹیکنوکریٹس کو چُنا جائے گا جبکہ خیبرپختونخوا اور بلوچستان سے اقلیتی نشست پر ایک، ایک رکن منتخب ہوگا۔ یہاں یہ بھی مدنظر رہے کہ حکومت نے ووٹوں کی خرید و فروخت کے ذریعے ہارس ٹریڈنگ کو روکنے کےلیے سینیٹ انتخابات اوپن بیلٹ سے کرانے کےلیے سپریم کورٹ میں ایک صدارتی ریفرنس بھی دائر کیا ہے، جس پر ابھی تک عدالت نے فیصلہ نہیں دیا۔ تاہم عدالت عظمیٰ سے کسی من پسند فیصلے کی توقع رکھنے اور اس مقصد کےلیے آئینی ترمیمی بل کو قومی اسمبلی سے پاس کرانے میں ناکامی کے بعد حکومت پہلے ہی ’اوپن اور قابل شناخت بیلٹس’ کے استعمال کےلیے الیکشن ایکٹ 2017 ترمیمی آرڈیننس جاری کرچکی ہے۔ اپوزیشن کی جانب سے حکومت کے اٹھائے گئے اس قدم کو مسترد کیا گیا تھا اور آرڈیننس کو عدالت میں چیلنج بھی کردیا گیا تھا۔ سینیٹ انتخابات کی بات کریں تو اسلام آباد کی 2 نشستوں ایک جنرل اور ایک خاتون نشست پر سب سے دلچسپ مقابلہ ہے، جس کےلیے پولنگ نیشنل اسمبلی میں منعقد ہوگی۔ دارالحکومت سے واحد جنرل نشست پر پی ٹی آئی کے ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ اور اپوزیشن اتحاد پاکستان ڈیموکریٹ موومنٹ (پی ڈی ایم) کے مشترکہ امیدوار سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کے درمیان ون آن ون مقابلہ متوقع ہے، عبدالحفیظ شیخ جو اس وقت عمران خان کی کابینہ میں وزیر خزانہ کے طور پر فرائض انجام دے رہے وہ اس سے قبل یوسف رضا گیلانی کے دور میں بھی اسی پوزیشن پر فرائض انجام دے چکے ہیں۔ یوسف رضا گیلانی اور عبدالحفیظ شیخ کے درمیان مقابلہ قومی اسمبلی میں پارٹی پوزیشن کی وجہ سے کافی اہمیت حاصل کرچکا ہے جہاں حکمران اتحاد کو صرف 20 نشستوں کی برتری حاصل ہے۔ تاہم پی ڈی ایم کی قیادت کو یقین ہے کہ اگر سنجیدگی سے مہم چلائی گئی تو یوسف رضا گیلانی یہ نشست حاصل کرسکتے ہیں کیوں کہ اس طرح کی اطلاعات ہیں کہ حکمران اتحاد میں ایسے کئی افراد عبدالحفیظ شیخ کو ٹکٹ دینے کے قیادت کے فیصلے پر ناخوش ہیں جو انہیں باہر والا تصور کرتے ہیں اور یہ پی ٹی آئی کی صفوں میں ’پیراشوٹر‘ کے نام سے جانے جاتے ہیں۔ اسی طرح خواتین کےلیے مخصوص نشستوں پر پی ٹی آئی اور مسلم لیگ (ن) کے درمیان ون آن ون مقابلہ ہوگا، اس وقت ایک جنرل نشست کےلیے 6 امیدواروں اور ایک خاتون نشست کےلیے 4 خواتین نے کاغذات نامزدگی جمع کرائے ہیں۔ عبدالحفیظ شیخ کے علاوہ پی ٹی آئی کے کم معروف امیدوار سید محمد علی بخاری اور فرید رحمان نے بطور کورنگ امیدوار اپنی نامزدگیاں جمع کرائی ہیں۔ اسی طرح مسلم لیگ (ن) کے طارق فضل چوہدری نے بھی یوسف رضا گیلانی کےلیے پی ڈی ایم کے کورنگ امیدوار کے طور پر کاغذات جمع کرائے ہیں۔ خیبرپختونخوا میں جنرل نشستوں پر 22 امیدوار ہیں جس میں سے 11 کا تعلق پی ٹی آئی سے ہے، مزید یہ کہ 4 خواتین کی نشستوں کےلیے 13 امیدوار ہیں، جس میں سے 6 تحریک انصاف سے ہیں جنہوں نے اپنے کاغذات نامزدگی جمع کرائے ہیں۔ اس کے علاوہ ٹیکنوکریٹ کی 2 نشستوں کےلیے 11 امیدوار ہیں جب کہ ایک اقلیتی نشست کےلیے 5 امیدوار میدان میں ہیں۔ خیبرپختونخوا سے معروف امیدواروں میں پی ٹی آئی کے شبلی فراز اور محسن عزیز، پی پی پی کے فرحت اللہ بابر، جے یو آئی (ٖف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن کے بھائی مولانا عطا الرحمٰن نے جنرل نشست پر انتخاب کےلیے کاغذات جمع کرائے ہیں۔ سندھ سے اگر معروف امیداروں کی بات کریں تو پیپلزپارٹی سے ڈپٹی چیئرمین سینیٹ سلیم مانڈوی والا، شیری رحمٰن، فاروق نائیک اور تاج حیدر ہیں جب کہ متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) سے سہیل منصور خواجہ، فیصل سبزواری اور عبدالقادر خانزادہ ہیں۔ دوسری جانب اس حقیقت کے بعد سندھ سے پی ٹی آئی کی صرف ایک جنرل نشست جیتنے کی توقع ہے، 5 امیدواروں نے کاغذات نامزدگی جمع کرائے ہیں جس میں فیصل واڈا بھی شامل ہیں، ان کے علاوہ جنرل نشست پر پی ٹی آئی کے ٹکٹ پر کاغذات جمع کرانے والوں میں محمود بقی مولوی، عمید علی جونیجو، اشرف جبار اور زنیرہ ملک شامل ہیں، مزید یہ کہ 3 پی ٹی آئی خواتین نے بھی مخصوص نشستوں پر کاغذات جمع کرائے ہیں۔ حیران کن طور پر تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) نے سندھ اسمبلی میں صرف 3 ایم پی ایز کے باجود ٹیکنوکریٹس کےلیے مختص نشستوں پر یش اللہ خان افغان کے کاغذات بھی جمع کرائے ہیں۔ پنجاب کی بات کریں تو وہاں اصل مقابلہ تحریک اںصاف اور مسلم لیگ (ن) کے درمیان ہے، صوبے سے مسلم لیگ (ن) کے معروف امیدواروں میں پرویز رشید، مشاہد اللہ خان، زاہد حامد، سعدیہ عباسی اور سائرہ افضل تارڑ شامل ہیں جب کہ پی ٹی آئی سے سیف اللہ نیازی، عون عباس، عمر سرفراز چیمہ، اعجاز چوہدری اور علی ظفر ہیں۔ اس کے علاوہ پنجاب میں مسلم لیگ (ق) کے کامل علی آغا حکمران اتحاد کے مشترکہ امیدوار بھی ہیں۔ حیران کن طور پر پنجاب میں ٹیکنوکریٹس کےلیے مختص 2 نشستوں کےلیے 3 امیدواروں نے کاغذات نامزدگی جمع کرائے ہیں، پی ٹی آئی کے علی ظفر کے علاوہ عطاللہ خان نے بھی مسلم لیگ (ن) کے اعظم نذیر تارڑ کا مقابلہ کرنے کےلیے کاغذات جمع کرائے ہیں۔ اگر پی ٹی آئی کا ایک امیدوار اس دوڑ سے باہر ہوجاتا ہے تو پنجاب سے مسلم لیگ (ن) اور پی ٹی آئی کے دونوں امیدوار دونوں ٹیکنوکریٹ کی نشستوں کو بلامقابلہ حاصل کرسکتے ہیں۔ پارٹی کی صفوں میں اختلافات کی خبروں کے دوران پی ٹی آئی نے ابتدائی طور پر چاروں صوبوں اور اسلام آباد سے اپنے 20 امیدواروں کی فہرزت کا اعلان کیا تھا۔ گزشتہ ہفتے وزیراعظم کی سربراہی میں پی ٹی آئی کے پارلیمانی بورڈ نے بلوچستان میں بزنس ٹائیکون عبد القادر کو دیا گیا ٹکٹ صوبائی قیادت کی سخت مخالفت پر واپس لے کر جنرل نشست کےلیے پارٹی کے رکن ظہور آغا کو دیا تھا۔ عبدالقادر کو پارٹی ٹکٹ دینے کی مخالفت کرتے ہوئے پی ٹی آئی کی صوبائی قیادت نے اعتراض کیا تھا کہ وہ پی ٹی آئی سے تعلق نہیں رکھتے کیونکہ گزشتہ ہفتے تک بلوچستان عوامی پارٹی (بی اے پی) کے رکن تھے۔ ادھر خیبرپختونخوا سے عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) کے ٹکٹ پر 2015 میں سینیٹر بننے والی ستارہ ایاز بھی 11 مارچ کو ریٹائر ہونے والے 52 سینیٹرز میں شامل ہیں تاہم انہوں نے اپنے کاغذات نامزدگی جمع کرائے ہیں اور اس مرتبہ وہ بی اے پی کے ٹکٹ پر بلوچستان سے کھڑی ہوئی ہیں۔ اے این پی کی قیادت نے ستارہ ایاز کو چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کے خلاف اپوزیشن جماعتوں کی تحریک عدم اعتماد کے دوران چیئرمین کے حق میں مبینہ طور پر ووٹ ڈالنے پر پارٹی سے نکال دیا تھا۔ مزید برآں بلوچستان سے معروف امیداروں میں بی اے پی کے سرفراز بگٹی، جے یو آئی (ف) کے مولانا عبدالغفور حیدری اور کامران مرتضیٰ، بی این پی عوامی کے اصراراللہ زہری اور پختونخوا ملی عوامی پارٹی کے عثمان کاکڑ شامل ہیں۔
واضح رہے کہ مارچ میں آنے والے انتخابات کے بعد حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) سینیٹ میں اکیلی سب سے بڑی پارٹی بننے کو تیار ہے تاہم یہ یقینی طور پر پارلیمنٹ کے ایوان بالا کا کنٹرول حاصل کرنے کے قابل نہیں ہوگی اور اسے معمولی قانون سازی کےلیے بھی اپنے اتحادیوں اور اپوزیشن جماعتوں پر ہی انحصار کرنا پڑے گا۔ ایوان بالا کے اراکین کے انتخابات کےلیے حلقہ بندیاں تشکیل دینے والی قومی اور چاروں صوبائی اسمبلیوں میں پارٹی پوزیشن کی بنیاد اور اگر تمام قانون ساز پالیسی کے مطابق ووٹ اپنی متعلقہ پارٹی کو ووٹ دیتے ہیں تو ایک محتاط اندازے کے مطابق حکمران پی ٹی آئی کو 20 نشستیں ملنے کا امکان ہے، جس کے بعد پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) اور بلوچستان عوامی پارٹی (بی اے پی) 6، 6 نشستیں اور مسلم لیگ (ن) 5 نشستیں جیت سکتی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button