سینیٹ کمیٹی کی فلم ‘زندگی تماشا’ ریلیز کرنے کی منظوری

سینیٹ کی کمیٹی برائے انسانی حقوق نے فلم ‘زندگی تماشا’ پر عائد کیے گئے تمام تر اعتراضات کو مسترد کرتے ہوئے اس کی اسکریننگ کی اجازت دے دی ہے۔
رواں سال کے آغاز میں صوبہ سندھ کے سینسر بورڈ نے پاکستانی فلمساز اور اداکار سرمد کھوسٹ کی فلم ’زندگی تماشا‘ کی ریلیز یہ کہہ کر روک دی تھی کہ ’اس سے معاشرے کے مذہبی حلقوں میں بے چینی پیدا ہوگی اور ملک میں امن و امان کی صورت حال بگڑ سکتی ہے۔‘ تاہم آج پاکستان پیپلز پارٹی کے سینیٹر مصطفیٰ نواز کھوکھر نے ایک ٹویٹ میں کہا کہ سینیٹ کی کمیٹی برائے انسانی حقوق نے اس فلم کی ریلیز کی اجازت دے دی ہے۔مصطفیٰ نواز کھوکھر نے ٹویٹ میں کہا: ’سینیٹ کی کمیٹی برائے انسانی حقوق متفقہ طور پر سینسر بورڈ کے فلم زندگی تماشا کی سکیرننگ کی اجازت دینے کے فیصلے سے اتفاق کیا ہے۔‘ کمیٹی کو فلم میں کچھ بھی غلط نہیں دکھا اور سینسر بورڈ کو کورونا کے بعد اس فلم کو ریلیز کرنے کی اجازت دیتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ اس حوالے سے مزید تفصیلات جلد فراہم کر دی جائیں گی۔


واضح رہے کہ زندگی تماشا کا پریمیئر بوسان انٹرنیشنل فلم فیسٹیول میں کیا گیا تھا لیکن یہ اس وقت تنازع کا شکار ہو گئی تھی جب تحریک لبیک پاکستان نے 24جنوری کو فلم کی ریلیز کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے اسے توہین آمیز قرار دیا تھا۔
جنوری میں تحریک لبیک پاکستان نے ملک میں فلم کی ریلیز کے خلاف احتجاج کیا تھا لیکن انہوں نے اپنے منصوبوں کو اس وقت منسوخ کردیا تھا جب حکومت نے کہا تھا کہ فلم کو اسلامی نظریاتی کونسل کو بھیجنے کا اعلان کیا تھا حالانکہ سینسر بورڈ نے اسے دو مرتبہ کلیئر کردیا تھا جبکہ فلمساز سرمد کھوسٹ نے کہا تھا کہ ان کی فلم ’زندگی تماشا‘ کو رکوانے کے لیے انہیں درجنوں دھمکی آمیز فون کالز اور پیغامات موصول ہو رہے ہیں۔ ساتھ ہی انہوں نے اپنے مداحوں سے سوال بھی کیا تھا کہ ’کیا میں ’زندگی تماشا‘ سے دستبردار ہو جاؤں؟‘
بعدازاں مارچ میں سینیٹ پینل برائے انسانی حقوق نے معاملہ اپنے ہاتھ میں لے لیا تھا اور اسلامی نظریاتی کونسل کو فلم پر نظرثانی سے روک دیا تھا، پینل نے سینٹرل بورڈ آف فلم سینسرز کو ہدایت کی تھی کہ وہ کمیٹی کو مووی کی ایک نقل اسکریننگ کے لیے فراہم کریں تاکہ اراکین یہ فیصلہ کرسکیں کہ اس کا مواد قابل اعتراض ہے یا نہیں۔اس وقت مصطفیٰ نواز کھوکھر نے کہا تھا کہ اگر کمیٹی کو فلم میں کوئی قابل اعتراض چیز نظر آئی تو اسے اسلامی نظریاتی کونسل کو بھیجا جائے گا۔انہوں نے مزید کہا تھا کہ کمیٹی کسی کے دباؤ میں نہیں آئے گی اور پارلیمنٹ اپنے اختیارات کا استعمال کرے گی۔انہوں نے فلم پر اعتراض اٹھانے والے تحریک لبیک پاکستان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ ہمیں ان قوتوں کے دباؤ میں نہیں آنا چاہیے جنہوں نے اسلام آباد کو دو مرتبہ یرغمال بنا لیا تھا۔
واضح رہے کہ فلم ’زندگی تماشا‘ ریلیز سے قبل ایشیا کے سب سے معتبر بشان فلم فیسٹیول میں ‘کم جے سُک’ ایوارڈ حاصل کر چکی ہے۔ جنوبی کوریا کے شہر بشان میں 24 ویں بشان فلم فیسٹیول میں سرمد کھوسٹ کی فلم ‘زندگی تماشا’ اور بھارتی ہدایت کار پردیپ کورباہ کی فلم ’مارکیٹ‘ کو مشترکہ طور پر ایوارڈ سے بھی نوازا گیا تھا جو کسی بھی پاکستانی فلم کو پہلی بار دیا گیا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button