سیٹلائٹ فون سے کن ججز اور جرنیلوں سے رابطہ ہوتا تھا؟

شہباز گل کے خلاف بغاوت کیس کی تحقیقات کرنے والے اداروں نے انکشاف کیا ہے کہ انہوں نے سابق وزیراعظم کے چیف آف سٹاف کے فلیٹ سے سے ‘تھورایا’ کمپنی کا جو جدید سیٹلائٹ فون برآمد کیا تھا وہ دراصل عمران خان کی ملکیت ہے اور اسے بیرون ملک رابطوں کے علاوہ چند سینئر جرنیلوں اور ججوں سے خفیہ گفتگو کے لیے بھی استعمال کیا جاتا تھا۔
عمران خان کے بدزبان چیف آف سٹاف شہباز گل ایک ماہ تک اڈیالہ جیل میں رہنے کے بعد باہر تو آ چکے ہیں لیکن انکے بارے میں انکشافات کا سلسلہ ابھی تک نہیں رک پایا۔ ان کے خلاف بغاوت کیس کی تحقیقات کرنے والے اداروں نے موصوف کے زیر استعمال برآمد ہونے والی اشیا کا معائنہ اور فرانزک مکمل کر لیا ہے۔ یاد رہے کہ شہباز گل گرفتاری سے پہلے پارلیمنٹ لاجز کے کمرہ نمبر 206 میں رہائش پذیر تھے اور زیادہ تر وقت عمران خان کی بنی گالہ رہائش گاہ پر گزارا کرتے تھے۔ شہباز کی نشاندہی پر پولیس نے اسکے کمرے سے ایک بغیر لائسنس پستول اور جدید امریکی سیٹلائٹ فون بھی برآمد کیا تھا، اس کے علاوہ شہباز کے فلیٹ سے ڈھیروں پاسپورٹس، کریڈٹ کارڈز اور پرانے موبائل فونز برآمد ہوئے تھے۔ ذرائع کے مطابق شہباز گل کے فلیٹ سے برآمد ہونے والا جدید ترین ’تھورایا’ سیٹلائیٹ فون عمران خان کی ملکیت نکلا ہے۔ یہ فون امریکی ساخت کا ہے جس کی رجسٹریشن بھی امریکہ میں ہی درج ہے، اس فون سے بین الاقوامی روابط کا بھی انکشاف ہوا ہے جنکی تفصیل اکٹھی کر لی گئی ہے۔ ممکنہ طور پر اس سیٹلائٹ فون کو بیرون ملک اہم روابط کے علاوہ چند سینئر جرنیلوں اور ججوں سے رابطے کے لیے بھی استعمال کیا جاتا تھا۔ اس سیٹلائٹ فون کا فرانزک بھی کروا لیا گیا ہے جس سے ہوشربا انکشافات ہوئے ہیں۔
شہباز گل کے خلاف بغاوت کیس کی تحقیقات کرنے والے سینئر افسران کا کہنا ہے کہ سیٹلائٹ فون سے ملنے والے شواہد کی بنیاد پر شہباز گل کی دوبارہ گرفتاری کا امکان رد نہیں کیا جاسکتا اور ان سے تفتیش کی بنیاد پر عمران پر بھی ہاتھ ڈالا جاسکتا ہے۔ یاد رہے کہ شہباز گل کو ایک ماہ کی حراست کے بعد چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ اطہر من اللہ نے ضمانت پر رہا کر دیا تھا اور وہ بغاوت کیس کی تفتیش مکمل ہونے سے پہلے بیرون ملک سفر نہیں کر سکتے۔ سیٹلائٹ فون بارے شہباز گل نے آن کیمرہ بیان دیا ہے کہ یہ فون ان کا نہیں بلکہ ان کے پارٹی چیئرمین کی ملکیت ہے، تفتیشی افسران کا کہنا ہے کہ برآمد ہونے والا امریکی فون ویسا ہی ہے جیسا CIA افغان جنگ کے دوران اپنے خفیہ ایجنٹس کو فراہم کرتی تھی۔
یاد رہے کہ تھورایا فون کی تینوں اقسام کو دنیا کے کسی ملک میں استعمال کرنے کی سرعام اجازت نہیں، اور صرف خفیہ ایجنسی کے افراد ہی اسے استعمال کرتے ہیں۔تفتیش کاروں کا کہنا ہے کہ شہباز گل کے کمرے سے برآمد ہونے والے سیٹلائٹ فون کا فرانزک تجزیہ کروایا جا رہا ہے۔ یاد رہے کہ موبائل یا سیل فونز کے برعکس، سیٹلائٹ فونز میں مختلف ٹیکنالوجی استعمال ہوتی ہے۔ لینڈ لائن فون کی طرح زمین میں بچھے تاروں، یا موبائل کی طرح سیلولرنیٹ ورکس پر انحصار کرنے کے بجائے سیٹلائٹ فونز خلا میں انتہائی بلندی پر گردش کرتے ہوئے مواصلاتی سگنلز کے ذریعے کام کرتے ہیں۔ یعنی سیٹلائٹ فون کو پیغام بھیجنے یا وصول کرنے والے سگنلز خلا میں موجود مواصلاتی سیارے سے ملتے ہیں اور آپ اس کی مدد سے دنیا کے کسی بھی حصے سے، اور کسی بھی فون پر رابطہ کر سکتے ہیں۔
تحقیقاتی اداروں کا کہنا ہے کہ پارلیمنٹ لاجز میں چھاپے کے دوران شہباز گل کے زیر استعمال بین الاقوامی فارن بینکوں کے کریڈٹ کارڈز بھی برآمد ہوئے جن سے شہباز گل بھاری رقوم کی ترسیل کرتے رہے۔ شہباز گل سے چھاپے کے دوران غیر قانونی امریکی ساختہ اسلحہ بھی برآمد ہوا تھا لیکن وہ غیر قانونی اسلحہ رکھنے پر کوئی جواز پیش نا کر سکے۔
