سیٹھ عابد کا پاکستانی نیوکلیئر پروگرام سے کوئی تعلق نہیں تھا

پاکستانی نیوکلیئر پروگرام کے خالق ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے اس تاثر کی سختی سے تردید کی ہے کہ سیٹھ محمد عابد نامی ایک سونے کے سمگلر نے بیرونی دنیا سے پاکستانی نیوکلیئر بم کے لیے چند اہم ترین پرزے سمگلنگ کرنے میں کوئی کردار ادا کیا تھا۔ ڈاکٹر قدیر خان نے ایک حالیہ انٹرویو میں ان افواہوں کی سختی سے تردید کی کہ حال ہی میں انتقال کر جانے والا سونے کا سمگلر سیٹھ عابد خفیہ طور پر پاکستانی نیوکلیئر پروگرام سے بھی وابستہ رہا تھا۔ انکا کہنا تھا کہ اسی جھوٹے دعوے کی بنیاد پر سیٹھ عابد محکمہ کسٹم اور انکم ٹیکس سے ناجائز فائدے اُٹھاتا رہا۔

یاد رہے کہ ماضی میں اخبارات میں ایسی خبریں اکثر شائع ہوتی رہی ہیں کہ انڈرورلڈ سے وابستہ رہنے والا سیٹھ عابد عالمی پابندیوں کے باوجود جوہری پروسیسنگ
یونٹ کے کچھ اہم ترین پرزے بھٹو دور میں اسمگل کر کے پاکستان لایا تھا جن کے بغیر نیوکلیئر پروگرام مکمل نہ ہو پاتا۔
حال ہی میں یوٹیوب پر اس حوالے سے دوبارہ بحث شروع ہوئی تو ڈاکٹر قدیر خان نے نہ صرف اس موضوع پر ایک انٹرویو دیا بلکہ اپنے تازہ کالم میں بھی اس تاثر کی سختی سے تردید کی ہے کہ سیٹھ عابد نامی شخص کا پاکستان کے نیوکلیئر پروگرام یا ایٹم بم سے کوئی لینا دینا تھا۔ قدیر خان کا کہنا تھا کہ میں اس سے پہلے بھی عرض کرچکا ہوں کہ اسی قسم کی غلط بیانی سیٹھ عابد مرحوم نے خود بھی کی تھی کہ انھوں نے بم بنانے میں کلیدی رول ادا کیا تھا۔ ڈاکٹر خان نے کہا کہ اگر بم میں سونا استعمال ہوتا تو میں شاید کہہ دیتا کہ ہم نے جو سونا خریدا، وہ شاید انہوں نے اسمگل کیا ہوگا، مگر ایٹم بم میں ایک تولہ سونا بھی نہیں لگتا۔ قدیر خان کے مطابق اس جھوٹے دعوے کی بنیاد پر سیٹھ عابد نے محکمہ کسٹم اور انکم ٹیکس سے ناجائز فائدے اُٹھائے۔ انہوں نے بتایا کہ حقیقت یہ ہے کہ میں اس شخص سے زندگی میں پہلی بار ریٹائرمنٹ کے 15برس بعد لاہور میں ایک فلاحی اسپتال کی تعمیر کے ڈنر میں ملا تھا۔ میرے دست راست شوکت ورک نے ان کو بلالیا تھا کہ کچھ چندہ دیدینگے۔ انھوں نے وہاں 25 لاکھ چندے کا وعدہ کیا اور 25 روپے بھی نہیں دیے۔

ڈاکٹر قدیر خان نے کہا کہ ایک اور جھوٹ جس کو حال ہی میں بہت اچھالا گیا تھا وہ یہ ہے کہ کہوٹہ نیوکلیئر پلانٹ کی پلاننگ اور کامیابی میں مرحوم وزیر خارجہ ڈاکٹر مبشر حسن نے کلیدی کردار ادا کیا تھا۔ ڈاکٹر خان کے مطابق جب میں پاکستان آیا اور بھٹو صاحب کے اصرار پر اس پروجیکٹ پر کام شروع کیا تو اس وقت وزیر خارجہ عبدالحفیظ پیرزادہ تھے۔ ڈاکٹر مبشر مُلک کی معیشت کو قومیا کر اور اسے تباہ کرنے کے بعد رخصت ہوچکے تھے۔ بھٹو صاحب نے یہ راز عبدالحفیظ پیرزادہ کو بھی نہیں بتایا تھا۔ اس بارے میں صرف مرحوم اے جی این قاضی، آغا شاہی اور غلام اسحٰق خان کو معلوم تھا اور بعد میں جنرل ضیاء کو صرف یہ بتایا گیا کہ ہم نے نیوکلیر پر کچھ کام شروع کیا ہے لہذا ڈاکٹر صاحب کو آرمی کے چند سول انجینئر دیدیں تا کہ وہ کچھ عمارتیں وغیرہ بنوادیں۔

یاد رہے کہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی اس پر زور تردید سے پہلے یہ عمومی تاثر دیا جاتا رہا ہے کہ سیٹھ عابد نے نیوکلیئر بم میں استعمال ہونے والے اہم ترین پرزے پاکستان سمگلر کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ اس حوالے سے سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ستر کی دہائی میں بھارت نے ایٹمی بم کی تیاری پر کام شروع کیا تو پاکستان کو اس کی خبر ہو گئی۔ بھارت میں جوہری ٹیکنالوجی کی تیاری کے بعد پاکستان کے بقا کو خطرات پیدا ہونا فطری عمل تھا۔ اس لیے پاکستان نے اپنی بقا و سلامتی کے لیے جوہری ٹیکنالوجی کی منصوبہ بندی شروع کی اور ادھر عالمی طاقتوں کو سن گن ہو گئی کہ پاکستان بھی جوہری ٹیکنالوجی کے حصول کے لیے کوشاں ہے۔
اس رپورٹ کے مطابق فرانس سمیت دیگر عالمی طاقتوں نے پیشگی رکاوٹیں کھڑی کرنے کے لیے پاکستان پر تجارتی
پابندیاں عائد کردیں۔
ایسی صورت حال میں پاکستان کے بڑوں نے سرجوڑے اور فیصلہ کیا یہ کام تو ہرصورت کرنا ہی ہے۔ رپورٹ کے مطابق اب اس کی تکیمل کے لیے جوہری پروسیسنگ یونٹ کا پاکستان آنا ایک بڑا سوالیہ نشان تھا جس کا حل تلاش کیا گیا۔ ویسے تو فلموں میں اکثر آپ نے دیکھا ہو گا بڑے کاموں کے لیے کسی ہیرو کو تلاش کیا جاتا ہے اور وہ چٹکی بجاتے ہی وہ کام انجام دے دیتا ہے۔ ایسا ہی ایک کردار پاکستان میں بھی موجود تھا بس عقاب جیسی نظر چاہیے تھے۔ اس رپورٹ کے مطابق ایسے میں دفاعی حلقوں نے بھٹو صاحب کو مشورہ دیا کہ پابندیوں کے بعد ایک ہی شخص ملک میں جوہری پروسیسنگ یونٹ لا سکتا ہے اور وہ شخص سیٹھ عابد ہے جسے دنیا انڈرولڈ کے ایک بڑے اسمگلر کے طور پر جانتی ہے۔ بس پھر کیا تھا سیٹھ عابد کو تلاش کر کے سامنے لایا گیا بات چیت ہوئی اور مشن امپوسیبل کو ممکن بنانے کا مشن سیٹھ عابد کو سونپ دیا گیا۔ سیٹھ عابد نے اس کی منصوبہ بندی کی، ٹیم بنائی اور پھر یہ جا اور وہ لا۔ رپورٹ کے مطابق سیٹھ عابد نے فرانس کے بحری راستے پروسیسنگ یونٹ اسمگل کیا اور پاکستان پہنچا کر سب کو خوشگوار حیرت میں مبتلا کر دیا۔
تو یہ تھے وہ سیٹھ عابد جنہوں نے دنیا کی ایجنسیوں کو ناکوں چنے چبوا دیے اور وہ اپنی بے بسی کو لیے سوچتے ہی رہے کہ ایک شخص نے انہیں خاک چٹا دی اور احساس بھی نہ ہونے دیا۔
تاہم اب یہ بات کنفرم ہو گئی ہے کہ سیٹھ عابد کے حوالے سے سوشل میڈیا پر چلنے والی ایسے تمام داستانیں افسانوی تھیں اور ان میں کوئی حقیقت نہیں تھی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button