سیکیورٹی ادارے احسان اللہ احسان کو دوبارہ پکڑنے میں مکمل ناکام

کئی برسوں سے ریاستی اداروں کی مہمان نوازی سے مستفید ہونے والے سابق طالبان ترجمان احسان اللہ احسان کو فرار ہوئے تین مہینے ہونے کو ہیں لیکن اب تک ریاستی ادارے کسی فورم پر بھی یہ جواب نہیں دے سکے کہ آخر اتنی کڑی نگرانی کے باوجود سینکڑوں معصوم پاکستانیوں کے قتل کی ذمہ داری قبول کرنے والا ان کی حراست سے کیسے فرار ہوا؟
احسان اللہ احسان کے حوالے سے عدلیہ نے بھی خاموشی اختیار کر رکھی ہے اور سانحہ آرمی پبلک اسکول کے متاثرین کی جانب سے دائر کی گئی رٹ پٹیشن بھی سردخانے میں ڈال دی گئی ہے۔ احسان اللہ احسان کے پراسرار حالات میں فرار کے بعد ریاستی اداروں اور احسان کے مابین ایک خفیہ معاہدہ بھی منظر عام پر آیا تھا۔ پشاور ہائی کورٹ نے ملزم کے مشکوک انداز میں سکیورٹی اداروں کی تحویل سے فرار پر سانحہ آرمی پبلک سکول کے شہید بچے کے والد فضل خان کی پٹیشن پر وفاقی اور صوبائی حکومتوں سے تحریری جواب طلب کیا تو حکومتی نمائندوں نے عدالت کو بتایا کہ احسان اللہ احسان نے 2017 میں سکیورٹی اداروں کے سامنے سرنڈر کیا تھا اور وہ پچھلے تین سال سے ان کی تحویل میں تھا۔ تاہم، جنوری 2020 کے دوسرے ہفتے میں وہ سکیورٹی اداروں کو چکمہ دے کر فرار ہوگیا۔
اگرچہ حکومت کی جانب سے یہ تسلیم کر لیا گیا ہے کہ احسان اللہ احسان سیکورٹی فورسز کو چکمہ دے کر فرار ہوا تاہم یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اتنا بڑا مجرم ، اس قدر سخت سکیورٹی کے باوجود فرار ہونے میں کیسے کامیاب ہوا۔ آرمی پبلک اسکول سانحے میں شہید ہونے والے بچوں کے والدین آج بھی یہ سوال پوچھ رہے ہیں کہ احسان اللہ احسان کے فرار کے بعد وہ اپنے بچوں کا لہو کس کے ہاتھ پر تلاش کریں تاہم حکومتی اور ریاستی اداروں نے اس سوال پر خاموشی اختیار کر رکھی ہے اور عدلیہ بھی شہداء کے لواحقین کی تشفی نہیں کروا سکی۔
اے پی ایس شہداء کے لواحقین نے احسان اللہ احسان کے فرار سے متعلق شفاف تحقیقات کے لیے چیف جسٹس پاکستان جسٹس گلزار احمد کو خط بھی لکھا تھا مگر تاحال اس حوالے سے کوئی پیش رفت سامنے نہیں آئی۔ خیال رہے کہ نیا سال شروع ہوتے ہی خفیہ اداروں کے سیف ہاؤس سے فرار کے بعد فروری 2020 میں ٹوئٹر پر احسان اللہ احسان نے ایک پیغام میں دعویٰ کیا تھا کہ وہ پاکستانی اداروں کے تحویل سے فرار ہوگیا ہے کیونکہ انہوں نے اس کے ساتھ گرفتاری سے پہلے کیے جانے والے معاہدے کی پاسداری نہیں کی تھی۔ احسان اللہ احسان نے یہ دھمکی بھی دی کہ وہ جلد ہی سکیورٹی اداروں اور اپنے مابین طے پائے جانے والے معاہدے کو منظر عام پر لے آئے گا اور پھر یہ معاہدہ بھی منظر عام پر آگیا جس کے مطابق احسان اللہ احسان نے 2017 میں حکام کیساتھ معاملات طے کرنے کے بعد مشروط طور پر خود کو سرنڈر کیا تھا۔
طے شدہ معاہدے کی رو سے احسان اللہ کے خلاف درج شدہ قتل اور دہشت گردی کے تمام تر مقدمات ختم ہو جانے تھے اور اسے اپنے خاندان کے ساتھ بقیہ زندگی اچھے طریقے سے بسر کرنے کے لیے حکومت کی جانب سے ایک کروڑ روپے بھی قسطوں میں ادا کیے جانے تھے۔
مبینہ معاہدے کے مطابق احسان اللہ احسان کو حکومت کی جانب سے پابند کیا گیا تھا کہ وہ ہتھیار ڈالے گا اور پاکستان کے قانون اور آئین کی پاسداری کا وعدہ کرے گا اور اس بات کی بھی پابندی کرے گا کہ وہ پاکستان کے اندر اور باہر کسی قسم کی تخریبی کارروائی میں حصہ نہیں لے گا اور نہ ہی ایسی کسی کارروائی کی حکمت عملی کا حصہ بنے گا. قانون اور آئین کی پاسداری کرنے اور پر امن رہنے کی شرط پر حکومت پاکستان کی طرف سے احسان اللہ احسان کے خلاف قبائلی علاقہ جات سمیت پورے ملک میں درج مقدمات قانون کے تحت ختم کرنے کی یقین دہانی کرائی گئی تھی. اسکے علاوہ احسان پر موبائل فون یا انٹرنیٹ کے استعمال کے حوالے سے کسی قسم کی پابندی عائد نہ کرنے کا بھی وعدہ کیا گیا تھا۔
پشاور آرمی پبلک سکول کے سانحے میں شہید ہونے والے سو سے زائد طالب علموں کے والدین یہ الزام لگا رہے ہیں کہ احسان اللہ احسان ریاستی اداروں کی حراست سے فرار نہیں ہوا بلکہ اسے فرار کروایا گیا ہے۔ ریاستی اداروں کی جانب سے مطلوب ترین طالبان دہشتگرد کے فرار پر مسلسل حکومتی خاموشی کے بعد دسمبر 2014 کے پشاور آرمی پبلک سکول سانحہ میں شہید طالب علموں کے والدین نے پشاور ہائی کورٹ سے رجوع کرتے ہوئے فرار کی تحقیقات کروانے کا مطالبہ کیا تا کہ پتہ چل سکے کہ کیا وہ واقعی فرار ہوا یا اسے کسی معاہدے کے تحت رہا کیا گیا؟
