سی بی آئی نے سشانت سنگھ کیس کی تفتیش شروع کردی

بھارت کی مرکزی خفیہ ایجنسی سی بی آئی نے مرکزی حکومت کی جانب سے اجازت دیے جانے کے بعد بولی وڈ اداکار سشانت سنگھ راجپوت کی خودکشی کے معاملے کی تفتیش کا آغاز کردیا۔
سشانت سنگھ نے 14 جون کو ممبئی میں خودکشی کرلی تھی اور ابتدائی طور پر ان کی خودکشی کی تفتیش ممبئی پولیس نے شروع کی تھی اور وہ اب تک 40 شخصیات کے بیانات بھی ریکارڈ کر چکی ہے۔ اداکار نے بظاہر ڈپریشن کے باعث خودکشی کی تھی اور ان کی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں بھی ان پر کسی قسم کے تشدد کا انکشاف نہیں کیا گیا تھا۔ ممبئی پولیس نے سشانت سنگھ کی سابق گرل فرینڈ ریا چکربورتی کا بیان بھی ریکارڈ کیا تھا، تاہم بعد ازاں اداکار کے والد کے کے سنگھ نے بیٹۓ کی خودکشی کا کیس جولائی میں ریاست بہار کے شہر پٹنہ کے پولیس تھانے میں داخل کراتے ہوئے ریا چکربورتی پر سنگین الزامات عائد کیے تھے۔
ممبئی میں رہنے والی ریا چکربورتی نے اپنے خلاف دوسری ریاست میں مقدمہ دائر ہونے پر بھارت کی سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی تھی کہ ان کے خلاف پٹنہ میں دائر کیا گیا مقدمہ بھی ممبئی منتقل کیا جائے۔ ریا چکربورتی کی سپریم کورٹ میں درخواست کے بعد سشانت سنگھ کے والد نے ریاست بہار کی حکومت اور پولیس کو اپیل کی تھی کہ ان کے بیٹے کی تفتیش سی بی آئی سے کرائی جائے۔ سشانت سنگھ کے والد کی درخواست کے بعد ریاست بہار کی حکومت نے مرکزی حکومت کو خط لکھ کر اداکار کی خودکشی کی تفتیش سی بی آئی سے کرانے کی اپیل کی تھی۔ بعد ازاں 5 اگست کو سپریم کورٹ میں ریا چکربورتی کی درخواست پر ہونے والی سماعت میں مرکزی حکومت نے عدالت کو بتایا تھا کہ سشانت سنگھ کا کیس ریاستی حکومت کی درخواست پر سی بی آئی کو دے دیا گیا، اب ریا چکربورتی کی مقدمہ ممبئی منتقل کرانے کی درخواست مسترد کردی جائے۔
عدالت نے مرکز کی آگاہی کے بعد سشانت سنگھ کے والد، ممبئی اور پٹنہ پولیس نے بیان حلفی بھی طلب کیے تھے۔
تینوں فریقین نے 5 سے 8 اگست تک اپنے بیان حلفی بھی سپریم کورٹ میں جمع کروائے اور عدالت میں ریاست بہار اور ریاست مہاراشٹر کی پولیس کی جانب سے داخل کرائے گئے بیانات ایک دوسرے کے خلاف تھے۔ ریاست مہاراشٹر کی ممبئی پولیس نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ چوں کہ جرم ان کی حدود میں ہوا ہے تو تفتیش کا اختیار بھی ان کا ہے اور ان کی حدود میں ہونے والے جرم کا کیس پٹنہ میں داخل کرانا غیر قانونی ہے۔ اس کے برعکس ریاست بہار کی پٹنہ پولیس نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ فوجداری مقدمات کا کیس کسی بھی ریاست میں دائر کیا جا سکتا ہے اور یہ کہ اداکار کے والد کو ممبئی پولیس پر یقین نہیں تھا اور ممبئی پولیس ان کی تفتیش میں رکاوٹ بنی ہوئی ہے۔
سشانت سنگھ کے والد نے اپنے بیان میں دعویٰ کیا تھا کہ ان کے پاس ریا چکربورتی کے خلاف کافی شواہد موجود ہیں اور اب ان کی مقدمے کو پٹنہ سے ممبئی منتقل کرنے کی درخواست غیر اہم ہوچکی، کیوں کہ اب کیس کی تفتیش مرکزی ایجنسی کرے گی۔ تمام فریقین کے جوابات کے بعد تاحال سپریم کورٹ نے کوئی حکم نہیں دیا لیکن بھارت کی مرکزی حکومت نے 5 اگست کو ہی سی بی آئی کی تفتیش کا نوٹی فکیشن جاری کردیا تھا۔ بھارتی اخبار کے مطابق بھارت کی مرکزی حکومت نے سشانت سنگھ راجپوت کی خودکشی کی تفتیش کے لیے سی بی آئی کو اجازت دینے کا نوٹی فکیشن 5 اگست کو جاری کیا۔ سی بی آئی نے مرکزی حکومت کی جانب سے اجازت ملنے کے بعد 6 اگست کو تفتیش شروع کی—فائل فوٹو: انسٹاگرام
نوٹی فکیشن جاری ہونے کے بعد سی بی آئی نے تفتیش کے لیے خصوصی ٹیم کی تشکیل دے دی، جس نے تحقیقات شروع کردیں۔ سی بی آئی نے آئی پی ایس افسر منوج ششیدھر کی سربراہی میں تفتیش کے لیے خصوصی ٹیم تشکیل دی ہے اور جس ٹیم کو اداکار کی خودکشی کی تفتیش کا کام سونپا گیا ہے وہ پہلے ہی ملک کا ہائی پروفائیل کرپشن کیس تفتیش کر رہی تھی۔
علاوہ ازیں رپورٹ میں بتایا کہ سی بی آئی کی ٹیم نے 5 اگست کے بعد سشانت سنگھ کی خودکشی کی تفتیش شروع کردی اور جلد ہی خفیہ ایجنسی اپنی ویب سائٹ پر کیس کے حوالے سے تفصیلات شیئر کرنا شروع کردے گی۔ سی بی آئی نے 6 اگست کو سشانت سنگھ کی خودکشی کی تفتیش کا باقائدہ آغاز کرتے ہوئے اداکارہ ریا چکربورتی کے خلاف فرسٹ انفارمیشن رپورٹ (ایف آئی آر) بھی درج کردی۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ سی بی آئی نے سشانت سنگھ کی خودکشی کی ایف آئی آر پٹنہ میں دائر کی گئی اداکار کے والد کی ایف آئی آر کے تحت درج کی۔ سی بی آئی کی جانب سے سشانت سنگھ کے والد کی جانب سے پٹنہ میں دائر کروائی گئی ایف آئی آر کو بنیاد بنا کر تفتیش کا آغاز کردیا گیا ہے اور جلد ہی خفیہ ایجنسی اہم شخصیات کو بیانات ریکارڈ کروانے کے لیے سمن بھی جاری کرے گی۔ سی بی آئی ٹیم جائے وقوع کا دورہ کرنے سمیت اداکار کے اکاؤنٹ کی معلومات، پوسٹ مارٹم رپورٹس اور اداکار کے استعمال میں رہنے والی ڈائریز اور دیگر اشیا کا فورینزک جائزہ بھی لے گی۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ سشانت سنگھ کے والد اس وقت ریاست ہریانہ گئے ہوئے ہیں اور جلد ہی سی بی آئی ٹیم ان سمیت ان کی ایک بیٹی کا بیان بھی ریکارڈ کرکے تفتیش کو آگے بڑھائے گی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button