سی پیک منصوبہ: پاکستانی لیبرکرونا کے خطرے سے دوچار

خبیر پختونخواہ کے ضلع مانسہرہ کی وادی کاغان میں چائنا پاکستان اقتصادی راہداری یا سی پیک کے ذیلی پن بجلی منصوبے ‘سکی کناری’ پر کام کرنے والے ہزاروں مزدور کرونا وائرس کے پھیلاؤ کے خطرے کے باوجود اپنے چینی سپروائزرز کی نگرانی میں اکھٹے ہو کر کام کر رہے ہیں، اکٹھے کھانا کھا رہے ہیں اور احتیاطی تدابیر اپنائے بغیر مختلف ٹنلز میں کام کر رہے ہیں جس سے ان کے کرونا وائرس میں مبتلا ہونے کے امکانات بڑھتے جا رہے ہیں۔
مقامی ذرائع کے مطابق وادی کاغان میں سی پیک سے جڑے بجلی کے بڑے منصوبے ‘سکی کناری’ پر کام کرنے والے 2 ہزار کے قریب مزدورں میں کرونا وائرس پھیلنے کا شدید خدشہ ہے۔ 60 کلومیٹر طویل ٹنل کے 9 مختلف حصوں پر کام کرنے والے سینکڑوں مزدوروں کو سماجی دوری کا اصول پس پشت ڈالتے ہوئے کھانا دیا جارہا ہے۔ میس میں ایک ایک میز پر کئی کئی مزدور اور ڈرائیورز اکھٹے کھانا کھا رہے ہیں، چنانچہ چند روز پہلے ‘سکی کنارے’ منصوبے کے ناران کیمپ میں مزدوروں نے طبی احتیاطی سہولیات کے فقدان کے خلاف ٹنل کے باہر اجتجاج بھی کیا۔ مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ ملک کے مختلف حصوں سے روزانہ سیکڑوں ٹرک، ڈمپرز، آئل ٹینکرز اور گیس باؤزر 850 میگا وواٹ کے اس منصوبے کے لیے میٹیریل لے کر آتے ہیں، تاہم ان کے ڈرائیورز کی کوئی باقاعدہ اسکریننگ نہیں ہو رہی۔ ذرائع کے مطابق منصوبے پر کام کرنے والے درجنوں مزدوروں کو بیمار ہونے کے بعد بغیر ٹیسٹ کیے ان کے گھروں کو بھی بھیج دیا گیا ہے جس سے وائرس پھیلنے کا خطرہ پیدا ہوگیا ہے۔
یاد رہے کہ اس سے پہلے پاکستانی حکام نے اس خدشے کا اظہار کیا تھا کہ گوادر میں سی پیک منصوبے پر کام کرنے والے پندرہ ہزار سے زائد چینی باشندے سال نو کی چھٹیاں منانے کے بعد پاکستان واپسی پر اپنے ساتھ کرونا وائرس بھی لاسکتے ہیں جو ملک میں بڑی تباہی مچا سکتا ہے لہذا اس خطرے سے نبٹنے کے لئے ابھی سے پلاننگ کی جائے۔
ذرائع کے مطابق چین میں پھیلنے والے مہلک کورونا وائرس کے باعث سی پیک منصوبے پر کام کرنے والے چینی کارکنوں کی پاکستان واپسی نے کئی سوالات کھڑے کردئیے ہیں۔ حفاظتی اقدام کے طور پر چینی ورکرز کی واپسی میں تاخیر کرنے کی تجویز دی گئی تھی لیکن پھر یہ فیصلہ کیا گیا کہ سی پیک منصوبوں پر کرونا وائرس کے اثرات و مضمرات کے حوالے سے رسک لینا ہی ہوگا کیونکہ یہ منصوبہ اور چینی ورکرز لازم و ملزوم ہیں۔ یاد رہے کہ سی پیک منصوبے کی تمام تر ڈیزائینگ اور انجینئرنگ کا تمام تر کام چینی ماہرین کے ذمے ہے جن کے بغیر یہ منصوبہ آگے نہیں بڑھ سکتا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button