شادی کے بغیر عمران سے حاملہ ہونے والی لڑکی اب کہاں ہے؟

بلوچستان سے تعلق رکھنے ماضی کی مقبول اداکارہ اور ماڈل حاجرہ خان پانےزئی نے الزام عائد کیا ہے کہ سابق وزیر اعظم اور تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان جھوٹے اور مکار انسان ہیں ، وہ کوکین کا نشہ کرتے رہے جبکہ ان کیساتھ جنسی تعلق کے نتیجے میں 21 سالہ لڑکی کے حاملہ ہونے کی خبر 200 فیصد درست ہے. وہ خاتون اب ملک سے باہر ہے . اپنی کتاب ’ویئر دی اوپیم گروز (Where the opium grows) یعنی جہاں افیم پیدا ہوتی ہے کی تقریب رونمائی کے موقع پر اپنے خطاب میں انہوں نے کہا کہ میں اپنی کتاب میں لکھے ایک ایک لفظ پر قائم ہوں چھ سال کی عمر میں میرا جنسی استحصال ہوا اور یہ کتاب میری زندگی کی جدوجہد کے بارے میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ 2014 میں ہی محسوس کر لیا تھا کہ عوام جس شخص یعنی عمران خان کو پریشر گروپ ، مسیحا یا ہیرو کی نظر سے دیکھتے ہیں اس کی نجی زندگی بہت مختلف تھی وہ کوکین بھی استعمال کرتے تھے ۔میں نے اپنی کتاب میں اپنی ہی کمزوریوں اور بیوقوفیوں کا احتساب کیا ہے۔ چیئرمین پی ٹی آئی کیساتھ میری دوستی تھی اور میری وجہ سے میرے والد پی ٹی آئی کا حصہ بنے، میں نے تحریک انصاف کیلئے دوستوں سے جھگڑے کئے لیکن آج وہ سب سوچ کر بہت افسوس ہوتا ہے۔عمران خان ایک جھوٹا اور مکار شخص ہے۔ یہ کتاب 2014 میں لکھی تھی اور سب سے پہلے اس کا مسودہ عمران خان کو بھجوایا ، ہاجرہ نے کہا کہ مجھے ڈر تب لگتا جب جھوٹ بولتی ، لیکن تب یہ کتاب چھپنے نہیں دی گئی، دھمکیوں کی وجہ سے کتاب پہلے شائع نہیں کی۔ اب بھی بڑی جدوجہد کے بعد یہ کتاب چھپی ہے۔ مجھے پاکستان سے باہر جانا پڑا،لندن میں یہ کتاب چھپنے کیلئے پبلشر کو دی لیکن اس نے یہ کہہ کر انکار کر دیا کہ اس میں بہت سارے الزامات ہیں جن کو ثابت کرنا مشکل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس کتاب میں جو بھی لکھا ہے ان کے پاس پورے ثبوت موجود ہیں۔ ان سے سوال کیا گیا کہ 21 سالہ خاتون کے حوالے سے ایک ٹویٹ آئی تھی کہ عمران خان باپ بننے والا ہے۔ اس کے جواب میں ہاجرہ خان پانیزئی نے کہا کہ یہ ٹویٹ سچی کہانی اور 200 فیصد درست ہے، وہ خاتون ملک سے باہر ہے اور میں اسے جانتی ہوں لیکن اس کی شناخت ظاہر کرنے کا حق نہیں رکھتی۔ تقریب میں عرفان احمد عرفی اور پروفیسر ڈاکٹر فریال نے بھی خطاب کیا اور ہاجرہ پانیزئی کی کاوش کوسراہا۔

دریں اثنا حاجرہ خان نے ’ہم ٹی وی‘ کے مارننگ شو میں بات کرتے ہوئے اپنے کیریئر اور کتاب سے متعلق کھل کر بات کی اور بتایا کہ انہوں نے مذکورہ کتاب ابتدائی طور پر 2014 میں لکھی تھی لیکن اس وقت وہ کتاب مختصر تھی اور اسے شائع نہیں کیا گیا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ اس وقت کچھ قانونی مسائل کی وجہ سے انہوں نے بہت سارے مواد کو کتاب کا حصہ نہیں بنایا تھا لیکن اب انہوں مذکورہ کتاب میں مزید معلومات اور مواد شائع کرکے اس کی اشاعت کی ہے۔ حاجرہ خان پانیزئی کا کہنا تھا کہ انہوں نے 2014 میں ہی شوبز کو خیرباد کہہ کر برطانیہ کا رخ کرلیا تھا، جہاں انہوں نے اپنی بچت اور والد کی جانب سے دی گئی کچھ رقم سے کتاب اشاعتی ادارے کو دی تھی۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ ان کی پیدائش بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں پشتون خاندان میں ہوئی، انہوں نے ابتدائی تعلیم وہیں حاصل کیں لیکن اداکاری کے بعد وہ سندھ کے دارالحکومت کراچی منتقل ہوگئیں۔انہوں نے بتایا کہ انہیں سب سے زیادہ شہرت 2010 اور 2011 کے ڈرامے ’بری عورت‘ سے ملی اور انہوں نے اس سے قبل بھی کچھ ڈرامے کر رکھے تھے۔ حاجرہ خان پانیزئی کے مطابق کچھ ہی عرصے بعد کراچی میں ایک اداکارہ کی سالگرہ کی تقریب پر ان کی ملاقات عمران خان سے ہوئی، جس کے بعد انہوں نے ان سے مسلسل رابطہ کرکے ان کے ساتھ تعلقات استوار کیے۔ اداکارہ نے بتایا کہ ان کے خاندان میں پہلے ہی عمران خان کو آئیڈیل کے طور پر دیکھا جاتا تھا، ان کی خالائیں اور دیگر گھر کی خواتین کمروں میں عمران خان کے پوسٹرز لگاتی تھیں، جنہیں دیکھ کر وہ بڑی ہوئیں۔ انہوں نے خود بھی عمران خان کے فلاحی منصوبے کے لیے امداد جمع کرنے کے کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ حاجرہ خان پانیزئی کا کہنا تھا کہ انہوں نے عمران خان کو منفرد شخص کے طور پر پایا، وہ حقیقی زندگی میں ایسے نہیں ہیں، جیسے وہ ٹی وی، اخبارات یا میڈیا میں دکھائی دیتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ان کے اور عمران خان کے درمیان متعدد سال تک کئی ملاقاتیں ہوئیں اور انہوں نے انہیں ایک مشکل شخصیت کے طور پر منفرد پایا، وہ حقیقی زندگی میں بالکل مختلف ہیں۔

Back to top button